برلن میں ’چرسی کیفے‘

Image caption ہمسایہ ملک نیدرلینڈز میں پہلے سے ہی بھنگ کی محدود مقدار میں فروخت کی اجازت ہے

جرمنی کے شہر برلن میں کونسلروں نے ملک میں پہلی بار ایک ایسا کیفے کھولنے کے حق میں ووٹ دیا ہے جہاں بھنگ فروخت کی جا سکے گی۔

لیکن اطلاعات کے مطابق ابھی اس میں کچھ رکاوٹیں موجود ہیں۔

ایک مقامی اخبار کے مطابق فریگلنسٹان فوزداگ کونسل کے کونسلروں کی ایک بڑی تعداد نے اس اقدام کے حق میں ووٹ دیا جس کا مقصد منشیات کے غیر قانونی کاروبار کو روکنا ہے۔

ضلعے کی میئر مونیکا ہرمین کے مطابق گذشتہ کئی دہائیوں سے نافذ ’امتناعی پالیسی‘ ناکام ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’اب ہمیں غیر روایتی حل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔‘

جرمن قانون میں منشیات کی فروخت پر پابندی ہے لیکن ’سائنسی اور عوام کے مفاد کے مقصد سے‘ فروخت کیے جانے پر قانون میں استثنا موجود ہے۔

برلن ڈسٹرکٹ قانون میں موجود اسی استثنا کو جواز بنا کر وفاقی حکومت سے کیفے کھولنے کی اجازت کی درخواست کرے گا۔

لیکن مقامی اخبار کے مطابق دیگر قانونی پہلوؤں پر بھی غور کرنا ہوگا جیسا کہ اس کیفے کا انتظام کس کے پاس ہوگا اور بھنگ کہاں سے حاصل کی جائے گی، وغیرہ۔

ہمسایہ ملک نیدرلینڈز میں پہلے سے ہی ایسی سینکڑوں کافی ہاؤس موجود ہیں جہاں محدود مقدار میں بھنگ فروخت کی اجازت ہے۔

اسی بارے میں