سعودی عرب: غیر ملکیوں کی ملک بدری پر بحث

غیر قانونی طور پر کام کرنے والے افراد امیگریشن کی قطار میں
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ وہ 60,000 افراد کو ملک بدر کر چکے ہیں

ابو اسامہ الکیتی کو سعودی عرب کے شہر ریاض میں ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کاروبار کے لیے لائسنس فیس اور انشورنس ادا کر دی ہے، وزارت محنت کی تمام شرائط بھی پوری کر دی ہیں لیکن ان کا کاروبار ابھی تک شروع نہیں ہو سکا کیونکہ کام کرنے کے لیے مزدوروں کی کمی ہے۔

ابو اسامہ کہتے ہیں ’میں نے غیر ملکی افراد کے ویزوں کے لیے تین ماہ قبل درخواست دی تھی لیکن ابھی تک انتظار کر رہا ہوں۔ حکومت کا وہی معمول کا جواب ہے کہ آپ کی درخواست پر غور کیا جا رہا ہے۔ ہر گزرتا دن اہم ہے کیونکہ مجھے دکان کا کرایہ دینا پڑ رہا ہے۔‘

سعودی حکام نے ملک میں ملازمت کے نئے قوانین متعارف کروائے جانے کے بعد چار نومبر سے غیر قانونی طور پر کام کرنے والوں کو حراست میں لے کر ملک بدر کرنے کا عمل شروع کر دیا تھا۔

غیر ملکیوں کے خلاف اس کارروائی کے بعد کاروبار کرنے والوں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

گرفتاری یا کسی قسم کی قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے غیر قانونی طور پر کام کرنے والے کئی افراد چھپ گئے تھے یا پھر اپنے وطن واپس چلے گئے جس کی وجہ سے ملک بھر میں درجنوں دکانیں اور ریسٹورانٹ بند پڑے ہیں۔

وزارت محنت کے حکام کے مطابق رہائش اور ملازمت کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے 60,000 غیر ملکیوں کو اب تک ملک بدر کیا جا چکا ہے۔

حکومت کی جانب سے اس مہم کے آغاز پر ریاض کے پسماندہ علاقوں میں مظاہرے ہوئے جن میں اطلاعات کے مطابق کئی افریقی نژاد افراد پولیس کے ساتھ تصادم میں ہلاک ہوگئے۔

مکہ میں چھ ہزار خاکروب امیگریشن حکام کی جانب سے ہراساں کیے جانے اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے پانچ دن کی ہڑتال پر چلے گئے تھے۔

ان افراد نے جن میں زیادہ تر کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے، حکام کی جانب سے اپنے معاہدوں کی تجدید اور انہیں قانونی حیثیت دینے پر ہڑتال ختم کی۔

ابو اسامہ کو ایک مسئلہ یہ بھی درپیش ہے کہ ملک میں قانونی طور پر کام کرنے والے افراد کی اجرت میں بہت اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ ان کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

اپنے ہم وطن سعودی شہریوں کو ملازمت دینے میں چار سے پاچ گنا زیادہ خرچ ہوتا ہے اور ان میں سے زیادہ تر اس قسم کی ملازمت کرنے پر تیار ہی نہیں جنہیں سعودی شہریوں کی ایک بڑی تعداد معمولی سمجھتی ہے جیسا کہ صفائی یا دکان پر کام کرنا۔

ابو اسامہ کہتے ہیں ’انہیں ماہانہ 2,000 ریال قبول نہیں۔ میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ اگر اسے 7,000 ریال دیے جائیں وہ تب بھی یہ ملازمت نہیں کرے گا۔‘

حالیہ برسوں میں غیر ملکی افراد کے خلاف قوانین میں سختی کی گئی ہے جن کی تعداد تقریباً نوے لاکھ بتائی جاتی ہے جوکہ سعودی آبادی کا ایک تہائی حصہ ہے۔

جدہ میں چیمبر آف کامرس کے سیکریٹری جنرل عدنان مندورا نے بی بی سی کو بتایا ’ایک بہت بڑی تعداد جوکہ تقریباً ستّر لاکھ ہے، ملک میں غیر قانونی طور پر کام کر رہی ہے۔‘

Image caption کئی غیر ملکی افرادن نے خکومت کی جانب سے دی ۔یی مہلت ختم ہونے سے پہلے ملک چھوڑ دیا

مندورا ان الزامات سے انکار کرتے ہیں کہ حکومت نے بے صبری سے کام لیا اور غیر محتاط رویہ اختیار کیا۔

’نئے قوانین دسمبر 2012 میں لاگو کیے گئے تھے۔ لیکن لاکھوں محنت کشوں کی ملک بدری کے بعد پیدا ہونے والے بحران کی وجہ سے اس پر عملدرآمد روک دیا گیا تھا۔‘

’شاہ عبداللہ نے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت ملک میں کام کرنے والی تمام نجی کمپنیوں اور کاروباروں کو سات ماہ کی مہلت دی گئی تھی کہ وہ اپنے غیر قانونی ملازمین کے دستاویزات درست کر لیں۔ جولائی میں اس مہلت کے خاتمے کے بعد مزید چار ماہ کا وقت دیا گیا تھا تاکہ یہ افراد خود ملک چھوڑ دیں یا پھر گرفتاری اور ملک بدری کا سامنا کریں۔‘

غیر ملکیوں کے خلاف اس کارروائی کا مقصد سعودی شہریوں کے لیے نوکریوں کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بیروزگاری کی شرح تقریباً 12 فیصد ہے جو کہ حیران کن اس لیے بھی ہے کہ سعودی عرب تیل کی دولت سے مالا مال ہے اور عرب دنیا میں سب سے زیادہ مضبوط معیشت والا ملک تصور کیا جاتا ہے۔

حکومت نے ایسی کمپنیوں پر بھی جرمانے عائد کرنے شروع کیے ہیں جو ایک مخصوص تناسب میں سعودی شہریوں کو نوکریاں نہیں دے رہیں۔ حکومت نے بعض شعبوں میں غیر ملکیوں کو ملازمت دینے پر پابندی عائد کر دی ہے اور غیر ملکی افراد مہیا کرنے والی ایجنسیوں پر بھی چند پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

دوسری عرب ریاستوں نے بھی حالیہ برسوں میں اسی قسم کے سخت قوانین متعارف کروائے ہیں تاکہ غیر ملکی افراد پر انحصار کرنے میں کمی لائی جائے۔

بعض افراد کا کہنا ہے کہ سعودی حکام نے ایک ایسی متوازی مارکیٹ بنانے میں کردار ادا کیا ہے جو کہ قانون کے مطابق نہیں۔

المدینہ اخبار میں کام کرنے والے حسن السوبھی کا کہنا ہے کہ ’غیر ملکیوں کو ملازم رکھنے کا عمل مہنگا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے لیے ویزوں کی تعداد محدود ہے جو کہ بہتر تعلقات رکھنے والی کمپنیاں حاصل کر لیتی ہیں۔ ان تمام عوامل نے چوری چھپے کام کرنے والوں کی ایک دنیا بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ ‘

سوبھی کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کئی عرب ممالک میں استعمال ہونے والے کفالت کے نظام کا شکار بھی ہوئے ہیں۔

’لالچی اور بدعنوان کفیلوں کی جانب سے ایجنٹوں کو ویزا بیچے جانے پر ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ یہ ایجنٹ ان غیر ملکیوں کی تنخواہوں سے ماہانہ ایک مخصوص رقم لیتے ہیں۔ یہ غیر قانونی طور پر لگایا گیا ٹیکس ان کے ویزے کے میعاد ختم ہونے کے بعد بھی اس شرط پر جاری رہتا ہے کہ ایجنٹ حکام کو اطلاع نہیں کریں گے۔‘

موجودہ نظام کفیل کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی وقت بھی غیر ملکی ملازم کے ساتھ معاہدہ منسوخ کر دے اور ان کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے۔

غیر قانونی طور پر کام کرنے والوں کے خلاف کارروائی نے سعودی عرب کی سڑکوں اور سوشل میڈیا پر ایک گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے۔

خالد العمار نے ٹوئٹر پر لکھا ’اس کا ہمارے ملک پر سکیورٹی، معاشی اور اقتصادی لحاظ سے مثبت اثر ہوگا۔ یہ ہمارے ملک کے بیٹوں کے لیے ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ غیر قانونی ملازمین کی جگہ لے لیں۔‘

لیکن انہیں کے ہم وطن ابو عضوض الشامل کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افراد چاہے وہ ہنر مند ہوں یا غیر ہنر مند، کے جانے سے پیدا ہونے والے خلا کو سعودی پر نہیں کر سکیں گے۔

انہوں نے مزید کہا ’حکومت 100,000 افراد کو ملک بدر کرے گی تو ان کی جگہ بیس لاکھ افراد آجائیں گے۔ وہ امیگریشن کے گیٹ سے جاتے ہیں لیکن نئے ملازمین کے گیٹ سے واپس آ جاتے ہیں۔‘

اسی بارے میں