شام میں 11 ہزار بچے مارے گئے: آکسفرڈ ریسرچ گروپ

Image caption رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ جنگجوؤں کو تربیت دی جائے کہ عام شہریوں کو نشانہ نہ بنائیں

برطانوی تھنک ٹینک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں تین سال سے جاری خانہ جنگی میں 11 ہزار سے زیادہ بچے ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے سینکڑوں کو نشانہ بازوں نے دور مار بندوقوں سے ہلاک کیا گیاہے۔

لندن میں واقع آکسفرڈ ریسرچ گروپ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو نہ صرف قتل کیا گیا بلکہ ان کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قتل کیے جانے والے اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے والوں میں ایک سالہ بچے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق زیادہ تر بچوں کی موت بموں یا شیلنگ میں ہوئی ہے۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ جنگجوؤں کو تربیت دی جائے کہ عام شہریوں کو نشانہ نہ بنائیں۔

آکسفرڈ ریسرچ گروپ کی رپورٹ میں مارچ 2011، جب شام میں مسلح تصادم کا آغاز ہوا، سے لے کر اگست 2013 تک کے اعداد و شمار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس دوران کُل 11420 بچے ہلاک ہوئے ہیں جن کی عمریں 17 سال یا اس سے کم تھیں۔ ان میں سے 389 کو سنائپر کے فائر سے ہلاک کیا گیا۔

ان میں سے تقریباً 764 کو فوری موت کا حکم نامہ سنایا گیا اور ایک سو کے قریب بچوں کو جن میں کمسن بچے بھی شامل تھے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک اور دو سال کی عمر کے درمیان بچوں میں زیادہ اموات لڑکوں کی ہوئی ہیں۔

آکسفرڈ ریسرچ گروپ کے مطابق 13 سے 17 سال کے درمیان عمر کے بچے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کی سب سے زیادہ اموات حلب میں ہوئی ہیں جہاں 2223 بچے ہلاک ہوئے۔

رپورٹ کی شریک مصنفہ ہانا سلمہ کا کہنا ہے کہ جس طرح سے بچوں کو ہلاک کیا گیا ہے وہ پریشان کن ہے: ’ان کی موت گھروں میں ہوئی، اور روز مرہ کے کاموں میں جیسے کہ روٹی کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے یا سکولوں میں۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار نامکمل ہیں کیونکہ بہت سے ایسے علاقے تھے جہاں رسائی ممکن نہ تھی: ’اس رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کو حتمی نہ تصور کیا جائے۔‘

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں 2011 میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف بغاوت کے آغاز کے بعد سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ 22 لاکھ شامیوں نے اس دوران ہمسایہ ممالک میں پناہ لی ہے جبکہ ساڑھے 42 لاکھ شامی ملک کے اندر ہی نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں