تارکینِ وطن کے لیے مراعات لینے کے قوانین سخت کیے جائیں گے: ڈیوڈ کیمرون

Image caption ڈیوڈ کیمرون نے یورپی یونین کے اندر لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے اصول پر بھی سوال اٹھایا

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ’مراعات کے لیے سیاحت‘ کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین سے برطانیہ میں ہجرت کرنے والوں کو قومی خزانے سے غیر معینہ مدت کے لیے مراعات نہیں ملیں گی۔

فائنینشل ٹائمز کے ساتھ انٹرویو میں برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ سنہ 2004 میں جب پولینڈ اور نو دیگر ممالک نے یورپی یونین میں شمولیت اختیار کی تو لیبر پارٹی کی گذشتہ حکومت نے برطانیہ میں کام کرنے پر حد نہ لگا کر ’یادگار غلطی‘ کی جس کی وجہ سے برطانیہ میں توقع سے زیادہ لوگ ہحرت کر رہے ہیں۔

نئے اقدامات کے تحت بے روزگاری الاؤنس کے لیے اہلیت کو سخت کیا جائے گا اور رہائشی سکیموں تک رسائی کم کی جائے گی۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ لوگ بلغاریہ اور رومانیہ سے ہجرت کرنے والوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے ’شدید خدشات کا شکار‘ ہیں۔

انھوں نے یورپی یونین کے اندر لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے اصول پر بھی سوال اٹھایا۔

انھوں نے عندیہ دیا کہ 2015 کے بعد ان کی سیاسی جماعت کی حکومت یورپی یونین کے موجودہ اور مستقبل میں بننے والے ممبر ممالک سے برطانیہ میں ہجرت کرنے والوں کی تعداد کو کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تبدیلیوں پر زور دے گی۔

بلغاریہ اور رومانیہ نے سنہ 2007 میں یورپی یونین میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد برطانیہ کے ساتھ ایک عبوری کنٹرول معاہدہ کیا تھا جس کے تحت ان دونوں ممالک سے کارکنوں کی برطانیہ میں کام کرنے پر ایک حد مقرر تھی۔ یہ معاہدہ سال کے آخر میں ختم ہو رہا ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے مشرقی یورپ سے تارکینِ وطن کے معاملے سے نمٹنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا:

  • نئے تارکینِ وطن کو پہلے تین مہینوں تک بے روزگاری الاؤنس نہیں ملے گا۔
  • تارکینِ وطن کو چھ مہینے بعد بے روزگاری الاؤنس کا اجرا بند کیا جائے گا لیکن صرف اس صورت میں الاؤنس جاری رہے گا جب اس شخص کو نوکری ملنے کے امکانات ہوں۔
  • رہائشی سکیموں کے لیے اہلیت کے معیار کو سخت کیا جائے گا۔
  • آمدن پر خاص حد متعارف کرائی جائے گی۔
  • نئے آنے والوں کو رہائش کی مد میں ملنے والی مراعات فوراً نہیں دی جائے گی۔
  • جو افراد کام تلاش نہیں کریں گے انھیں بے دخل کیا جائے گا اور انھیں 12 مہینے تک واپس آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
  • جو مالک ملازموں کو معیار کے مطابق تنخواہ نہیں دیتے ان پر جرمانے کی حد چار گنا بڑھا دی جائے گی۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے اخبار کو بتایا کہ’ہم قوانین تبدیل کر رہے ہیں تاکہ کوئی بھی اس ملک میں نہ آ سکے اور نہ کوئی فوراً بے روزگاری الاؤنس کی توقع کرے۔‘

اسی بارے میں