’جنیوا مذاکرات شام کے حل کے لیے بہترین موقع‘

Image caption تاہم تمام باغی گروہوں کا ایک مطالبہ یکساں ہے اور وہ یہ ہے کہ صدر بشار الاسد اپنا عہدہ چھوڑ دیں

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ آئندہ سال جنوری میں شام کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات ملک میں عبوری حکومت بنانے کا ’بہترین موقع‘ ہوگا۔

جان کیری کے اس بیان سے قبل ہی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اعلان کیا تھا کہ شامی حکومت اور باغی فورسز 22 جنوری کو جنیوا میں ملاقات کریں گے۔

گذشتہ کئی ماہ سے امریکہ، اقوام متحدہ اور روس فریقین کو کسی سیاسی حل پر رضا مند کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

تاہم جنیوا میں مذاکرات میں کس کو شرکت کی اجازت ہوگی، اس سوال پر تنازع بہت عرصے سے جاری ہے۔ شامی باغی گروہ بھی اس معاملے میں منقسم ہیں۔ مگر تمام باغی گروہوں کا ایک مطالبہ یکساں ہے اور وہ یہ ہے کہ صدر بشار الاسد اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔

ادھر شامی حکومت کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا غیر مشروط ہونا لازمی ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق 2011 میں صدر بشار الاسد کے خلاف شام میں بغاوت کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں کو ملک چھوڑنا پڑا ہے۔

پیر کے روز امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے ایک بیان میں کہا کہ جنیوا مذاکرات کی مدد سے شام کا تنازع حل کیا جا سکتا ہے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا: ’ہم بخوبی واقف ہیں کہ شام میں سیاسی حل تک پہنچنے میں کئی رکاوٹیں ہیں اور ہم تمام پہلوؤں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جنیوا جائیں گے۔‘

Image caption جنیوا کانفرنس پرامن منتقلی کا ایک ایسا موقع جس کے بعد شامی عوام کے آزادی اور وقار کی تمام قانونی خواہشات پوری ہو سکیں۔ بان کی مون

جان کیری کا مزید کہنا تھا کہ ہم اقوام متحدہ اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر معاملات پر کام جاری رکھیں گے جن میں یہ بھی شامل ہے کہ کن ممالک کو شرکت کی دعوت دی جائے اور ان مذاکرات کا ایجنڈا کیا ہوگا۔

بان کی مون نے شامی حکومت اور ان کے مخالف گروہوں کی شرکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جنیوا کانفرنس پرامن منتقلی کا ایک ایسا موقع جس کے بعد شامی عوام کے آزادی اور وقار کی تمام قانونی خواہشات پوری ہو سکیں۔‘

بان کی مون نے توقع ظاہر کی کہ دونوں فریق یہ بات سمجھ کر آئیں گے کہ اس ملاقات کا مقصد جون 2012 میں اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ شام کے لیے ایک ایکشن گروپ کے اجلاس کی منظور کردہ قرارداد پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔

اس قرارداد میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

بان کی مون کے بیان سے یہ واضح نہیں تھا کہ کیا جنیوا کے مذاکرات میں ایران کو شرکت کی دعوت دی جائے گی یا نہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’تمام علاقائی اور عالمی ساتھیوں سے کہا جائے گا کہ وہ تعمیری مذاکرات کے لیے معنی خیز حمایت فراہم کریں۔‘

شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی

شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے نے کہا تھا کہ اسے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو سنہ 2014 کے وسط تک تلف کرنے کے تفصیلی منصوبے سے اتفاق ہے۔

آرگنائزیشن آف پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز (او پی سی ڈبلیو) کو شامی کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے حتمی نظام الاوقات پر اتفاق کرنے کے لیے گذشتہ جمعے تک کی ڈیڈ لائن یا مہلت دی گئی تھی۔

شامی ہتھیاروں کی تلفی کے بارے میں امریکہ اور روس کے معاہدے کے تحت جسے اقوام متحدہ کی بھی حمایت حاصل ہے، یہ ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔

البانیا نے اپنی سرزمین پر شامی ہتھیاروں کو تلف کرنے کی اجازت نہیں دی لیکن اس کے باوجود او پی سی ڈبلیو نے اس منصوبے کواپنا لیا۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ شامی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے کہاں لے جایا جائے گا۔

شام میں بچے نشانے پر

برطانوی تھنک ٹینک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں تین سال سے جاری خانہ جنگی میں 11 ہزار سے زیادہ بچے ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے سینکڑوں کو نشانہ بازوں نے دور مار بندوقوں سے ہلاک کیا گیاہے۔

لندن میں واقع آکسفرڈ ریسرچ گروپ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو نہ صرف قتل کیا گیا بلکہ ان کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قتل کیے جانے والے اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے والوں میں ایک سالہ بچے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق زیادہ تر بچوں کی موت بموں یا شیلنگ میں ہوئی ہے۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ جنگجوؤں کو تربیت دی جائے کہ عام شہریوں کو نشانہ نہ بنائیں۔

اسی بارے میں