جوہری معاہدے سے مشرق وسطیٰ زیادہ محفوظ ہو گیا ہے: جان کیری

Image caption اسرائیلی وزیر اعظم نے اس معاہدے کو تاریخی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس معاہدے کا پابند نہیں ہے

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام پر ابتدائی معاہدے پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ زیادہ محفوظ ہو جائیں گے۔

تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نے اس معاہدے کو تاریخی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس معاہدے کا پابند نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’دنیا کی سب سے خطرناک قوم دنیا کے سب سے خطرناک ہتھیار کے حصول کی جانب اہم قدم اٹھانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔‘

انہوں نے واضح کیا کے اسرائیل اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم سےفون پر بات کی ہے۔

کیا ایران کی شبیہ تبدیل ہو گی: آڈیو

ایران سے معاہدے پر اسرائیل ناراض: آڈیو

معاہدے سے ایران کی کتنی بڑی کامیابی؟: آڈیو

ایران کے خلاف مزید پابندیاں نہ لگائیں: اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے معاہدے کو پہلا اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دنیا مزید محفوظ ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا اس میں ’ٹھوس حدود شامل ہیں جو کہ ایران کو جوہری ہتھیار کی تیاری سے باز رکھیں گی۔‘

امریکی ٹی وی چینل اے بی سی سے بات کرتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں کا ایک ہی مقصد ہے اور ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کے حوالے سے یہ معاہدہ پہلا قدم ہے۔

’اس معاہدے کے باعث مزید مذاکرات ہوں گے اور ہم مزید سخت شرائط رکھیں گے تاکہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار نہ کر سکے اور اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بنے۔ اور اسرائیل زیادہ محفوظ ہو گا۔‘

امریکی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ کانگریس اس معاہدے کے فوائد کو دیکھے گی اور ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے سے گریز کرے گی۔

واضح رہے کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کے بعد ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر سنیچر کو معاہدہ طے پایا تھا۔

اس معاہدے کے تحت جہاں ایران اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرے گا وہیں اس کے بدلے میں اسے پابندیوں میں نرمی کی بدولت تقریباً سات ارب ڈالر بھی حاصل ہو سکیں گے۔

یہ معاہدہ جنیوا میں پانچ روزہ بات چیت کے نتیجے میں طے پایا ہے اور یورپی یونین کی اعلیٰ عہدیدار کیتھرین ایشن کا کہنا ہے کہ یہ جامع حل کی جانب ’پہلا قدم‘ ہے۔

معاہدہ طے پانے کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی نے ایران میں ٹیلی وژن پر اپنے خطاب میں اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا حق ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کا منصوبہ جاری رکھے۔

انہوں نے کہا ’اِس کی جیسے بھی تشریح کی جائے لیکن اِس معاہدے میں یہ واضح طور پر طے کیا گیا ہے کہ ایران اپنا افزودگی کا پروگرام جاری رکھے گا۔ اور اِس مقصد کے لیے میں ایرانی قوم کے سامنے یہ اعلان کرتا ہوں کہ ایران کی یورینیم کی افزودگی ماضی کی طرح جاری رہے گی۔‘

ایرانی صدر نے ایک بار بار پھر دہرایا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

ایرانی کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ یہ عبوری معاہدہ مستقبل میں مزید بہتری کے لیے حالات ساز گار کرے گا۔

اسی بارے میں