نیلسن منڈیلا: دنیا کے ہردلعزیز سیاسی مدبر

نیلسن منڈیلا اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کے ہمراہ
Image caption نیلسن منڈیلا اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کو اس قید خانے میں لے گئے جہاں وہ سترہ سال قید رہے تھے

نیلسن منڈیلا کے عالمی سیاسی مدبر ہونے کی شہرت کسی سے کم نہیں تھی۔ تاہم دنیا بھر کے مشاہیر کے ساتھ میل جول اور ہر جگہ سے عزت پانے کے باوجود ان کے اندر سیاسی تڑپ برقرار تھی۔

منڈیلا دنیا کے ہردلعزیز سیاست دان تھے۔ اس کی تصدیق ان کو ملنے والے متعدد انعامات، ایک سو سے زائد اعزازی ڈگریوں، اور دنیا بھر میں بڑی تعداد میں ان کے نام پر رکھے گئے سڑکوں، چوکوں، اور عمارتوں کے ناموں سے ہوتی ہے۔

منڈیلا بیسویں صدی کے آخری عشروں کی لبرل ازم کی علامت تھے۔

عالمی رہنماؤں اور مائیکل جیکسن، ڈیوڈ بیکہم، محمد علی، یُو2، اور سپائس گرلز جیسی مشہور شخصیات ان کے ساتھ دیکھے جانے کی متمنی ہوا کرتی تھیں۔

وہ زبردست ذہانت اور رابطہ کاری کے ہنر کی مدد سے مثالیت اور حقیقت پسندی کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا جانتے تھے۔

اگرچہ سابق برطانوی وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر نے انھیں ’دہشت گرد‘ کہا تھا، لیکن انھوں نے جنوبی افریقہ کی سفید فام اقلیت کو شکست دینے کے بعد ان سے دریا دلی کے مظاہرے کے باعث دنیا کو ششدر کر دیا تھا۔

اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک وہ افریقہ بھر میں امن اور مفاہمت کے غیرمتزلزل عزم پر ثابت قدم رہے، اور ایچ آئی وی ایڈز، تعلیم اور غربت کے منصوبوں کے لیے بہتر فنڈنگ حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہے۔

مئی 1994 میں جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہونے کے چند ہفتوں کے اندر اندر ان کی سیاسی بصیرت دنیا بھر پر عیاں ہونے لگی تھی۔ انھوں نے اس موقعے پر اپنے ہم وطنوں سے کہا تھا کہ وہ ’دنیا اور خود اپنے آپ کے لیے امن کی قوسِ قزح بن دکھائیں۔‘

جنوبی افریقہ کی معیشت پر غالب سفید فام کاروبار نے عمومی طور پر منڈیلا کے تعمیرِ نو اور ترقی کے اس پروگرام کو خوش آمدید کہا جسے انھوں نے پارلیمان میں پیش کیا تھا۔

انھوں نے جنوبی افریقہ کی ٹریڈ یونین تنظیم کوساتو پر زور دیا کہ اپنے آپ کو آزادی کی تحریک سے تبدیل کر کے ایک ایسی تنظیم کے روپ میں ڈھال لیں جو ملک کی معاشی کامیابی کے لیے کام کرے۔

Image caption مشہور شخصیات ان کے ساتھ دیکھے جانے کی متمنی ہوا کرتی تھیں

اس کے علاوہ انھوں نے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سفید فام افراد کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا، اور کنزرویٹیو پارٹی کی رہنما فرڈی ہارٹسن برگ سے اور جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خالق ہینڈرک فروُورٹ کی بیوہ بیٹسی فروُورٹ سے بھی ملاقاتیں کیں۔

انھوں نے سفید فام جنگجوؤں کی زولو قوم کے ساتھ جنگ میں صلح کار کا کردار ادا کیا تھا۔

لیکن وہ شخص جسے ایک نسل کے برابر مدت تک خاموش رکھا گیا تھا، وہ عالمی سٹیج پر زیادہ آب و تاب سے چمکا۔

انھوں نے دنیا بھر کے دورے کیے جن کے دوران بڑے بڑے ہجوم ان کا والہانہ اسقتبال کیا کرتے تھے۔

صلح گر

برطانیہ کے دونوں ایوانوں سے خطاب اور امریکی صدر بل کلنٹن کے ساتھ چائے پینے کے علاوہ نیلسن منڈیلا ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے جنھوں نے ایفریکن نیشنل کانگریس کی حمایت کی تھی۔ اسی ضمن میں انھوں نے کیوبا کا دورہ کر کے فیدل کاسترو سے ملاقات کی اور لیبیا میں معمر قذافی کے میزبان بنے۔

وہ سب کے لیے نرم خو اور مسحور کن تھے۔ ان کی ایک وجۂ شہرت وقت کی پابندی بھی تھی۔

وہ ممکنہ پریشان کن موقعوں سے بھی صفائی سے نمٹ لیتے تھے۔ جس کا ایک ثبوت 1990 میں مارگریٹ تھیچر کے ساتھ ان کی ملاقات ہے۔

افریقی اتحاد کی تنظیم، جسے اب افریقی یونین کہا جاتا ہے، کے تحت نیلسن منڈیلا نے کئی افریقی تنازعات میں صلح گر کا کردار ادا کیا۔ ان میں انگولا، برونڈی اور کانگو کے تنازعات شامل ہیں۔ تاہم ان کوششوں میں انھیں محدود کامیابی ملی۔

وہ 2003 میں عراق پر امریکہ کے حملے کے سرگرم مخالف تھے۔ انھوں نے امریکہ کے سابق صدر بش سینیئر کو فون کر کے کہا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو جنگ سے باز رکھیں۔

انھوں نے کہا تھا، ’میں ایسی طاقت کی مذمت کرتا ہوں جس کا صدر دوراندیشی کی صلاحیت سے عاری ہے، جو صحیح طریقے سے سوچ نہیں سکتا، اور جو دنیا کو تباہی میں جھونکنے پر تلا ہوا ہے۔‘

92 سال کی عمر میں بھی ان کی شہرت اور مقبولیت نے 2010 میں جنوبی افریقہ میں فٹ بال کا عالمی کپ منعقد کروانے میں مدد دی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جنوبی افریقہ میں کھیلوں کے اتنے پروقار مقابلوں کا انعقاد کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں