شام میں موجود جنگجو یورپ کے لیے خطرہ؟

Image caption شام میں ایک اندازے کے مطابق اس وقت 1600 سے 2000 غیر ملکی جنگجو موجود ہیں

پچھلے ہفتے برطانیہ کے ایوانِ نمائندگان کو بتایا گیا کہ شام سے لوٹنے والے جنگجوؤں کی جانب سے یورپ میں دہشت گرد کارروائی ہوسکتی ہے لیکن ایسا ہونے میں ابھی وقت ہے۔

یہ تنبیہ ناروے کے ڈیفنس ریسرچ اسٹیبلشمنٹ کے تھامس ہیگ ہیمر کی جانب سے دی گئی ہے۔

انھوں نے ایوانِ نمائندگان کے سیمینار میں کہا کہ یورپ کے مختلف ممالک سے بارہ سو کے قریب جنگجو شام میں شدت پسند تنظیموں کے شانہ بشانہ لڑنے جا چکے ہیں۔

برطانیہ میں کچھ عرصے سے انسدادِ دہشت گردی کے حکام ان جنگجوؤں پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو شام میں لڑ کر واپس آئے ہیں۔

وائٹ ہال کے سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ شام میں شدت پسند گروہ برطانیہ میں کارروائی کرنا چاہتے ہیں۔ ان گروہوں کی سٹریٹیجک سمت اس بارے میں بہت اہم ہے، لیکن کوئی بھی شخص انفرادی طور پر دہشت گرد کارروائی کرسکتا ہے۔‘

بہت سے لوگوں کو یہ کوئی ایسا سنگین مسئلہ نہیں لگتا۔ جب امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے سنہ 2003 سے 2010 تک اپنی فوجیں عراق میں بھیجیں تو اس وقت بھی یہ خدشات سامنے آئے تھے۔

لیکن ماسوائے گلاسگو ہوائی اڈے کے واقعے کے کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جب برطانیہ میں کام کرنے والے ایک عراقی ڈاکٹر نے اپنی جیپ ہوائی اڈے کی عمارت سے ٹکرا دی تھی۔

لیکن شام کی صورتِ حال کے ضمن میں دنیا کے لیے طویل مدتی خطرات کی جانب توجہ دی جا رہی ہے۔

اس حوالے سے ڈاکٹر ہیگ ہیمر اور لندن میں سیاسی تشدد کے انٹرنیشنل سینٹر اور دیگر سینٹرز نے تحقیقات کی ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے دو سے لے کر چار سو جنگجو شام گئے ہیں۔ اور سب سے زیادہ جنگجو بوسنیا سے شام جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر ہیگ ہیمر کا کہنا ہے کہ ماضی میں دیکھنے میں آیا ہے کہ جس ملک سے جنگجو بیرون ملک لڑائی میں حصہ لینے گئے ہیں وہ واپس آ کر شدت پسند گروہ میں شریک ہو جاتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگجو اپنے ملک واپس پہنچ کر چند سالوں کے وقفے کے بعد کارروائیاں کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وقفہ افغانستان کے کیس میں چار سال اور یمن کے کیس میں تین سال کا تھا۔

تحقیق کے مطابق جو لوگ دوسرے ممالک جہاد لڑنے جاتے ہیں ان کا واپسی کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا اور وہ ’شہید‘ ہونا چاہتے ہیں۔

شام میں لڑنے کے لیے جانے والے ایک جنگجو سے سکائپ پر جب رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’برطانیہ کی سکیورٹی سروس کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان کا واپسی کا کوئی ارادہ نہیں۔‘

ابھی تک برطانیہ میں شام سے منسلک دہشت گردی کی کارروائی پر کسی کو سزا نہیں ہوئی ہے۔

لیکن شام کی لڑائی طول پکڑتی جا رہی ہے اور اس کا مستقبل قریب میں ختم ہونے کا امکان بھی نظر نہیں آ رہا۔ شام میں ایک اندازے کے مطابق اس وقت 1600 سے 2000 غیر ملکی جنگجو موجود ہیں۔ یہ جنگجو دو طاقتور گروہوں کے ساتھ منسلک ہیں: جبتہ النصرہ اور دولتِ اسلامیہ فی العراق والشام اور ان دونوں گروہوں کا تعلق القاعدہ سے ہے۔

شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف برسرِ پیکار جہادیوں کا خیال ہے کہ مغربی ممالک اس لیے شامی حکومت کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی کیونکہ بشار الاسد کو حکومت میں رہنے کا کوئی خفیہ معاہدہ ہو چکا ہے۔

انسدادِ دہشت گردی کے ایک ماہر نے متنبہ کیا ہے: ’ہمیں پریشانی یہ ہے کہ شام میں موجود شدت پسند تنظیموں کی توجہ یورپ کی جانب نہ ہو جائے۔ جو کوئی بھی شام جاتا ہے اور تجربہ حاصل کر کے واپس آتا ہے وہ ہمارے ملک میں شدت پسند نیٹ ورک نہ شروع کردے۔‘

تاہم ڈاکٹر ہیگ ہیمر کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں کی ملک واپسی سے سکیورٹی کا خدشہ ہمیشہ نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے کچھ مثالیں موجود ہیں لیکن بہت کم مثالیں صومالیہ میں جاری پرتشدد کارروائیوں کے حوالے سے ہیں۔

’لیکن شام کی صورتِ حال اگلے 20 سالوں میں یورپ میں جہادی شدت پسندی کا مسئلہ پیدا کر دے گی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ دنیا میں ہونے والے دیگر مسلح تصادموں کی نسبت شام میں زیادہ لوگ گئے ہیں۔‘

اسی بارے میں