قبل از وقت انتخابات کا امکان نہیں: تھائی وزیراعظم

Image caption یقین نہیں کہ مظاہرین قبل از وقت الیکشن کے اعلان سے مطمئن ہوں گے: تھائی وزیراعظم

تھائی لینڈ میں حکومت مخالف مظاہرے چھٹے دن بھی جاری ہیں تاہم وزیراعظم ینگ لک شیناوترا نے ملک میں قبل از وقت انتخابات کا امکان مسترد کر دیا ہے۔

بی بی سی سے بات چیت میں تھائی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں حالات اتنے پرسکون نہیں کہ انتخابات کروائے جا سکیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ حکومتی وزارتوں کی عمارتوں میں داخل ہونے والے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دیں گی۔

ینگ لگ شینا وترا نے یہ بات ایک ایسے موقع پر کہی ہے جب بنکاک میں سینکڑوں مظاہرین نے فوجی ہیڈکوارٹر میں داخل ہو کر فوج سے اپنا ساتھ دینے کی اپیل کی ہے۔

بی بی سی کے جوناتھن ہیڈ سے جمعہ کو خصوصی بات چیت میں تھائی وزیراعظم نے کہا کہ اگر وہ قبل از وقت انتخابات کا اعلان کر بھی دیتی ہیں تب بھی انہیں یقین نہیں کہ مظاہرین مطمئن ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس ملک سے پیار ہے اور میں اس ملک کے لیے صرف ایک چیز چاہتی ہوں وہ یہ کہ ہمیں جمہوریت کے تحفظ کی ضرورت ہے۔‘

جمعرات کو تھائی وزیرِاعظم نے اپنے خلاف خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد مظاہرے ختم کرنے کی استدعا بھی کی تھی تاہم حزبِ مخالف نے ان کی اپیل مسترد کردی تھی۔اپوزیشن رہنماؤں نے جمعرات کی رات گئے تقریر کرتے ہوئے کہا ’ہم حکومت کو مزید کام نہیں کرنے دیں گے۔‘

جمعہ کو کم از کم ایک ہزار مظاہرین آرمی ہیڈ کوارٹرز کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے جہاں انھوں نے صحن میں ریلی منعقد کرتے ہوئے فوج سے اپنی مہم کے لیے مدد طلب کی جس کے بعد وہ واپس چلے گئے۔

مظاہرے میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جُوناہ فشر کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے ایک لان میں اکھٹے ہو کر رہنماؤں کی تقاریر کو سُنا جہاں ان کے لیے ایک سٹیج بنایا گیا تھا۔

حزب مخالف رہنماؤں نے تھائی لینڈ کی فوج سے مظاہروں کی حمایت میں باہر نکلنے کی استدعا کی۔

مظاہرے میں شامل احتجاج کرنے والے ایک شخص نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا ’ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ فوج کس کا ساتھ دے رہی ہے۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکام محاذ آرائی سے بچنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب تھائی لینڈ کی حکمران جماعت فیو تھائی پارٹی کے ہیڈ کوارٹرز میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

Image caption حزب مخالف رہنماؤں نے تھائی لینڈ کی فوج سے مظاہروں کی حمایت میں باہر نکلنے کی استدعا کی

تھائی لینڈ کے ڈپٹی نیشنل پولیس چیف نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’ہم نے تین سو اہلکاروں پر مشتمل پولیس کی دو کمپنیوں کو فیو تھائی پارٹی کے ہیڈ کوارٹرز پر تعینات کیا ہے۔‘

اس سے پہلے مظاہرین نے گزشتہ ہفتے حکومت کو تنگ کرنے کے لیے سرکاری عمارات پر قبضہ کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں حکومت مخالف مخالف مظاہرے اتوار کو شروع ہوئے تھے اور مظاہرین حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم ینگ لک شیناوترا کو بے دخل کیے گئے سابق رہنما اور ان کے بھائی تاکسین شیناوترا ہی کنٹرول کرتے ہیں۔

تھاکسین شیناوترا کو سنہ 2006 میں ایک فوجی بغاوت میں برطرف کیا گیا تھا۔ سنہ 2010 میں تھاکسین کے حامیوں نے بینکاک کے اہم مقامات پر قبضہ کرکے دو مہینوں تک دھرنا دیا جس کے نتیجے میں ہونے تشدد میں 90 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس کے بعد ینگ لک شیناوترا کی فیو تھائی پارٹی انتخابات جیت کر حکومت میں آئی جس کے بعد سے ملک میں زیادہ تر حالات پرامن رہے۔

اسی بارے میں