امریکہ کی شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی میں مدد کی پیشکش

Image caption 500 ٹن کیمیائی مادے کی تلفی کے لیے کسی ملک منتقلی کو خطرناک قرار دیا گیا ہے

دنیا میں کیمیائی ہتھیاروں کی نگرانی کرنے والی تنظیم نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے انتہائی مہلک حصوں کو اپنے بحری جہاز کی مدد سے تلف کرنے کی پیشکش کی ہے۔

آرگنائزیشن آف پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز (او پی سی ڈبلیو) کی جانب سے سنیچر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ بحیرۂ روم میں کسی موزوں بندرگاہ کی تلاش میں ہے جہاں سے یہ عمل سرانجام دیا جا سکے۔

بیان کے مطابق امریکہ نے ہتھیاروں کی تلفی کے عمل میں مدد دینے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مکمل آپریشنل مدد اور سب سے زیادہ خطرناک ہتھیاروں کو ناکارہ بنانے کے لیے مالی مدد کی پیشکش کی ہے۔

او پی سی ڈبلیو کے مطابق جمعہ کی ڈیڈ لائن کے خاتمے تک 35 کاروباری اداروں نے 800 ٹن کیمیائی مادوں کی تلفی کے لیے معاہدہ کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے جبکہ اس کے علاوہ 500 ٹن کیمیائی مادے جن میں اعصابی ایجنٹ بھی شامل ہیں، ایسے ہیں جنہیں تلفی کے لیے کسی دوسرے ملک بھیجنا یا عام اداروں کو دینا خطرناک ہے۔

تنظیم کے مطابق یہی وہ مادے ہیں جنہیں سمندر میں امریکی بحری جہاز کی مدد سے تلف کیا جائے گا۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ سمندر میں موجود امریکی بحری جہاز پر ایک ’موبائل پلانٹ‘ نصب ہوگا جو ’ہائڈرولیسز‘ کے عمل کے ذریعے کیمیائی مادوں کو محفوظ سطح تک لے آئے گا۔

خیال رہے کہ چند دن قبل اس معاملے سے واقف ذرائع نے بی بی سی نیوز نائٹ کو بتایا تھا کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو امریکی بحری جہاز ایم وی کیپ رے کی مدد سے تلف کرنے کا ایک منصوبہ بنایا گیا ہے۔

کیپ رے بحری جہاز پر مجوزہ تلفی سے 77 لاکھ لیٹر مائع کا اخراج ہوگا جسے چار ہزار کنٹینروں میں بند کیا جائے گا۔ یہ خارج ہونے والا مادہ کسی بھی صنعتی اخراج جتنا ہی خطرناک ہوتا ہے۔

شامی کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے 31 دسمبر تک کی حتمی تاریخ رکھی گئی ہے تاہم ابھی تک دنیا بھر کے ممالک میں اس عمل کو سرانجام دینے کے حوالے سے ہچکچاہٹ پائی گئی ہے۔

البانیہ سمیت دیگر جن ممالک کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ تلفی کے لیے کیمیائی ہتھیاروں کو وہاں لے کر جایا جائے گا، اب تک اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔ یاد رہے کہ عالمی برادری نے ان ہتھیاروں کی تلفی کو دنیا کے اہم ترین سکیورٹی معاملات میں سے ایک قرار دیا تھا۔

معاملہ صرف یہ نہیں کہ اس عمل سے نکالنے والے مادے کی ذمہ داری کوئی ملک قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کوئی بھی ملک تین سال سے خانہ جنگی میں گھرے شام میں سے کیمیائی ہتھیاروں کو نکال کر لانے کے لیے تیار نہیں۔ اب شاید یہ کام شامی فوج کو خود ہی کرنا پڑے۔

Image caption او پی سی ڈبلیو ہتھیاروں کی منتقلی کا ساز و سامان اور کنٹینر براستہ لبنان شام لے کر جا رہی ہے

ذرائع کا ماننا ہے کہ شامی کیمیائی ہتھیاروں میں تیس ٹن کے علاوہ تمام تر ہتھیاروں کو غیر مہلک شکل میں رکھا گیا ہے۔ اس شکل میں کم از کم دو علیحدہ رکھے گئے اجزا کو ملا کر ہی کوئی خطرناک مادہ بنایا جاتا ہے۔

ان علیحدہ علیحدہ رکھے گئے اجزا کو شامی فوج نے مختلف مقامات سے اکٹھا کیا ہے اور ان کا حجم تقریباً 600 ٹن ہے۔ ان کے علاوہ تقریباً 30 ٹن مسٹرڈ گیس بھی شامی ہتھیاروں میں شامل ہے۔

چونکہ سرین گیس یا وی ایکس جیسے اعصابی ایجنٹ ہتھیاروں کی شکل میں نہیں رکھے گئے، اس سے ان کی تلفی کا کام قدرے آسان ہو جاتا ہے۔

حکومتیں کیمیائی ہتھیاروں کے اجزا کو علیحدہ اس لیے رکھتی ہیں تاکہ وقت کے ساتھ ان کے ناکارہ ہونے کا امکان کم ہو اور ان کے غیر دانستہ طور پر استعمال ہونے کا خطرہ بھی کم ہو۔

اس وقت او پی سی ڈبلیو ہتھیاروں کی منتقلی کا ساز و سامان اور کنٹینر براستہ لبنان شام لے کر جا رہی ہے اور توقع ہے کہ آئدہ چند ہفتوں میں شامی فوجی قافلے ان کیمیائی ہتھیاروں کو ملک سے باہر لے جانا شروع کر دیں گے۔

اسی بارے میں