بھیڑیوں کا دوست

جنگلی جانوروں کے ساتھ انسانوں کے زندگی گزارنے کے فسانے آپ نے ضرور سنے ہوں گے، لیکن یہ کہانیاں اکثر غیر حقیقی ہوا کرتی ہیں۔

اگر کوئی شخص اپنی زندگی کا طویل عرصہ جنگلی جانوروں کے ساتھ گزارنے کے بعد دوبارہ انسانی معاشرے میں رہنا شروع کرے تو آپ اسے کیا کہیں گے؟

بہت احتیاط سے دیکھنے کے بعد مارکوس نے اپنے ہاتھ اس پیالے میں ڈال دیے۔ پھر کیا تھا، ہاتھوں کے گرم سوپ کے رابطے میں آتے ہی مارکوس اچھل پڑے۔ پیالہ زمین پر گرا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔

یہ سال 1965 کی بات ہے جب مارکوس 19 سال کے تھے لیکن اس سے قبل وہ کھانا کھانے کے لیے کبھی کسی میز پر نہیں بیٹھے تھے۔

اس کا سبب یہ تھا کہ مارکوس نے اپنی عمر کے 12 سال پہاڑوں میں تنہا بسر کیے تھے جہاں وہ بھیڑیوں، بکریوں، سانپوں اور دوسرے جنگلی جانوروں کے ساتھ رہا کرتے تھے۔

مارکوس کو یاد ہے جب وہ بہت چھوٹے تھے، تقریباً چھ یا سات سال کے تو ان کے والد نے انہیں ایک کسان کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا۔

وہ کسان انہیں ایک بوڑھے چرواہے کی مدد کے لیے سیئیرا مورینا کے پہاڑوں میں لے گیا تھا۔ جلد ہی اس بوڑھے شخص کی موت ہو گئی اور مارکوس تنہا رہ گئے۔

کئی برسوں تک اپنی سوتیلی ماں سے پٹنے کے خوف سے مارکوس نے بھی انسانوں کے ساتھ رہنے کے بجائے پہاڑوں میں تنہائی میں رہنے کی ٹھان لی اور وہاں سے جانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

مرنے سے پہلے اس بوڑھے چرواہے نے مارکوس کو ایک بات ضرور سکھائی تھی کہ کبھی بھی بھوکے نہ رہنا۔

مارکوس لکڑی اور پتیوں کا جال بنا کر خرگوش اور تيتر کا شکار کرنا سیکھ چکے تھے۔

مارکوس کے مطابق ’جانوروں نے مجھے سکھایا کہ کیا کھانا ہے۔ جو کچھ بھی وہ کھاتے تھے میں بھی وہی کھاتا تھا۔ جنگلی سور زمین کے نیچے دبے ہوئے قند کھاتے تھے۔ سور ان کا سونگھ کر پتہ لگاتے تھے۔ جب سور قند کے لیے زمین کھودتے تو میں انہیں پتھر مار کر بھگا دیتا اور قند چرا لیتا تھا۔‘

مارکوس کا کہنا ہے کہ بہت سے جانوروں کے ساتھ ان کا مخصوص قسم کا رشتہ بن گیا تھا۔

یہاں تک کی بھیڑیوں کے ایک گروہ کے ساتھ ان کے تعلقات کی بات پر بہت سے لوگوں کو یقین نہیں آتا۔

انھوں نے کہا ’ایک دن میں ایک غار میں گیا۔ میں وہاں رہنے والے بھیڑیوں کے بچوں کے ساتھ کھیلنے لگا اور سو گیا۔ کچھ دیر میں بچوں کی ماں ان کے لیے کھانا لے کر آئی اور میں جاگ اٹھا۔ وہ میری جانب غصے کے ساتھ دیکھنے لگی۔ بھیڑیے نے گوشت کے ٹکڑے الگ کرنے شروع کیے۔ بھیڑیے کا ایک بچہ میرے قریب آیا، بھوک کی وجہ سے میں نے اس سے گوشت کا ٹکڑا چرانے کی کوشش کی۔ بھیڑیے نے تب میری طرف پنجہ اٹھایا اور میں پیچھے ہٹ گیا۔ اپنے بچوں کو کھلانے کے بعد بھیڑیے نے گوشت کا ایک ٹکڑا میری طرف پھینکا۔‘

’میں اسے چھونا نہیں چاہتا تھا، کیونکہ مجھے لگا کہ وہ مجھ پر حملہ کرنے والی ہے لیکن وہ اپنی ناک سے اس گوشت کے ٹکڑے کو میری طرف کھسکانے لگی۔ میں نے ٹکڑا اٹھایا اور کھانے لگا، مجھے لگا کہ وہ مجھے کاٹنے والی ہے لیکن اس نے اپنی زبان نکالی اور مجھے چاٹنے لگی۔ اس کے بعد سے میں بھی اس بھیڑیے کے خاندان کا ایک حصہ بن چکا تھا۔‘

مارکوس یہ بھی بتاتے ہیں: ’پہاڑوں میں وہ ایک ناگن کے ساتھ رہا کرتے تھے۔ یہ ناگن ایک سنسان کان کے ایک حصے میں موجود ایک غار میں میرے ساتھ رہا کرتی تھی، میں نے اس کے لیے ایک گھونسلا بنایا۔ میں اسے بکری کا دودھ پلایا کرتا تھا۔‘

’میں جہاں بھی جاتا تھا وہ میرے پیچھے پیچھے آ جاتی تھی اور میری حفاظت کرتی تھی۔‘

مارکوس کہتے ہیں ’یہی رشتے تھے جو میری تنہائی دور کرتے تھے، میں اسی وقت تنہائی محسوس کرتا جب کوئی جانور میرے قریب نہیں ہوتے تھے۔ ایسے میں جانوروں کی آواز نکالتا تھا۔ اب بھی میں ہرن، لومڑی اور چیل کی آواز نکال سکتا ہوں اور جب جانور میری آواز کا جواب دیتے تبھی میں سو پاتا تھا۔‘

مارکوس کی زندگی میں رفتہ رفتہ الفاظ کی جگہ آواز اور غراہٹوں نے لینی شروع کر دی تھی۔

اگر سپین کی پولیس نے انہیں ڈھونڈ نکالا نہ ہوتا تو مارکوس کا بولنا مکمل طور پر بند ہو چکا ہوتا۔ پولیس انہیں زبردستی پہاڑوں کے دامن میں آباد چھوٹے سے گاؤں فوئنکالنٹے لے گئی۔ یہاں مارکوس کی شناخت کے لیے ان کے والد کو بلایا گیا۔

مارکوس بتاتے ہیں: ’جب میں نے اپنے والد کو دیکھا تو مجھے کچھ بھی محسوس نہیں ہوا۔ میرے والد نے مجھ سے صرف ایک چیز پوچھی کہ ’تمہاری جیکٹ کہاں ہے؟‘‘

انسانی معاشرے میں واپسی کو مارکوس اپنی زندگی کا سب سے خوفناک لمحہ بتاتے ہیں۔

پہلی بار حجام یا نائی کی دکان میں جانے سے لے کر بستر میں سونے تک سب کچھ ان کے لیے کسی صدمے سے کم نہ تھا۔ نائی کے ہاتھوں میں استرا دیکھ کر انہیں لگا تھا کہ وہ ان کا گلا کاٹ دے گا۔

ان چیزوں کو قبول کرنے میں ان کو طویل وقت لگا۔