’فری سیرئین آرمی امن مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گی‘

Image caption جنیوا مذاکرات کے لیے ماحول سازگار نہیں: جنرل سلیم ادریس

شام میں مغرب کی حمایت یافتہ حکومت مخالف باغیوں کی تنظیم ’فری سیرئین آرمی‘ کے رہنما کا کہنا ہے کہ ان کے حامی باغی گروہ جنیوا میں منعقد ہونے والی امن کانفرس میں شرکت نہیں کرے گا۔

ایک دن پہلے پیر کو ہی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اعلان کیا تھا کہ شامی حکومت اور باغی فورسز 22 جنوری کو جنیوا میں ملاقات کریں گے۔

’دو سال میں 6000 خواتین کا ریپ‘

’جنیوا مذاکرات شام کے حل کے لیے بہترین موقع‘

فری سیرئین آرمی کی سپریم ملٹری کونسل کے سربراہ جنرل سلیم ادریس نے بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت گرانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ صدر بشارالاسد مذاکرات کی آڑ میں مہلت حاصل کریں گے تاکہ جنگ کو طول دے سکیں۔

شام کے قریبی اتحادی ایران نے اعلان کیا ہے کہ اگر اسے دعوت دی گی تو وہ مذاکرات میں شرکت کرے گا۔

جنرل سلیم ادریس کے مطابق’جنیوا میں مذاکرات کی تاریخ کے حوالے سے حالات سازگار نہیں ہے، فوجی اور انقلابی فورسز ان مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گی‘۔

’ہم جنیوا کانفرس کے دوران اور اس کے بعد بھی اپنی جنگی کارروائیاں جاری رکھیں گے اور ہمیں تشویش اس بات کی ہے کہ ہمارے جنگجوؤں کو اسلحے کی ضرورت ہے۔‘

جنرل ادریس کے بقول حزب اختلاف کے کسی بھی وفد میں’شام کے اندر کی بااثر اور اہم شخصت‘ کو شامل ہونا چاہیے اور کئی شرائط کو پورا کر کے کوئی معاہدہ ہونا چاہیے۔‘

باغیوں کے کئی گروہ جنرل ادریس اور سپریم ملڑی کونسل سے کسی حد تک منسلک ہیں لیکن جنرل ادریس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا انتظامی کنٹرول بہت کم ہے۔

پیر کو امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ آئندہ سال جنوری میں شام کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات ملک میں عبوری حکومت بنانے کا ’بہترین موقع‘ ہوگا۔

تاہم جنیوا میں مذاکرات میں کس کو شرکت کی اجازت ہوگی، اس سوال پر تنازع بہت عرصے سے جاری ہے۔ شامی باغی گروہ بھی اس معاملے میں منقسم ہیں۔ مگر تمام باغی گروہوں کا ایک مطالبہ یکساں ہے اور وہ یہ ہے کہ صدر بشار الاسد اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔

Image caption جنیوا مذاکرات کے دوران جنگی کارروائیاں جاری رکھیں گے: جنرل سلیم ادریس

شامی حکومت کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا غیر مشروط ہونا لازمی ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق 2011 میں صدر بشار الاسد کے خلاف شام میں بغاوت کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں کو ملک چھوڑنا پڑا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے شامی حکومت اور ان کے مخالف گروہوں کی شرکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جنیوا کانفرنس پرامن منتقلی کا ایک ایسا موقع ہے جس سے شامی عوام کے آزادی اور وقار کی تمام قانونی خواہشات پوری ہو سکیں۔‘

بان کی مون نے توقع ظاہر کی کہ دونوں فریق یہ بات سمجھ کر آئیں گے کہ اس ملاقات کا مقصد جون 2012 میں اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ شام کے لیے ایک ایکشن گروپ کے اجلاس کی منظور کردہ قرارداد پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔اس قرارداد میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں