برطانیہ: خواتین ہر شعبے میں جنسی تعصب سے متاثر

Image caption رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بارہ سو میں سے تین چوتھائی لرکیوں اور عورتوں کا کہنا ہے کہ جنسی ہراس ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے

برطانیہ کی ایک تنظیم گرلز گائیڈنگ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں جنسی تعصب اتنے وسیع پیمانے پر ہے کہ اس سے زندگی کے ہر شعبے میں لڑکیاں اور عورتیں اس سے متاثر ہو رہی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک عام بات ہے اور لڑکیوں کو بغور دیکھا جاتا ہے اور ان کی صلاحیت پر توجہ نہیں دی جاتی۔

اس رپورٹ کو تیار کرنے کے لیے سات سال سے اکیس سال تک کی 1200 لڑکیوں اور عورتوں کے انٹرویو کیے گئے۔

گرلز گائیڈنگ کی چیف ایگزیکٹو جولی بینٹلے کا کہنا ہے کہ یہ معلومات ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ ’اس حوالے سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ لڑکیوں اور عورتوں کو یہ تو برداشت کرنا ہی ہو گا۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بارہ سو میں سے تین چوتھائی لڑکیوں اور عورتوں کا کہنا ہے کہ جنسی ہراس ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق 87 فیصد وہ خواتین کا جو گیارہ سے اکیس سال کے درمیان ہیں کہنا تھا کہ لوگ ان کے قابلیت کو نہیں بلکہ ان کی خوبصورتی کو دیکھتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھتیس فیصد کا کہنا ہے کہ ان کو خواتین ہونے کے ناطے احساسِ کمتری کا احساس دلایا گیا ہے جبکہ سولہ سے بیس سال کی عمر کی خواتین میں یہ شرح ساٹھ فیصد ہے۔

گرلز گائیڈنگ تنظیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انیس سے اکیس سالہ اسّی فیصد خواتین کا کہنا ہے کہ ان کو جنسی ہراس کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان خواتین کے مطابق جنسی ہراس میں ان پر سیٹیاں بجانا، آوازیں کسنا، جنسی مزاح وغیرہ شامل ہیں۔

تنظیم کی جانب سے انٹرویو کی گئی خواتین کا کہنا ہے کہ معاشرے میں روابط اور سیکس کے حوالے سے خواتین اور مردوں کے بارے میں دوہرے معیار پائے جاتے ہیں۔

تین چوتھائی فیصد خواتین نے کہا کہ سیکس کے تئیں رویہ جو لڑکوں کے لیے قابل قبول ہے وہ لڑکیوں کے حوالے سے ناقابل قبول ہے۔

گرلز گائیڈنگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنسی ہراس کے علاوہ خواتین کا یہ بھی کہنا تھا کہ بچے پیدا کرنے سے ان کا کیریئر متاثر ہو سکتا ہے۔

چھیالیس فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ بچے پیدا ہونے کے بعد ان کا کام متاثر ہو گا۔

گرلز گائیڈنگ کی اٹھارہ سالہ لوسی لورنسن کا کہنا ہے کہ وہ اس رپورٹ کو پڑھ کر پریشان ہو گئی ہیں۔ ’جو ایشوز ہمیں تاریخ کی کتابوں میں پڑھنے چاہیے تھے وہ ہمارے ساتھ ہو رہے ہیں۔ یہ اب تبدیل ہونا چاہیے۔‘

اسی بارے میں