’امریکہ کی طاقت اور اہمیت میں کمی‘

Image caption امریکہ کی نصف آبادی سمجھتی ہے کہ امریکہ نے دنیا کے مسائل حل کرنے کے لیے لیے بہت کچھ کر دیا ہے

چالیس سال میں پہلی مرتبہ امریکیوں کی اکثریت کو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ امریکہ کی طاقت اور اہمیت میں کمی ہو رہی ہے۔

ایک سروے کے مطابق امریکیوں کا خیال ہے کہ امریکہ نے حال ہی میں دنیا میں اس سے بہت کم اہم اور طاقتور کردار ادا کیا ہے جتنا وہ ایک دہائی قبل کر رہا تھا۔

پیو سروے کے مطابق 70 فیصد امریکیوں کو لگتا ہے کہ امریکہ کی عزت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

دفاع میں ناکامی پر دو امریکی جرنیل ریٹائر

سترہ سال میں پہلی بار امریکہ میں کام ٹھپ

پچاس سال میں پہلی مرتبہ 50 فیصد سے زائد امریکیوں نے کہا ہے کہ امریکہ کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہییے۔

56 فیصد لوگوں نے حالیہ صدر براک اوباما کی خارجہ پالیسی کی تائید نہیں کی۔

اس سروے کے مطابق نصف سے زائد امریکی سمجھتے ہیں کہ امریکہ ایک دہائی قبل بطور عالمی رہنما جتنا اہم اور طاقتور کردار ادا کر رہا تھا اب ایسا نہیں ہے۔ امریکیوں کی ایسی رائے اس سے قبل سنہ 1974 میں دیکھنے میں آئی تھی۔

دس سال قبل صرف 20 فیصد لوگ ایسا سمجھتے تھے۔

دہشت گردی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر 50 فیصد لوگوں نے خیال ظاہر کیا کہ ڈرون حملوں سے امریکہ زیادہ محفوظ ہوا ہے جب کہ 30 فیصد لوگ افغان جنگ کو فائدہ مند قرار دیتے ہیں۔

سروے کے مطابق صرف 17 فیصد امریکیوں کا کہنا تھا کہ امریکہ عالمی معاملات میں پہلے سے زیادہ اہم اور قوی کردار ادا کر رہا ہے۔

اس سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ امریکی عوام عالمی معاملات میں امریکہ کی مداخلت کم سے کم چاہتے ہیں۔

سروے میں 51 فیصد لوگوں نے کہا کہ امریکہ دنیا کے مسائل حل کرنے کے لیے ’بہت کچھ‘ کر چکا ہے۔

رپبلکن جماعت کے 53 فیصد حامیوں، ڈیمو کریٹس کے 46 فیصد حامیوں جب کہ 55 فیصد آزاد رائے رکھنے والوں نے کہا کہ امریکہ کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہییے۔

امریکی عوام سمجھتی ہے کہ امریکہ کو عالمی معاملات میں کم سے کم مخل ہونا چاہیے۔

سروے کا حصہ بننے والے افراد کی اکثریت کا خیال تھا کہ امریکہ کو اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے میں زیادہ دخل نہیں دینا چاہییے۔

36 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اس معاملے میں واشنگٹن کی موجودہ مداخلت کافی ہے۔

پیو ریسرچ سنٹر کے مطابق عام لوگوں میں کیا گیا یہ سروے 30 اکتوبر سے چھ نومبر کے درمیان کیا گیا جس میں دو ہزار سے زائد بالغ افراد کی رائے لی گئی۔

اسی بارے میں