شام میں دوہری لڑائی، اسد حکومت کے بعد القاعدہ کا محاذ

Image caption القاعدہ سے منسلک خود ساختہ ریاست ’دولتِ اسلامیہ فی العراق والشام‘ باغیوں کے زیرِ تسلط علاقوں میں طاقتور ہے

مجھے ہتھکڑیاں لگی تھیں، آنکھوں پر پٹی بندھی تھی جب مجھے اُن کے ٹھکانے پر لے جایا گیا۔ مجھے اور میرے ساتھ چھ دوسرے قیدیوں کو دن میں ستّر بار پیٹا جاتا تھا۔ ہم سب پر الزام تھا کہ ہم حکومت کے خلاف آگہی پھیلانے کے لیے ’سہوا‘ کونسلز چلا رہے تھے۔‘

شام میں تشدد کا شکار ہونے والے محمد کی یہ خوفناک داستان اتنی غیر معمولی نہ ہوتی اگر انہیں قید کرنے والی صدر بشارالاسد کی حکومت ہوتی۔

’نئے آمر‘، شام میں القاعدہ کا نیا روپ

یہ تو القاعدہ سے منسلک خود ساختہ ریاست ’دولتِ اسلامیہ فی العراق والشام‘ ہے جو باغیوں کے زیرِ تسلط علاقوں میں طاقتور ہے۔

محمد ایک انجینیئر ہیں اور پچاس کے پیٹھے میں ہیں۔ چار بچوں کے والد محمد نے سنہ 2011 میں بشارالاسد کے خلاف مہم میں شمولیت اختیار کی۔

جب الرقہ نامی صوبے پر باغیوں کا غلبہ ہوا تو انہوں نے ایک مقامی کونسل بنانے کے لیے مدد کی جس کا مقصد حکومت کی عدم موجودگی میں بنیادی خدمات فراہم کرنا تھا۔

لیکن انہیں علم نہیں تھا کہ بہت کم وقت میں ہی ایک آمریت کی جگہ دوسری آ جائے گی۔

نو جولائی 2013 کو ماہِ رمضان کی پہلی تاریخ کو محمد اور کونسل کے چھ دیگر ارکان کو سرحدی قصبے تل ابيض میں حراست میں لیا گیا اور آنکھوں پر پٹی پاندھنے کے بعد ہتھکڑیاں لگا کر انہیں الرقہ منتقل کیا گیا۔ اگلے33 دنوں تک ان پر تشدد کیا جاتا رہا۔

رہائی کے بعد بھی محمد محفوظ نہیں ہیں۔ جلد ہی انہیں اس بات کا احساس ہوا اور وہ نقل مکانی کر گئے۔

اب وہ غزہ کی پٹی میں مقیم ہیں اور اپنی اہلیہ اور بچوں کے لیے محفوظ راستے کےمنتظر ہیں تاکہ وہ شام سے دور ایک نئی زندگی شروع کر سکیں۔

کئی دوسرے مہاجرین کے ساتھ یہاں مقیم محمد اب عداوت سے بھرے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح ان کا انقلاب شدت پسند گروہوں نے چھین لیا جو شامی باشندوں کی نمائندگی بھی نہیں کرتے۔

انہوں نے بہت دھیمی آواز میں بتایا ’یہ زیادہ تر غیر ملکی ہیں جو اپنے نظریات ہم پر مسلط کرنے آئے ہیں۔‘

محمد زیادہ مذہبی رجحان نہیں رکھتے اور وہ سمجھتے ہیں کہ شام کو ایک ’سیکولر ریاست‘ رہنا چاہیے اور مذہب ایک ذاتی مسئلہ ہے۔

ان کا یہ موقف آئی ایس آئی ایس کے لیے انہیں ’کافر‘ قرار دینے کے لیے کافی تھا۔ ایک ایسا منکر جو سزا کا مستحق ہے۔

محمد کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں کے پیچھے جہادی کہلانے والے اس گروہ کے شدت پسند نظریات ہی نہیں ہیں بلکہ وہ بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ مل کر بغاوت کو دبانا چاہتے ہیں۔

محمد نے بتایا ’ارقہ میں انہوں نے گورنر ہاؤس اور بعث پارٹی کی دیگر عمارات پر قبضہ کر لیا لیکن جب شہر پر بمباری ہوئی تو صرف سکولوں، ہسپتالوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور آئی ایس آئی ایس کے زیرِ استعمال کسی عمارت کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔‘

محمد کے بقول آئی ایس آئی ایس کی قیادت شامی اور غیر ملکی ’رہنما‘ کر رہے ہیں۔ جن میں سے گیارہ شامی جنوبی دمشق کی ایک فوجی جیل میں قید تھے۔ انہیں مارچ 2011 میں صدر بشارالاسد کی جانب سے عامی معافی کے تحت رہا کیا گیا تھا۔

محمد کا کہنا ہے کہ ’شامیوں نے ہم پر اسی طرز کا تشدد کیا جو ان پر قید کے دوران کیا گیا۔‘

’لیکن اصل طاقت عراقی اور تیونس سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کے پاس ہیں۔ وہ ہی لوگوں کے سر قلم کر رہے ہیں اور اسلام کا وہ سخت گیر موقف پیش کر رہے ہیں جو شام میں مذہبی لوگوں کو بھی قبول نہیں۔‘

Image caption محمد کے بقول ارقہ شہر پر بمباری ہوئی تو صرف سکولوں، ہسپتالوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا

انہوں نے مزید بتایا ’وہ کبھی نماز نہیں پڑھتے تھے اور نہ روزہ رکھتےتھے۔ لیکن وہ ہم پر ایسا کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے تھے۔ اس پر ان کا دعویٰ تھا کہ وہ ایک اسلامی ریاست چاہتے ہیں۔‘

محمد نے بتایا کے بشارالاسد کے علوی فرقے سے تعلق والے دو بھائیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جن میں سے ایک ہلاک ہو گیا۔

تیل کے ایک تاجر کو اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ اس نے آئی ایس آئی ایس کے ارکان کو رعائتی نرخ پر تیل فروخت کرنے سے انکار کیا۔ انہیں قید کرنے کے بعد چھ دن تک ان پر تشدد کیا جاتا رہا۔

محمد کہتے ہیں ’مجھے ان لوگوں پر یقین ہے جنہوں نے پچاس سالہ آمریت کے خلاف بغاوت کی وہ درآمد کی گئی القاعدہ کے خلاف بھی بغاوت کریں گے جنہیں شام میں پذیرائی نہیں ملی۔‘

اسی بارے میں