لبنان: شامی صدر کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں

Image caption طرابلس میں اس پہلے بھی فرقہ وارانہ جھڑپیں ہو چکی ہیں

لبنان کے شہر طرابلس میں شامی صدر بشار الاسد کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان دو دن سے جاری جھڑپوں میں 10 افراد ہلاک اور 49 زخمی ہو گئے ہیں۔

لبنانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والوں میں 11 فوجی بھی شامل ہیں۔

شام کی جنگ لبنان میں

ساحلی شہر طرابلس میں اقلیتی علوی مسلمانوں کی آبادی کے اطراف میں اکثریتی سنی مسلمان آباد ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے گذشتہ ہفتے شہر میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی تھی جب علوی اکثریتی علاقے جبل محسن میں لوگوں نے شامی پرچم لہرانے شروع کیے اور اس کے جواب میں سنی اکثریتی علاقے باب التبانہ میں لوگوں نے شامی باغیوں میں مقبول پرچم لہرانے شروع کر دیے۔

اس کے بعد سنیچر کی رات کو شروع ہونے والی جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک ہو گئے جبکہ جھڑپیں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب جاری رہیں۔

اتوار کو تشدد کے واقعات میں مزید چار افراد ہلاک ہو گئے جن میں ڈیوٹی سے واپس جانے والا ایک فوجی بھی شامل ہے۔

فوج علاقے میں تعینات ہے اور ذرائع کے مطابق چار افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

لبنان کے ہمسایہ ملک شام میں مارچ 2011 سے شروع ہونے والی حکومت مخالف بغاوت کے بعد ساحلی شہر طرابلس(لیبیا کے دارالحکومت کا نام بھی طرابلس ہے) میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اس طرح کی کشیدگی اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ شام کے واقعات لبنان پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ شام کے صدر بشار الاسد خود ایک علوی ہیں۔ علوی لبنان میں ایک قبائلی مسلک ہے جو خود کو شیعہ مسلک کے قریب پاتا ہے۔

Image caption علاقے میں لبنانی فوج تعینات کر دی گئی ہے

لبنان میں سنہ 1990-1975 کی خانہ جنگی کے بعد سے علوی اور سنی کئی بار لڑے ہیں۔

شام میں حکومت اور فوج میں علوی شیعہ اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ لبنان کی سنی برادری صدر بشار لاسد کے خلاف بغاوت میں پیش پیش رہے ہیں۔

لبنان میں مذہبی رہنما کئی بار متنبہ کر چکے ہیں کہ شام میں جاری کشیدگی لبنان تک پھیل سکتی ہے۔

واضح رہے کہ لبنان نے ہزاروں کی تعداد میں شامی مہاجرین کو اپنے یہاں پناہ دی ہے۔

اسی بارے میں