یوکرائن: مظاہرے ختم کرنے کے لیے بات چیت

Image caption اطلاعات کے مطابق ان مظاہروں میں ایک لاکھ سے پانچ لاکھ لوگوں نے حصہ لیا

یوکرائن کے دارالحکومت کیئیف میں حالیہ مظاہروں کے بعد حکومت اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کے درمیان سوموار کو بات چیت شروع ہو رہی ہے۔

پارلیمانی سپیکر ولادی میر رائبیک نے وعدہ کیا ہے تمام لوگوں کو اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے یورپی یونین سے شراکت کے معاہدے پر یوکرائن کے صدر ویکتور یانوکووچ کے دستخط کرنے سے انکار کے بعد ملک میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

مظاہرین اب ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سوموار کی صبح تک سینکڑوں افراد دارالحکومت کیئیف کے سٹی ہال پر قابض تھے جب کہ ہزاروں لوگوں نے انڈیپنڈنس سکوائر یعنی آزادی چوک پر رات گزاری۔

اتوار کو مظاہرین نے سٹی ہال پر حملہ کر دیا تھا جبکہ دوسری جانب دارالحکومت میں حکومت مخالف جلوس جاری تھے۔

اطلاعات کے مطابق ایک لاکھ سے پانچ لاکھ کے درمیان لوگوں نے ان مظاہروں میں حصہ لیا۔

اتوار کے جلوس میں ایوانِ صدر کے سامنے تصادم کی بھی خبریں ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ماسک پہنے مظاہرین کو پولیس نے اشک آور گیس، ڈنڈے اور سٹن گرینیڈز کے ذریعے بھگا دیا۔ کیئیف پولیس کا کہنا ہے کہ تصادم میں متعدد مظاہرین زخمی ہوئے جب کہ تقریباً ایک سو پولیس اہل کار کو چوٹیں آئی ہیں۔

مظاہرین کا ایک گروپ بلڈوزر لے کر آگیا تاکہ وہ صدر یانوکووچ کے ہیڈ کوراٹر کے پاس پولیس کے گھیرے کو توڑ سکیں۔

حزب اختلاف نے ملک گیر ہڑتال اور مظاہروں کا اعلان کیا ہے اور حکومت سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دریں اثنا آزادی چوک میں شامیانے لگائے جا رہے ہیں کیونکہ مظاہرین رات دن مظاہرہ جاری رکھنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

رائبیک نے یوکرائن ٹی وی پر کہا: ’سپریم کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ کل گول میز کانفرنس ہوگی جس میں تمام جماعتوں کے نمائندوں کو اظہار خیال کا پورا موقع دیا جائے گا۔‘

Image caption سینکڑوں مظاہرین دارالحکومت کیئیف کے سٹی ہال میں جمع ہیں

پارلیمان کے سپیکر نے کہا کہ ’صدر یانوکووچ عوام کی طرف ہیں اور یہ عوام اپنے خیالات کے اظہار کے لیے پرامن طور پر جمع ہونے کا پورا اختیار رکھتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے یوکرائن کے صدر یانوکووچ نے کہا تھا کہ انھوں نے یورپی یونین کے ساتھ شراکت کے معاہدے کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت یورپی یونین ممالک کے سامان کے لیے یوکرائن کی سرحدیں کھولی جاتیں اور لوگوں کی آمدو رفت میں آسانیاں پیدا ہوتیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس معاہدے کے لیے روس کے ساتھ اپنی تجارت کی قربانی پیش نہیں کر سکتے کیونکہ روس اس معاہدے کا مخالف ہے۔

یوکرائن کے صدر کے اس فیصلے کے خلاف دارالحکومت کیو میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

جمعے کو جب یانوکووچ لتھوانیا کے دارالحکومت ولنیئس میں یورپی یونین کے اجلاس میں شرکت کر رہے تھے اسی دوران تقریباً دس ہزار مظاہرین آزادی چوک پر جمع ہو گئے۔

مظاہرین یوکرائن اور یورپی یونین پرچم اٹھا کر ’یوکرائن یورپ ہے‘ کا نعرہ لگا رہے تھے۔

اسی بارے میں