جمہوریہ وسطی افریقہ: دو دن میں 300 ہلاک

Image caption قیام امن کے لیے افریقن فورسز کی مدد کے لیے فرانسیسی فوج جمہوریہ وسطی افریقہ پہنچ رہی ہے

امدادی ادارے ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ افریقی ریاست جمہوریہ وسطی افریقہ کے دارالحکومت میں دو دن کے تشدد میں تین سو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے عملے نے رات ہونے کے بعد بنگوئی میں لاشیں جمع کرنے کام کام روک دیا ہے تاہم سنیچر کی صبح کارروائی دوبارہ شروع کر دی جائےگی۔

فرقہ وارانہ کشیدگی سے دنیا کو سب سے زیادہ خطرہ

ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

جمہوریہ میں تشدد میں اضافہ اس وقت ہوا جب فرقہ وارانہ فسادات کے باعث بڑے پیمانے پر قتلِ عام کے خدشات سامنے آئے۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے علاقے میں امن بحال کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں فرانس کے سینکڑوں فوجی اہلکار وہاں پہنچ رہے ہیں۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے جمعے کو کہا تھا کہ ساڑھے چھے سو فوجی فوری طور پر علاقے میں روانہ کیے گئے ہیں اور ’یہ تعداد چند دنوں میں دگنی کر دی جائے گی۔‘

Image caption دارالحکومت پر جمعرات کو حملہ کیا گیا

جمہوریہ وسطی افریقہ میں فوجیں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس حق میں ووٹ دیے جانے کے بعد روانہ کی گئی ہیں تاکہ یہ امن قائم کرنے کے لیے افریقن امن فوج کی مدد کرسکیں۔

بنگوئی پر جمعرات کو حملہ کیا گیا تھا، اطلاعات کے مطابق حملہ آور ملیشیا معزول صدر فرانکوئس بوزیز کے حامی ہیں۔ مارچ میں صدر کے باغیوں کے ہاتھوں معزول کیے جانے کے بعد سے ملک کشیدگی کا شکار ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو ہارڈنگ کا کہنا ہے کہ انہوںنے بنگوئی کے ہسپتال میں بہت سے لوگوں کو زخمی حالت میں دیکھا ہے۔

جمہوریہ وسطی افریقہ میں ریڈ کراس کے سربراہ پاسٹر اینٹونی مباؤ بوگو کا کہنا ہے کہ جمعے کو راست ہونے سے قبل تک ان کے عملے نے 821 لاشیں اکٹھی کی تھیں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ جب سنیچر کو ان کا عملہ کام دوبارہ شروع کرے گا تو ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے۔

انہوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ’کل کا دن انتہائی خوفناک ہوگا۔ ہم کل کام کریں گے میرا خیال ہے کہ ہمیں اس کام کے لیے چوتھا دن بھی چاہییے۔‘

اسی بارے میں