اقوام عالم کے پرچم سرنگوں، ان گنت تعزیتی پیغامات

Image caption اکثر اقوام کے پرچم سرنگوں رہے

اقوام عالم کے پرچم سرنگوں

جنوبی افریقہ کے سیاہ فام رہنما نیلسن منڈیلا کے انتقال پر اکثر ملکوں میں قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے اور کئی اقوام کے پرچم اس عظیم رہنما کی موت پر سرنگوں ہیں۔

آسٹریلیا سے امریکہ تک تقریباً ہر ملک کی طرف سے نیلسن مینڈیلا کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا اور عالمی رہنما جنوبی افریقہ کے عوام اور حکومت کو تعزیتی پیغامات بھیج رہے ہیں۔

نیلسن منڈیلا طویل عرصے سے پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا تھے اور وہ اسی عارضے میں جمعرات کی رات مقامی وقت کے مطابق نو بجے دنیا سے چل بسے۔

منڈیلا کی زندگی تصاویر میں

پوری دنیا سے منڈیلا کو خراجِ تحسین

سنیے: ’منڈیلا کو پاکستان کی وعدہ خلافی یاد تھی‘

جنوبی افریقہ میں نیلسن مینڈیلا کی آخری رسومات ادا کی جانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے اعلان کیا ہے نیلسن منڈیلا کو پندرہ دسمبر کو ان کے آبائی علاقے کونو میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

دنیا بھر میں مفاہمت اور راوداری کی علامت تصور کیے جانے والے رہنما کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے قریبی دوست آرچ بشپ ڈیزمنڈ ٹوٹو نے کہا کہ منڈیلا ستائیس سال جیل کی بھٹی میں تپنے کے بعد جیل سے کندن بن کر ایک بے عیب شخصیت بن کر نکلے۔

جنوبی افریقہ میں ایک طرف تو لوگ نیلسن منڈیلا کی مثالی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے محو رقص ہیں وہیں کچھ لوگوں کا خدشہ ہے کہیں ملک دوبارہ نسل پرستی کا شکار نہ ہو جائے۔

صدر جیکب زوما نے یہ بھی کہا کہ سابق صدر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے دس دسمبر کو جوہانسبرگ کے ساکر سٹڈیم میں تقریب منعقد کی جائے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم ایک ہفتے ان کے سوگ میں گزاریں گے۔ ہم ایک بہترین زندگی گزارنے پر ان کی یاد منائیں گے۔‘

جنوبی افریقہ کی سٹاک مارکیٹ میں پانچ منٹ کے لیے کاروبار روک دیا گیا۔

جوہانسبرگ سے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وہاں مکمل طور پر غم اور رنج کی فضا نہیں پائی جاتی۔

جوہانسبرگ کے پوش علاقے جہاں نیلسن منڈیلا کی رہائش واقع ہے وہاں ہزاروں لوگ سڑکوں پر جمع ہیں اور بہت سے لوگ اپنے محبوب لیڈر کو ایک کامیاب زندگی گزارنے پر رقص کر کے اور گانے گا کر خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

اس ہجوم میں ہر عمر اور ہر طبقے کے لوگ موجود ہیں۔

تعزیاتی پیغامات

Image caption تعزیتی پیغامات کا تانتا بندھا ہوا ہے

نیلسن مینڈیلا کی وفات پر جنوبی افریقہ کے عوام اور حکومت کے لیے دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات کا سیلاب امنڈ آیا ہے۔

مینڈیلا اور کھیل

مینڈیلا کو خراج تحسین

دنیا بھر سے سربراہان مملکت اور سربراہان حکومت کے علاوہ سیاسی رہنما، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے، عالمی اداروں سے منسلک مقتدر شخصیات، کھلاڑی اور غرض یہ کہ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نیلسن مینڈیلا کی وفات پر تعزیتی پیغامات بھیج رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں نیلسن منڈیلا کی موت پر کچھ لمحے خاموشی اختیار کی گئی۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس موقع پر نیلسن منڈیلا کے ساتھ اپنی ایک ملاقات کا ذکر کیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ :’جب میں نے ان کو دیے جانے والے لائف ایوارڈ پر ان کا شکریہ ادا کیا تو انھوں نے اصرار کیا کہ اس کا کریڈٹ دوسروں کو جاتا ہے۔ میں ان کی بے نیازی اور مجموعی مقصد کے متعلق گہرے جذبے کو کبھی فراموش نہیں کروں گا۔‘

برطانیہ میں ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے ردِ عمل میں کہا کہ ’ آج ہماری دنیا کی سب سے زیادہ چمکدار روشنی بجھ گئی ہے۔ نیلسن منڈیلا صرف ہمارے زمانے کے ہیرو ہی نہیں تھے بلکہ وہ تمام ادوار کے ہیرو تھے۔‘

امریکہ کے پہلے سیاہ فام وزیرِ خارجہ کولن پاول نے جنوبی افریقہ کے سابق صدر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے گزشتہ رات یہ خبر سنی تھی اور مجھے صرف چند لمحوں کے لیے صدمہ ہوا تھا۔ کیونکہ وہ ایک ایسی زندگی تھی جسے اچھی طرح گزارا گیا تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ پوری دنیا سے آنے والے تعزیتی پیغامات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ کیسے انسان تھے۔ ایک ایسے انسان جو اصول پسند تھے، جنہوں نے ایک مقصد کے لیے زندگی گزار ی اور اس مقصد کے لیے مرنے کو بھی تیار رہے۔ وہ مقصد تھا جنوبی افریقہ کے عوام کو نسل پرستی کی زنجیروں سے آزاد کرانا۔‘

باکسنگ کے سابق عالمی چیمپیئن محمد علی نے کہا کہ نیلسن منڈیلا معافی کی ایک علامت بن گئے ہیں۔

لندن میں ان کی زندگی پر بنائے جانے والی ایک فلم کی نمائش کے دوران ہی ان کی موت کی خبر آئی۔ فلم بین سنیما گھر سے نکلتے ہوئے صدمے میں تھے۔ فلم کی سکریننگ کے دوران دو منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔

سکریننگ کے بعد برطانوی شہزادے پرنس ولیم نے کہا ’یہ ایک نہایت افسردہ اور المناک خبر ہے۔ جو ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ وہ کتنی غیر معمولی اور متاثر کن شخصیت تھے۔‘

خراجِ تحسین کے ان گنت پیغامات سے اس بات کا احساس اور زیادہ ہوتا ہے کہ نیلسن منڈیلا کی موت نے ان کی زندگی کی طرح پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔

ہردلعزیز سیاسی مدبر

Image caption نیلسن منڈیلا اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کو اس قید خانے میں لے گئے جہاں وہ سترہ سال قید رہے تھے

نیلسن منڈیلا کے عالمی سیاسی مدبر ہونے کی شہرت کسی سے کم نہیں تھی۔ تاہم دنیا بھر کے مشاہیر کے ساتھ میل جول اور ہر جگہ سے عزت پانے کے باوجود ان کے اندر سیاسی تڑپ برقرار تھی۔

منڈیلا دنیا کے ہردلعزیز سیاست دان تھے۔ اس کی تصدیق ان کو ملنے والے متعدد انعامات، ایک سو سے زائد اعزازی ڈگریوں، اور دنیا بھر میں بڑی تعداد میں ان کے نام پر رکھے گئے سڑکوں، چوکوں، اور عمارتوں کے ناموں سے ہوتی ہے۔

منڈیلا بیسویں صدی کے آخری عشروں میں ’لبرل ازم‘ کی علامت تھے۔

عالمی رہنماؤں اور مائیکل جیکسن، ڈیوڈ بیکہم، محمد علی، یُو2، اور سپائس گرلز جیسی مشہور شخصیات ان کے ساتھ دیکھے جانے کی متمنی ہوا کرتی تھیں۔

وہ زبردست ذہانت اور رابطہ کاری کے ہنر کی مدد سے مثالیت اور حقیقت پسندی کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا جانتے تھے۔

اگرچہ سابق برطانوی وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر نے انھیں ’دہشت گرد‘ کہا تھا، لیکن انھوں نے جنوبی افریقہ کی سفید فام اقلیت کو شکست دینے کے بعد ان سے دریا دلی کے مظاہرے کے باعث دنیا کو ششدر کر دیا تھا۔

اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک وہ افریقہ بھر میں امن اور مفاہمت کے غیرمتزلزل عزم پر ثابت قدم رہے، اور ایچ آئی وی ایڈز، تعلیم اور غربت کے منصوبوں کے لیے بہتر فنڈنگ حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہے۔

مئی 1994 میں جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہونے کے چند ہفتوں کے اندر اندر ان کی سیاسی بصیرت دنیا بھر پر عیاں ہونے لگی تھی۔ انھوں نے اس موقعے پر اپنے ہم وطنوں سے کہا تھا کہ وہ ’دنیا اور خود اپنے آپ کے لیے امن کی قوسِ قزح بن دکھائیں۔‘

جنوبی افریقہ کی معیشت پر غالب سفید فام کاروبار نے عمومی طور پر منڈیلا کے تعمیرِ نو اور ترقی کے اس پروگرام کو خوش آمدید کہا جسے انھوں نے پارلیمان میں پیش کیا تھا۔

انھوں نے جنوبی افریقہ کی ٹریڈ یونین تنظیم کوساتو پر زور دیا کہ اپنے آپ کو آزادی کی تحریک سے تبدیل کر کے ایک ایسی تنظیم کے روپ میں ڈھال لیں جو ملک کی معاشی کامیابی کے لیے کام کرے۔

اس کے علاوہ انھوں نے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سفید فام افراد کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا، اور کنزرویٹیو پارٹی کی رہنما فرڈی ہارٹسن برگ سے اور جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خالق ہینڈرک فروُورٹ کی بیوہ بیٹسی فروُورٹ سے بھی ملاقاتیں کیں۔

Image caption مشہور شخصیات ان کے ساتھ دیکھے جانے کی متمنی ہوا کرتی تھیں

انھوں نے سفید فام جنگجوؤں کی زولو قوم کے ساتھ جنگ میں صلح کار کا کردار ادا کیا تھا۔

لیکن وہ شخص جسے ایک نسل کے برابر مدت تک خاموش رکھا گیا تھا، وہ عالمی سٹیج پر زیادہ آب و تاب سے چمکا۔

انھوں نے دنیا بھر کے دورے کیے جن کے دوران بڑے بڑے ہجوم ان کا والہانہ اسقتبال کیا کرتے تھے۔

نیلسن منڈیلا ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے جنھوں نے ایفریقن نیشنل کانگریس کی حمایت کی تھی۔ اسی ضمن میں انھوں نے کیوبا کا دورہ کر کے فیدل کاسترو سے ملاقات کی اور لیبیا میں معمر قذافی کے میزبان بنے۔

وہ سب کے لیے نرم خو اور مسحور کن تھے۔ ان کی ایک وجۂ شہرت وقت کی پابندی بھی تھی۔

وہ ممکنہ پریشان کن موقعوں سے بھی صفائی سے نمٹ لیتے تھے۔ جس کا ایک ثبوت 1990 میں مارگریٹ تھیچر کے ساتھ ان کی ملاقات ہے۔

افریقی اتحاد کی تنظیم، جسے اب افریقی یونین کہا جاتا ہے، کے تحت نیلسن منڈیلا نے کئی افریقی تنازعات میں صلح گر کا کردار ادا کیا۔ ان میں انگولا، برونڈی اور کانگو کے تنازعات شامل ہیں۔ تاہم ان کوششوں میں انھیں محدود کامیابی ملی۔

وہ 2003 میں عراق پر امریکہ کے حملے کے سرگرم مخالف تھے۔ انھوں نے امریکہ کے سابق صدر بش سینیئر کو فون کر کے کہا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو جنگ سے باز رکھیں۔

انھوں نے کہا تھا، ’میں ایسی طاقت کی مذمت کرتا ہوں جس کا صدر دوراندیشی کی صلاحیت سے عاری ہے، جو صحیح طریقے سے سوچ نہیں سکتا، اور جو دنیا کو تباہی میں جھونکنے پر تلا ہوا ہے۔‘

92 سال کی عمر میں بھی ان کی شہرت اور مقبولیت نے 2010 میں جنوبی افریقہ میں فٹ بال کا عالمی کپ منعقد کروانے میں مدد دی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جنوبی افریقہ میں کھیلوں کے اتنے پروقار مقابلوں کا انعقاد کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں