مغرب کو شام کے ’جہاد‘ سے خطرہ

رواں ہفتے یورپ میں انسدادِ دہشت گردی کے ایک ماہر ڈاکٹر تھامس ہیگ ہیمر نے برطانوی دارالعوام کو خبردار کیا تھا کہ یورپ سے جہاد کی غرض سےشام جانے والے ’جہادی جنگجوؤں‘ کی یورپ میں دہشت گردی کی کارروائیاں سے بچنا ممکن نہیں رہا ہے۔

ڈاکٹر ہیگ ہیمر دہشت گردی کے امور کے ماہر مانے جاتے ہیں اور وہ القاعدہ تنظیم کے بارے میں کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

ڈاکٹر ہیگ ہیمر نے ہاؤس آف کامنز کے ایک سیمینار کو بتایا کہ یورپی ممالک کے سینکڑوں شہری اس وقت شام میں ’جہاد‘ میں مصروف ہیں اور یورپ لوٹنے پر ان کا دہشت گردی کی کاررائیوں میں شرکت کرنے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا لیکن شاید اس میں کچھ وقت لگ جائے۔

برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے 600 سے لے کر 1200 شہری اس وقت شام میں لڑ رہے ہیں۔ آْبادی کے لحاظ سے بوسنیا سے سب سے زیادہ لوگ شام میں جہاد کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔

یورپ میں انسداد دہشتگردی کے ماہرین یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ شام سےفراغت کے بعد ان جہادی جنگجوؤں کو یورپ میں دہشتگردی کی کارروائیاں شروع کرنے میں کتنا عرصہ درکار ہوگا۔

جب برطانیہ نے امریکہ کے ہمراہ عراق پر یلغار کی تو اس وقت بھی ان ہی خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ جنگ کا اثر برطانیہ میں نظر آئے گا۔ برطانیہ میں مقیم ایک عراقی ڈاکٹر کی طرف سے گلاسگو کے ہوائی اڈے پر دہشتگردی کی ایک کارروائی کرنے کی کوشش کے علاوہ کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔

Image caption برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے 600 سے لے کر 1200 شہری اس وقت شام میں لڑ رہے ہیں

اس عراقی ڈاکٹر نے ایک جلتی ہوئی گاڑی کو گلاسگو کے ہوائی اڈے میں گھسانے کی کوشش کی تھی۔

برطانیہ کی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بھی بی بی سی کو بتایا: ’ہم اس مفروضے پر کام کرتے ہیں کہ شام کے تنازعے میں شریک ہر شدت پسند برطانیہ پر حملے کی نیت رکھتا ہے۔

یورپ میں کاررائیوں کے لیے شام میں متحرک شدت پسند گروہوں کی نظریاتی سمت بہت اہم ہے لیکن ان شدت پسند گروہوں کے ساتھ منسلک بعض افراد کی ذاتی سوچ بھی انتہائی اہم ہوتی ہے۔

شام کے تنازعے کو شروع ہوئے اب چار برس ہونے کو ہیں جس میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ڈاکٹر ہیگ ہیمر اور لندن میں قائم انٹرنیشنل سینٹر فار سٹڈی آف ریڈیکلئزیش اینڈ پولیٹکل وائلینس ( آئی سی ایس آر) نے یورپ کے جہادی جنگجوؤں کے بارے میں وسیع تحقیق کی ہے۔

ڈاکٹر ہیگ ہیمر نے کہا کہ: ’تاریخی طور پر ایسے لوگ جو جہاد کی غرض سے بیرون ملک جاتے ہیں ان میں سے دس میں سے ایک واپس آ کر اپنے ملک میں مقامی شدت پسند گروہوں کے نیٹ ورک میں شامل ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ہیگ ہیمر کے مطابق جہادی عناصر کا جہاد سے فراغت کے بعد واپس اپنے ملک میں آکر شدت پسندانہ کارروائیوں میں شمولیت کے لیے کئی سالوں کا وقفہ ہوتا ہے۔

مثال کے طور افغانستان میں جہاد میں حصہ لینے والے چار سال کے وقفے کے بعد مقامی طور پر متحرک ہوئے ہیں جبکہ یمن کے تنازعے میں شریک رہنے والوں کے لیے یہ وقفہ تین سال کا تھا۔

جہادیوں کی ایک بڑی تعداد جب جہاد کے لیے روانہ ہوتی ہے تو واپس آنے کی نیت سے نہیں جاتے بلکہ وہ شہادت حاصل کرنے کے آرزو مند ہوتے ہیں۔

شام کی جنگ میں شامل ایک برطانوی شہری سے جب پورٹسمتھ میں ان کےگھر سے سکائپ کے ذریعےرابطہ کیاگیا تو انھوں نے کہا کہ برطانوی انٹیلی جنس کو ان کے بارے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ واپس برطانیہ آنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

شام میں جب تک تنازع جاری رہے گا اس وقت تک ان جہادیوں کا واپس برطانیہ واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ ابھی تک برطانیہ میں کسی بھی شخص کو شام کی جنگ میں شمولیت کی وجہ سے سزا نہیں ملی ہے۔

شام میں مصروف ’یورپی جہادی‘ زیادہ تر القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جبات النصرا اور اسلامک سٹیٹ ان عراق اینڈ لیونٹ ( آئی ایس آیی ایس) کے ساتھ منسلک ہیں۔

Image caption ہمارا ڈر یہ ہے کہ ایک دن شامی جہادی اپنا رخ یورپ کی طرف موڑ لیں گے۔یورپی ماہر

شام میں متحرک جہادی یورپ اور امریکہ سے ناراض ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یورپ اور امریکہ کا شام کی جنگ میں شمولیت سے انکار اس بات کی شہادت ہے کہ وہ اندرونِ خانہ بشار الاسد کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور انہیں اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

حال ہی میں انسداد دہشت گردی کے ایک یورپی ماہر نے کہا تھا: ’ہمیں ڈر یہ ہے کہ ایک دن شامی جہادی اپنا رخ یورپ کی طرف موڑ لیں گے۔‘

’ہمیں خدشہ ہے کہ جو لوگ شام سے لڑنے کی تربیت اور تجربہ لے کر واپس آئیں گے وہ واپس آ کر جہادی نیٹ ورک قائم کریں گے۔ لیکن اگر وہ ایسا نہ بھی کریں تو وہ جو کچھ دیکھ کر واپس آئیں گے تو وہ ذہنی طور پر تباہ ہو چکے ہوں گے۔‘

ڈاکٹر ہیگ ہیمر کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں جہاد میں حصہ لینے والوں نے واپس برطانیہ لوٹ کر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کی کوشش کی لیکن صومالیہ ایک ایسی مثال بھی ہے جب جہاد میں شرکت کے بعد واپس آنے والوں نے برطانیہ میں کوئی کارروائی نہیں کی۔

ڈاکٹر ہیگ ہیمر کے خیال شام میں پرورش پانے والی ’جہادی دہشتگردی‘ یورپ کو اگلے دو عشروں تک متاثر کرتی رہے گی۔

یورپ سے جہاد کی غرض سے شام جانے والوں کی تعداد ماضی میں اس طرح کے تمام تنازعوں میں شریک یورپی جہادیوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔

ڈاکٹر ہیمر ہیگ کے مطابق شام میں پروان چڑھنے والی جہادی دہشت گردی کے اثرات زیادہ نہ بھی ہوں لیکن جہادیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ یورپ میں دہشت گردی کی کارروائیاں کی تعداد اچھی خاصی ہوگی۔

اسی بارے میں