تھائی وزیرِاعظم کا استعفیٰ دینے سے انکار، مظاہرے جاری

Image caption نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی تعداد پہلے کی نسبت کم ہے

تھائی وزیرِاعظم ینگ لک شیناوترا نے حکومت مخالف مظاہرین کی طرف سے استفے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اقتدار چھوڑنے سے انکار کیا ہے۔ جبکہ بنکاک میں مظاہرین اور سکیورٹی حکام کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

وزیرِاعظم ینگ لک شیناوترا نے کہا کہ آئین کے تحت مظاہرین کے مطالبات کو تسلیم کرنا ناممکن ہے تاہم انھوں کہا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ’میں عوام کو خوش کرنے کے لیے جو کچھ بھی کر سکتی ہوں کروں گی۔۔۔۔ لیکن ایک وزیرِاعظم کی حیثیت سے میں جو کچھ کروں وہ آئین کے مطابق ہونا چاہیے۔‘

مظاہرین ینگ لک شیناوترا کی حکومت کو ہٹا کر ان کی جگہ غیر منتخب ’عوامی کونسل‘ کو لانا چاہتے ہیں۔

بنکاک میں حکومت مخالف مظاہرے: تصاویر

قبل از وقت انتخابات کا امکان نہیں: تھائی وزیراعظم

پیر کو مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تازہ جھڑپیں اس وقت ہوئیں جب مظاہرین نے وزیرِاعظم کے دفتر میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی۔

ملک میں حکومت مخالف مظاہرین کے رہنما سوتھپ تھاگسوبن کی طرف سے عام ہڑتال کے اعلان کے بعد مظاہرے جاری ہیں۔

دارالحکومت بنکاک میں سکیورٹی حکام نے پیر کو سرکاری عمارتوں کے سامنے جمع ہونے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مظاہرین پر اس وقت آنسو گیس کا استعمال کیا گیا جب انھوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر مختلف چیزیں پھینکنی شروع کیں۔

مظاہرے نویں دن بھی جاری ہیں جبکہ عام مظاہرین کی طرف سے عام ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر بعض یونیورسٹیوں اور سکولوں کو بند رکھا گیا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی تعداد پہلے کی نسبت کم ہے۔ انھوں نے کہا کہ بعض سخت جان مظاہرین پولیس کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ اس قابل نظر نہیں آ رہے ہیں۔

مظاہرین حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور وزیرِاعظم کو دو دن کا الٹی میٹم دیا گیا ہے۔

سوتھپ نے اتوار کو کہا تھا کہ انھوں نے وزیرِاعظم سے ملاقات میں انھیں اقتدار چھوڑنے کے لیے دو دن کی مہلت دی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ’ میں نے ینگ لک کو کہا کہ یہ میری ان سے واحد اور آخری ملاقات ہے جب تک وہ اقتدار عوام کے حوالے نہ کریں۔‘

سوتھپ تھاگسوبن نے کہا کہ ’کوئی سودے بازی نہیں ہوگی اور یہ سب کچھ دو دنوں میں ختم ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے سرکاری ملازمین سے بھی کام چھوڑ کر احتجاج میں شریک ہونے کے لیے کہا۔

تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اگر مہلت کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی ان کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا تو وہ کیا کریں گے۔

ملک کے نائب وزیرِاعظم پراچا پرومناگ نے اتوار کو کہا تھا کہ ’سوتھپ حکومت کا تختہ پلٹنا چاہتے ہیں جو غداری ہے اور جس کی سزا موت ہے۔‘

ادھر خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیر کو سرکاری دفاتر کھلے تھے اور اکثر سرکاری ملازمین پہلے کی طرح اپنی ڈیوٹی پر جا رہے تھے۔

بنکاک پوسٹ نے بھی خبر دی کہ دارالحکومت میں بڑے شاپنگ مال دوبارہ کھل گئے ہیں۔

مظاہرین کا الزام ہے کہ وزیرِاعظم ینگ لک شیناوترا کو بے دخل کیے جانے والے سابق رہنما اور ان کے بھائی تاکسین شیناوترا ہی کنٹرول کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ تھائی لینڈ میں گذشتہ ایک ہفتے سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں اور اتوار کو مظاہرین نے وزیراعظم کے ہیڈکوارٹر کے ساتھ دیگر سرکاری عمارتوں میں داخل ہونے کی دھمکی دی تھی تاہم پولیس نے پانی کی تیز دھار پھینکنے والی مشین اور آنسو گیس استعمال کر کے مظاہرین کو گورنمنٹ ہاؤس اور پولیس کے ہیڈکوارٹر میں داخل ہونے سے باز رکھا۔

مظاہرین بڑی تعداد میں سرکاری عمارتوں میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے جس میں چار افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ فوج کو بھی مظاہرین سے نمٹنے اور فسادات کی روک تھام کرنے والی پولیس کی امداد کے لیے بلایا گيا ہے۔

مظاہرین نے اتوار کو فیصلہ کن دن اور ’وی ڈے‘ یعنی یوم فتح قرار دیا تھا۔ انھوں نے اسے ’عوامی تختہ پلٹ‘ سے تعبیر کیا تھا۔

اس سے قبل تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں پولیس نے اہم مقامات پر وزیراعظم ینگ لگ شیناوترا کی حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد کو منشتر کر دیا۔

یہ مظاہرین اتوار کو ملک کے مختلف ٹی وی سٹیشنوں کی عمارتوں میں داخل ہو گئے تھے تاکہ ان کے رہنما کی جانب سے ہڑتال کی اپیل کی نشریات یقینی بنائی جا سکیں۔

حزبِ اختلاف کے رہنما اور ملک کے سابق نائب وزیراعظم سوتھپ تھاگسوبن نے ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے پیغام میں پیر کو حکومت کے خلاف عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

تھائی وزیرِاعظم نے اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد جمعرات کو مظاہرے ختم کرنے کی استدعا بھی کی تھی۔ تاہم حزبِ مخالف نے ان کی اپیل مسترد کردی تھی اور اپوزیشن رہنماؤں نے کہا تھا کہ ’ہم حکومت کو مزید کام نہیں کرنے دیں گے۔‘

’سول موومنٹ فار ڈیموکریسی‘ کے بینر کے تحت حکومت مخالف مظاہرین نے حکومت کے خلاف مکمل جنگ کا اعلان کر رکھا ہے۔ وہ موجودہ حکومت کو ’پیپلز کونسل‘ سے بدلنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں