لبنان: حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر بیروت میں ہلاک

حسان اللقیس
Image caption حسان اللقیس کو ہتھیاروں کی تیاری کا ماہر سمجھا جاتا تھا

لبنان کی شیعہ عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کے ایک سینیئر کمانڈر کو بیروت کے نواح میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

تنظیم کے ٹی وی چینل المنار کے مطابق حسان اللقیس کو لبنانی دارالحکومت کے جنوب مشرق میں حداث کے علاقے میں ان کی رہائش گاہ کے قریب ’قتل‘ کیا گیا۔

حزب اللہ نے اس ہلاکت کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے جب کہ اسرائیل نے اس الزام سے انکار کیا ہے۔

حسان اللقیس کے بارے میں زیادہ معلومات عام نہیں ہیں تاہم انھیں تنظیم کے مرکزی رہنما حسن نصر اللہ کا قریبی ساتھی اور ہتھیاروں کی تیاری کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔

ان کی ہلاکت کی خبر حسن نصر اللہ کے اس بیان کے اگلے ہی دن ہوئی ہے کہ گذشتہ ماہ بیروت میں ایرانی سفارت خانے کے باہر دھماکوں کے پیچھے سعودی عرب کا ہاتھ تھا۔

بدھ کو حزب اللہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ حسان اللقیس کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب وہ نصف شب کے قریب اپنی رہائش گاہ پر پہنچے۔

لبنان کے سکیورٹی حکام نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ حملہ آور حسان کے منتظر تھے اور انھوں نے حزب اللہ کمانڈر کو کار پارک میں ان کی گاڑی میں ہی خودکار رائفل سے نشانہ بنایا۔

حکام کے مطابق اس حملے کے بعد حسان اللقیس کو نزدیکی ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ بدھ کی صبح انتقال کر گئے۔

تاہم حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ حسان کو ایک ایسے پستول سے سر میں گولی ماری گئی جس پر سائیلنسر نصب تھا۔ ذرائع نے اس ہلاکت کو پیشہ ور افراد کی کارروائی قرار دیا ہے۔

تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل نے ماضی میں کئی بار انھیں مارنے کی کوشش کی تھی۔

تاہم اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے ترجمان یگال پلمور نے کہا ہے کہ ایسے الزامات لگانا حزب اللہ کی عادت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انھیں کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انھیں کچھ حقائق درکار نہیں ہوتے، وہ بس ہر چیز کا الزام اسرائیل پر لگا دیتے ہیں۔‘

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ عوامی سطح ان کے بارے میں معلومات بہت کم ہیں لیکن حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ حزب اللہ کے لڑاکا ونگ کے اہم کمانڈر تھے اور بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل انھیں مارنا چاہتا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تنظیم میں اہم حیثیت رکھتے تھے۔

نامہ نگار کے مطابق اُن کی ہلاکت کو شام کے بحران سے بھی منسلک کیا جا سکتا ہے۔ حزب اللہ نے اپنے بہت سے دشمن بنا لیے ہیں خاص کر سنیّوں میں کیونکہ حزب اللہ نے شام صدر بشار الاسد کی حکومت کو معاونت فراہم کی ہے۔ اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ اس قتل کی کڑیاں بھی وہاں ہی سے جا ملتی ہوں۔

اسی بارے میں