جہادی تنظیموں کے خلاف امریکی وزارت خارجہ کی آن لائن مہم

Image caption انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف 2011 سے جاری مسلح جد و جہد میں باغیوں کے ہمراہ لڑنے کے لیے کئی امریکی شام گئے یا انہوں نے شام جانے کی کوشش کی۔ (تصویر امریکی وزارت خارجہ)

امریکی وزارتِ خارجہ نے حال ہی میں شدت پسندوں کی جانب سے بھرتیوں کے جواب میں انگریزی بولنے والے افراد کو بھرتی کرنا شروع کیا ہے جس کا مقصد انٹرنیٹ پر شدت پسندوں کی کوششوں کو زائل کرنا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب القاعدہ اور اس سے وابستہ تنظیمیں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے افراد کو اپنی جانب مائل کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف 2011 سے جاری مسلح جد و جہد میں باغیوں کے ہمراہ لڑنے کے لیے کئی امریکی شام گئے یا انہوں نے شام جانے کی کوشش کی۔

یمن میں القاعدہ انگریزی پڑھنے والوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے اپنی ویڈیوز پر انگریزی سب ٹائٹل دیتی ہے۔ دوسری جانب صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب انگریزی میں آن لائن رسالہ بھی شائع کرتی ہے۔

وزارت خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کا پروگرام تجرباتی سطح پر ہے جس میں انگریزی کی ویب سائٹوں، ٹوئٹر، یوٹیوب ویڈیوز اور فیس بک پیجز پر نظر رکھی جائے گی جہاں پر اب تک یہ شدت پسند تنظیمیں اپنے نظریات بغیر کسی روک ٹوک کے پھیلاتی تھیں۔

تاہم امریکی اور یورپی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ انگریزی بولنے والے شدت پسند اس وقت زیادہ بڑا خطرہ بن سکتے ہیں جب وہ شام میں مسلح تصادم میں حصہ لے کر واپس اپنے ملک لوٹیں گے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق پچھلے تین سالوں سے وزارت خارجہ کے ایک چھوٹے سے دفتر میں آن لائن کے تجزیہ کار اور بلاگر یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں ایسی کیا چیز ہے جس سے لوگ شدت پسندی کی جانب مائل ہوتے ہیں اور ایسا کیا کیا جا سکتا ہے کہ ان افراد کو شدت پسندی سے دور رکھا جا سکے۔

ان تجزیہ کاروں کی توجہ 18 سے 30 سال تک کی عمر کے افراد پر ہے جن میں سے اکثریت کا تعلق مشرق وسطیٰ سے ہے۔ یہ تجزیہ کار عربی، اردو، صومالی اور پنجابی بول سکتے ہیں۔

بدھ کے روز شروع ہونے والے پائلٹ پراجیکٹ میں پہلی بار یہ تجزیہ کار ان ویب سائٹوں پر پیغام پوسٹ کریں گے جنھیں جہادی تنظیمیں بھرتیوں، فنڈ اکٹھا کرنے اور دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

ابتدائی طور پر یہ تجزیہ کار ان ویب سائٹوں پر صرف تصاویر اور پیغامات پوسٹ کریں گے اور شدت پسندوں کے ساتھ بحث میں حصہ نہیں لیں گے۔

وزارتِ خارجہ کے دفتر کے رابطہ کار اور سابق سفارت کار البرٹو ایم فرنینڈس کا کہنا ہے: ’ہمیں ان کے پیغام کو زائل کرنے لیے تیار رہنا ہو گا۔‘

امریکی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جہادی ویب سائٹوں پر تصاویر شائع کی گئی ہیں جس میں ان امریکی افراد کو دکھایا گیا ہے جو جہاد کے لیے مختلف ممالک گئے۔ ان افراد میں عمر حمامی نامی امریکی شخص بھی شامل ہے۔ ان تصاویر کے نیچے لکھا گیا ہے ’وہ جہاد کے لیے گئے تھے لیکن الشباب کے ہاتھوں قتل کردیے گئے۔‘

ایک اور تصویر میں ایک شخص تابوت کے قریب بیٹھا رو رہا ہے اور اس کے نیچے لکھا گیا ہے: ’بےگناہ افراد کا قتل درست راستہ کیسے ہو سکتا ہے؟‘

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق شام میں جاری مسلح تصادم کے لیے جانے والے انگریزی بولنے والے افراد کو متوجہ کرنے کے لیے شامی صدر بشار الاسد اور القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی تصویر ایک ساتھ لگائی گئی ہے اور لکھا ہے: ’اسد اور القاعدہ شام کو تباہ کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ آپ اس کو مزید تباہ کن نہ بنائیں۔‘

ہر پیغام کے ساتھ ایک تنبیہہ بھی شائع کی گئی جو ہے ’دوبارہ سوچیں۔ یہ مت کریں۔‘

امریکی وزارت خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ واضح طور پر لکھا جائے گا کہ یہ پیغام امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے ہے اور اس کے ساتھ وزارت کا لوگو بھی ہو گا۔

امریکی تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن میں فیلو اور سابق وزارت خارجہ کے انسداد دہشت گردی کے اہلکار ولیم میک کینٹس کا کہنا ہے: ’مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے کئی جہادی اور القاعدہ کی کم از کم ایک اتحادی تنظیم الشباب نئی بھرتیوں کے لیے انگریزی کا استعمال کرتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان کے پیغام کے اثر کو زائل کرنے کے لیے انگریزی ہی کا استعمال کیا جائے۔‘

وزارت خارجہ کی یہ کوشش امریکی حکومت کی شدت پسندوں کی کوششوں کے اثر کو زائل کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے 2008 میں ایک ٹیم قائم کی تھی جو اسی قسم کے پیغامات شائع کرتی تھی۔

اس ٹیم میں 12 افراد ہیں جو عربی، پشتو، دری، اردو، فارسی اور روسی بولتے ہیں۔

امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ضرورت کے مطابق پیغامات میں تبدیلی لائی جائے گی، اور اس بات کا بھی فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا یہ پیغام مستقل طور پر رکھے جائیں یا نہیں۔

اسی بارے میں