لندن منی لانڈرنگ کیس دو شخص گرفتار

Image caption لندن دو مختلف کیسوں کی تحقیقات کر رہی ہے

لندن میں میٹروپولیٹن پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ کے گھر پر چھاپے کے بعد شروع کیے جانے والے منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں جمعرات کو مغربی لندن سے دو گھروں پر چھاپے مار کر دو افراد کو حراست میں لے لیا۔

لندن پولیس کے ایک اہلکار رچرڈ جونز نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ ان دونوں افراد کو حراست میں لے کر مرکزی لندن کے ایک تھانے میں منتقل کیا گیا بعد ازاں دونوں کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

رچرڈ جونز نے بتایا کہ پولیس دو مختلف کیسوں میں متوازی تحقیقات کر رہی ہے۔ ان میں ایک کیس منی لانڈرنگ کا ہے اور دوسرا ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا ہے۔

انھوں نے دونوں افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی البتہ یہ کہا کہ ایک ستر برس کے ہیں جبکہ دوسرا شخص چالیس کے پیٹے میں ہے۔

لندن پولیس نے اس سلسلے میں ایک مختصر بیان بھی جاری کیا جس میں کہا گیا کہ مغربی لندن کے ایک علاقے میں دو گھروں کی مفصل تلاشی بھی لی گئی ہے۔

اس بیان میں کہا گیا کہ یہ چھاپے میٹروپولیٹن پولیس کے انسداد دہشت گردی کے یونٹ نے مارے ہیں۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل لندن پولیس نے الطاف حسین کے گھر اور دفتر پر ڈاکٹر عمران فاروق کےقتل کی تحقیقات کے سلسلے میں چھاپے مارے تھے جہاں سے مبینہ طور پر بھاری مقداد میں نقدی برآمد کی گئی تھی۔

اس کے بعد لندن پولیس نے ڈاکٹر فاروق کے قتل کے علاوہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات بھی شروع کر دی تھیں۔

ایم کیو ایم کے پچاس سالہ رہنما ڈاکٹر عمران فاروق سنہ انیس سو ننانوے میں لندن آئے تھے۔ انھیں سولہ ستمبر دو ہزار دس کو ایجویئر کے علاقے میں واقع گرین لین میں چاقو مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اکتوبر میں پولیس کو حملے میں استعمال ہونے والی چھری اور اینٹ بھی ملی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کا قتل ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ لگتا ہے اور بظاہر اس کے لیے دوسرے افراد کی مدد بھی حاصل کی گئی تھی۔ ہو سکتا ہے انھوں نے ’جان بوجھ کر یا انجانے میں قتل میں معاونت کی ہو۔

اسی بارے میں