58 ہزار دستاویزات میں سے 26 چھاپی ہیں: گارڈیئن

Image caption راس بریجر نے کہا کہ گارڈیئن برطانوی حکام کی طرف سے اتنے سخت دباؤ میں آیا تھا جس کا آپ امریکہ میں ’تصور بھی نہیں کر سکتے‘

برطانوی اخبار گارڈیئن کے مدیر نے برطانوی ارکانِ پارلیمان کو بتایا ہے کہ انھوں نے امریکی اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی گئی خفیہ دستاویزات میں سے صرف ایک فیصد شائع کی ہیں۔

گارڈیئن کے مدیر ایلن رس بریجر نے برطانوی پارلیمان کی داخلہ کمیٹی کو بتایا کہ گارڈیئن کوئی ’غیر ذمہ دار اخبار‘ نہیں ہے۔

انھوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ ان کے اخبار کے صحافی ’محبِ وطن ہیں اور انھوں نے برطانیہ کی جمہوریت اور میڈیا کی آزادی کو سراہا۔‘

تاہم اس کے بعد ایک سرکاری ترجمان نے کہا کہ حکومت کو یقین ہے کہ گارڈیئن نے جو کچھ شائع کیا اس سے برطانیہ کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچا ہے۔

گارڈیئن کے مدیر نے بتایا کہ سابق امریکی جاسوس اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے جو دستاویزات افشا کیں، اخبار نے ان میں سے بہت کم دستاویزات کو شائع کرنے کا فیصلہ کیا اور اخبار نے کسی سرکاری اہلکار کا نام بھی ظاہر نہیں کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں ہم نے 58 ہزار دستاویزات میں سے صرف 26 دستاویزات سے خبریں شائع کی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ گارڈیئن، نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور دیر شپیگل میں جو خبریں شائع ہوئیں ان کی وجہ سے انٹیلی جنس کی سرگرمیوں پر بحث شروع ہوئی ہے جس کی اشد ضرورت تھی اوران خبروں کی بدولت انٹر نیٹ دور سے پہلے بنے جاسوسی کے بارے میں قوانین کی کمزوری کا بھی پتہ چلا۔

انھوں نے کہا کہ ’اخباروں نے وہ کام کیے ہیں جو اداروں کے اندر کی نگرانی کے ذریعے نہیں ہو سکے۔‘

راس بریجر نے کمیٹی کو بتایا کہ امریکی وائٹ ہال اور انتظامیہ کے اہلکاروں اور سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے ارکان نے اخبار کو بتایا تھا کہ ان کی خبروں سے ’کوئی نقصان‘ ہوا ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ انٹیلی جنس کے سربراہان کی جانب سے گذشتہ مہینے کمیٹی کو ایک دوسری بریفنگ میں قومی سکیورٹی کو نقصان کے حوالے سے جو تنقید کی گئی ’وہ بہت مبہم تھی اور اس میں کسی خاص خبر کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس مسئلے کے بارے میں مختلف آرا ہیں۔ اس کا تجزیہ کرنا مشکل ہے کیونکہ کسی نے مجھے مخصوص ثبوت نہیں دیے۔‘

جب کمیٹی کے چیئرمین اور رکنِ پارلیمان کیتھ واز نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ ’اس ملک سے محبت کرتے ہیں‘، تو راس بریجر نے کہا کہ وہ’اس سوال پر تھوڑے سے حیران ہوئے ہیں۔‘

گارڈیئن کے مدیر نے کہا کہ’ہم محبِ وطن ہیں اور جس چیز کے بارے میں محبِ وطن ہیں وہ اس ملک کی جمہوریت اور آذاد میڈیا ہے اور در حقیقت اس ملک میں بندہ ان چیزوں پر بات کر سکتا ہے اور اسے خبروں میں لا سکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ گارڈیئن برطانوی حکام کی طرف سے سخت دباؤ میں آیا تھا جس کا آپ امریکہ میں ’تصور بھی نہیں کر سکتے۔‘

راس بریجر نے کمیٹی کے سامنے اپنے اخبار کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے پاس عراق اور افغانستان کے بارے میں دستاویزات ہیں جسے ہم دیکھ بھی نہیں رہے۔ ایڈورڈ سنوڈن جب یہ دستاویزات ذمہ دار صحافیوں کو دکھانے جا رہا تھا تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں تھا۔‘

’ہمارے دنیا کے بہترین صحافی آہستہ آہستہ ذمہ داری کے ساتھ ان دستاویزات کو دیکھ رہے ہیں، ان صحافیوں کے سرکاری اداروں اور ایجنسیوں میں سو ذرائع ہیں۔ ہم ان ذرائع سے مشورہ جاری رکھیں گے لیکن ہمیں ڈرایا، دھمکایا نہیں جا سکتا لیکن ہم لا پروائی کا مظاہرہ بھی نہیں کریں گے۔‘

برطانوی پارلیمان کی داخلہ کمیٹی کا اجلاس جب ختم ہوا تو کابینہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ہم نے آج ایلن راس بریجر سے جو کچھ سنا اس کی وجہ سے نہ حقائق تبدیل ہوئے اور نہ ہی حکومت کی اس مسئلے پر پوزیشن بدلی۔‘

’گارڈیئن کی شائع کردہ خبروں اور خفیہ دستاویزات نے ہماری قومی سلامتی کی صلاحیتیوں کو متاثر کیا۔‘

اس کے بعد میٹروپولیٹن پولیس کے اسسٹنٹ کمیشنر کرسیڈا ڈیک نے کمیٹی کو بتایا کہ پولیس ممکنہ قانونی خلاف ورزی معلوم کرنے کے لیے اگست میں ہیتھرو ایئرپورٹ پر گارڈیئن کے صحافی اور ایڈورڈ سنوڈن کے ساتھی سے ضبط کی گئی دستاویزات کی جانچ پڑتال کر رہی ہے۔

اسی بارے میں