تھائی وزیرِاعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام

Image caption مظاہرین حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں

تھائی لینڈ کی وزیرِاعظم کے خلاف پارلیمان میں عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوگئی ہے جب کہ ملک میں حکومت مخالف مظاہرے پانچویں دن بھی جاری ہیں۔

پارلیمان میں عدم اعتماد کی قرارداد حزبِ اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی نے پیش کی تھی لیکن وزیرِاعظم ینگ لک شیناوترا کی فیو تھائی پارٹی کی پارلیمان میں اکثریت کی وجہ سے یہ قرارداد ناکام ہو گئی۔

اس قرارداد کے حق میں 134 ووٹ آئے جبکہ 297 ارکان نے وزیرِاعظم شیناوترا پر اعتماد کا اظہار کیا۔

ان کی حکومت کو سنہ 2010 کے پرتشدد مظاہروں کے بعد ملک میں ہونے والے بڑے مظاہروں کا سامنا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی تھائی لینڈ کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حالات کو بےقابو ہونے سے بچانے پر زور دیا ہے۔

مظاہرے ملک کے دارالحکومت بنکاک میں اتوار کو شروع ہوئے تھے اور مظاہرین حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ احتجاج کرنے والوں نے مخلتف وزارتوں اور دیگر سرکاری دفاتر کی طرف مارچ کیا اور انھیں بند کرنے کی کوشش کی۔

حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے سابق رکنِ پارلیمان ان مظاہرین کی قیادت کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم ینگ لک شیناوترا کو بے دخل کیے گئے سابق رہنما اور ان کے بھائی تاکسین شیناوترا کنٹرول کرتے ہیں۔

Image caption وزیرِاعظم ینگ لک شیناوترا کو پارلیمان میں 297 ووٹ ملے جب کہ ان کی مخالفت میں 134 ووٹ پڑے

ینگ لک شیناوترانے خصوصی اختیارات کے تحت کرفیو اور سڑکوں کو بند کرنے کی اجازت دی ہے جب کہ پولیس نے مظاہرین کے سربراہ کو گرفتار کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے لیکن انھیں ابھی تک حراست میں نہیں لیا گیا۔

بینکاک میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ مظاہرین آگے کیا کریں گے، لیکن وہ ابھی تک چند دن کے لیے سرکاری اداروں کے کام کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جب کہ حکام نے کسی قسم کے تشدد سے بچنے کی خاطر مظاہرین کو روکنے کی کوشش نہیں کی ہے۔

جمعرات کو اس سے پہلے ملک کے وزیرِ تعلیم نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا تھا کہ فیو تھائی پارٹی کو توازن قائم کر کے یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ اسے تھاکسین شیناوترا کنٹرول نہیں کرتے۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’انھیں یہ بات واضح کرنی ہوگی کہ جو بندہ بھی وزیرِاعظم ہوگا وہ آزاد ہوگا اور اپنے فیصلے خود کر سکے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ لازمی نہیں کہ ملک میں بغاوت ہو لیکن کہا کہ ان کا تجربہ بتاتا ہے کہ بغاوت کسی بھی ہو سکتی ہے۔

تھاکسین شیناوترا کو سنہ 2006 میں ایک فوجی بغاوت میں برطرف کیا گیا تھا۔

سنہ 2010 میں تھاکسین کے حامیوں نے بینکاک کے اہم مقامات پر قبضہ کرکے دو مہینوں تک دھرنا دیا جس کے نتیجے میں ہونے تشدد میں 90 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس کے بعد ینگ لک شیناوترا کی فیو تھائی پارٹی انتخابات جیت کر حکومت میں آئی جس کے بعد سے ملک میں زیادہ تر حالات پرامن رہے۔

اسی بارے میں