’دنیا میں اپنا فرض نبھا کر‘ منڈیلا چلے گئے

نیلسن منڈیلا انتقال کر گئے

جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر اور ملک میں نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کی علامت سمجھے جانے والے رہنما نیلسن منڈیلا 95 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر نیلسن منڈیلا کے انتقال پر لاکھوں جنوبی افریقی باشندوں کے علاوہ دنیا بھر کے عوام اور خواص نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

منڈیلا پھیپھڑوں میں انفیکشن کی وجہ سے طویل عرصے سے زیرِ علاج تھے۔ انھوں نے جمعرات کی رات مقامی وقت کے مطابق نو بجے کے قریب اس دنیا کو خیرباد کہا۔

منڈیلا کی زندگی تصاویر میں

پوری دنیا سے منڈیلا کو خراجِ تحسین

سنیے: ’منڈیلا کو پاکستان کی وعدہ خلافی یاد تھی‘

نیلسن منڈیلا کے انتقال کی خبر کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد سوویدڈو میں ان کے سابق مکان کے باہر جمع ہے جہاں وہ منڈیلا کو رقص اور نغمے( وہ ایک عظیم انسان تھے۔ان کا انتقال ہم سب کے لیے ایک صدمہ )گا کر اپنے قائد کو خراجِ عقیدت کر رہے ہیں۔

جوہانسبرگ میں نیلسن منڈیلا کی رہائش گاہ کے باہر موجود بی بی سی کے نامہ نگار مائیک وولڈریج نے بتایا کہ ان کا سارا خاندان وہاں جمع ہے۔

منڈیلا کے انتقال کے بعد ملک کے عوامی مقامات اور دنیا بھر میں جنوبی افریقی سفارت خانوں میں تعزیتی پیغامات درج کرنے کے لیے کتب رکھ دی گئی ہیں۔

نیلسن منڈیلا کو بابائے جمہوری جنوبی افریقہ کہا جاتا ہے اور جنوبی افریقہ میں انھیں احترام سے ’مادیبا‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

ایک مرتبہ ایک انٹرویو کے دوران ان سے سوال کیا گیا کہ وہ کیا چاہیں گے کہ لوگ انھیں کس طرح یاد کریں، تو نیلسن منڈیلا کا جواب تھا کہ ’میں چاہوں گا کہ لوگ کہیں ایک ایسا شخص تھا جس نے دنیا میں اپنا فرض نبھایا۔‘

جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے ان کے انتقال کے بارے میں اعلان کرتے ہوئے کہا ’ہماری قوم ایک عظیم سپوت سے محروم ہو گئی ہے۔‘

انھوں نےکہا کہ نیلسن منڈیلا کی تدفین سرکاری اعزاز کے ساتھ ہوگی اور ان کی وفات پر قومی پرچم سرنگوں کر دیا گیا ہے جو منڈیلا کی تدفین تک سرنگوں رہےگا۔

جیکب زوما نے نیلسن منڈیلا کو عظیم انسان قرار دیتے ہوئے کہا ’ہم ان میں وہ چیز دیکھتے ہیں جو ہم خود میں تلاش کرتے ہیں۔‘

Image caption پاکستان کو عظیم رہنما نیلسن مینڈیلا کی میزبانی کا شرف حاصل ہو چکا ہے

انھوں نے کہا: ’میرے ہم وطنو: نیلسن منڈیلا نے ہمیں اکٹھا کیا ہے تاکہ ہم انھیں خیرباد کہہ سکیں۔‘

نیلسن منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں نسل پرست سفید فام حکمرانوں سے آزادی کی جدوجہد کے لیے اپنی عمر کے 27 سال جیل میں گزارے اور کہا جاتا ہے کہ ان کی موت کی وجہ بننے والی پھیپھڑوں کی بیماری کا آغاز قید کے زمانے میں ہوا تھا۔

انھیں 1964 میں سبوتاژ اور بغاوت کے الزامات میں عمر قید کی سزا دی گئی تھی اور فروری 1990 میں انھیں رہائی ملی تھی۔

نسل پرستی کے خلاف جدوجہد پر 1993 میں انھیں امن کا نوبل انعام دیا گیا جبکہ 1994 میں وہ بھاری اکثریت سے ملک کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے اور صدر بننے کے بعد انھوں نے مفاہمت اور معاف کرنے کی پالیسی اختیار کی۔

انھوں نے 2004 کے بعد سے عوامی مصروفیات کو خیرباد کہہ دیا تھا اور آخری مرتبہ 2010 میں فٹبال ورلڈ کپ کی تقریب میں دکھائی دیے تھے۔

گذشتہ دو برسوں میں علالت کے باعث انھیں پانچ بار ہسپتال لے جایا گیا اور رواں برس اپریل میں انھیں نمونیا کی وجہ سے دس دن ہسپتال میں رہنا پڑا تھا۔

انھیں آخری بار ستمبر میں ہسپتال سے گھر منتقل کیا گیا تھا تاہم اس کے بعد سے وہ بول نہیں سکے تھے۔

پرورش سے نوبیل انعام تک

نیلسن منڈیلا جدید دنیا کے قابلِ احترام حکمرانوں میں سے ایک تھے۔ انھوں نے جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کو مختلف النسل جمہوریت میں تبدیل کرنے کی جدوجہد کی قیادت کی۔

وہ 27 سال قید کاٹنے کے بعد ملک کے پہلے سیاہ فام صدر بنے۔ انھوں نے جنگ زدہ علاقوں میں قیامِ امن کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔

اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کے باوجود ان میں بالکل تلخی نہیں تھی۔

1999 میں صدارت چھوڑنے کے بعد نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کے اعلیٰ ترین سفیر بن گئے۔ انھوں نے ایچ آئی وی/ایڈز کے خلاف مہم چلائی اور اپنے ملک کو 2010 کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔

2001 میں نیلسن منڈیلا میں مثانے کے غدود کے کینسر کی تشخیص ہوئی لیکن وہ جمہوریہ کانگو، برونڈی اور دوسرے افریقی ممالک کے امن مذاکرات میں بھی شامل رہے۔

انھوں نے دنیا کے دوسرے علاقوں میں بھی امن کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی۔

2004 میں 85 برس کی عمر میں انھوں نے عوامی زندگی سے ریٹائرمنٹ لے لی تاکہ وہ اپنے خاندان والوں اور دوستوں کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکیں۔

نیلسن منڈیلا 1918 میں کوسا زبان بولنے والے تھیمبو قبیلے میں پیدا ہوئے جو جنوبی افریقہ کے مشرقی حصے میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں آباد ہے۔ جنوبی افریقہ میں انھیں ان کے خاندانی نام ’مادیبا‘ سے پکارتے تھے۔

ان کا پیدائشی نام رولیہلا ہلا تھا جبکہ ان کے ایک استاد نے ان کا انگریزی نام ’نیلسن‘ رکھا۔

جب نیلسن نو برس کے تھے تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ وہ تھمیبو شاہی خاندان کے مشیر تھے۔ والد کے انتقال کے بعد شاہی خاندان کے بادشاہ، جونگن تابا دلن دائبو، نے نیلسن کو تھمیبو لوگوں کے قائم مقام مشیر کی سرپرستی میں دے دیا۔

نیلسن منڈیلا نے 1943 میں افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) میں شمولیت اختیار کی۔ پہلے وہ صرف ایک کارکن تھے تاہم بعد میں وہ اے این سی یوتھ لیگ کے بانی اور صدر بنے۔

قید کے کئی برسوں کے بعد بھی وہ اس تنظیم کے صدر رہے۔

انھوں نے 1944 میں پہلی شادی ایویلن میسی سے کی لیکن 1957 میں ان کی طلاق ہوگئی۔ اس شادی سے ان کے تین بچے ہوئے۔

منڈیلا نے وکالت پڑھی اور 1952 میں اپنے ساتھی اولیور تیمبو کے ساتھ مل کر جوہانسبرگ میں دفتر کھول کر پریکٹس شروع کی۔

منڈیلا نے اپنے دوست تیمبو کے ساتھ مل کر نسل پرستی کے اس نظام کے خلاف مہم چلائی جسے سفید فام افراد پر مشتمل جماعت نیشنل پارٹی نے وضع کیا تھا اور جس سے سیاہ فام اکثریت کا استحصال ہو رہا تھا۔

1956 میں منڈیلا اور 155 دیگر کارکنوں پر غداری کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ مقدمہ چار سال چلا اور اس کے بعد یہ الزامات خارج کر دیے گئے۔

نسل پرستی کے خلاف مزاحمت اس وقت بڑھی جب ملک میں ایک نیا قانون بنا۔ اس نئے قانون میں سیاہ فام لوگوں کو رہائش اور روزگار سے متعلق ہدایات تھیں۔

1958 میں منڈیلا نے ونی مادیکیزلا سے شادی کی جنھوں نے بعد میں اپنے شوہر کی قید سے رہائی کی مہم میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

اے این سی کو 1960 میں کالعدم قرار دے دیا گیا اور منڈیلا روپوش ہوگئے۔

نسل پرست حکومت کے خلاف ملک میں تناؤ مزید بڑھ گیا اور 1960 میں یہ اُس وقت انتہا کو پہنچ گیا جب پولیس نے 69 سیاہ فام افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

یہ واقعہ جنوبی افریقہ میں پُرامن مزاحمت کا خاتمہ ثابت ہوا۔ اس وقت اے این سی کے نائب صدر منڈیلا نے ملکی معیشت کے سبوتاژ کی مہم چلا دی۔

منڈیلا کو گرفتار کر لیا گیا اور ان پر سبوتاژ اور تشدد کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے الزامات عائد کیے گئے۔

ریوونیا کے کمرہ عدالت میں خود اپنا دفاع کرتے ہوئے منڈیلا نے جمہوریت، آزادی اور برابری کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ایک مثالی جمہوریت اور آزاد معاشرے کا خواہش مند ہوں، جس میں تمام لوگ ایک ساتھ امن سے زندگی بسر کریں اور انھیں ایک جیسے مواقع میسر ہوں‘۔

’یہ میرا تصور ہے جس کو مکمل کرنے کے لیے میں زندہ ہوں، لیکن اگر ضرورت پڑی تو اس کی خاطر مرنے کے لیے بھی تیار ہوں‘۔

1964 کے موسمِ سرما میں انھیں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔

1968 اور 1969 کے بارہ ماہ کے دوران منڈیلا کی والدہ کا انتقال ہوا اور ان کا بڑا بیٹا کار حادثے میں ہلاک ہوگیا، لیکن انھیں ان کی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔

انھیں اٹھارہ برس تک جزیرہ رابن کی جیل میں قید رکھا گیا اور پھر 1982 میں پولزمور جیل میں منتقل کیا گیا۔

منڈیلا اور اے این سی کے دیگر رہنماؤں کی قید اور جلا وطنی کے دوران جنوبی افریقہ کے سیاہ فام نوجوانوں نے سفید فام اقلیت کی حکومت کے خلاف لڑائی جاری رکھی۔

حکومت کی جانب سے نوجوانوں کے اس انقلاب کو دبانے کے دوران کئی لوگ ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

1980 میں اولیور تیمبو نے منڈیلا کو رہا کروانے کے لیے بین الاقوامی مہم کا آغاز کیا حالانکہ وہ خود جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔

بین الاقوامی برادری نے جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کے خلاف 1966 میں لگائی جانے والی پابندیوں کو مزید سخت کر دیا۔

اس دباؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1990 میں جنوبی افریقہ کے صدر ایف ڈبلیو ڈی کلارک نے اے این سی پر عائد پابندی ختم کر دی اور منڈیلا کو بھی رہا کر دیا۔ اس کے بعد جنوبی افریقہ میں ایک نئی مختلف النسل جمہوریت کے قیام کے لیے بات چیت شروع ہوئی۔

منڈیلا نے 1992 میں اپنی بیوی وِنی کو اغوا اور تشدد کے الزامات میں سزا ملنے کے بعد طلاق دے دی۔

دسمبر 1993 میں نیلسن منڈیلا اور ڈی کلارک کو امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

اس کے پانچ ماہ بعد جنوبی افریقہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوری الیکشن ہوئے، جس میں تمام نسلوں کے افراد نے ووٹ ڈالے اور منڈیلا کو صدر چن لیا گیا۔

انھیں اپنے اقتدار میں جو سب سے بڑے مسائل درپیش رہے ان میں غریب افراد کے لیے گھروں کی کمی اور شہروں میں پھیلتی ہوئی کچی آبادیاں تھیں۔

انھوں نے حکومتی معاملات اپنے نائب تھابو میبکی کو سونپے اور خود جنوبی افریقہ کی نئی بین الاقوامی ساکھ بنانے میں مصروف ہو گئے۔

وہ ملک میں موجود بین الاقوامی اداروں کو وہیں رہنے اور سرمایہ کاری کرنے کے لیے قائل کرنےمیں کامیاب ہو گئے۔

اپنی 80ویں سالگرہ پر نیلسن منڈیلا نے موزمبیق کے سابق صدر کی بیوہ سے شادی کی اور دنیا کے دورے جاری رکھے، اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور کانفرنسوں میں شرکت کی۔ عہدہ صدارت چھوڑنے کے بعد انھیں کئی اعزازات سے نوازا گیا۔

اپنی باقاعدہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ زیادہ تر عوامی اجتماعات میں اپنے فلاحی ادارے ’منڈیلا فاؤنڈیشن‘ کے لیے کام کی غرض سے نظر آتے تھے۔

نیلسن منڈیلا نے اپنی 89 ویں سالگرہ پر دنیا بھر کی نمایاں شخصیات پر مشتمل ایک گروپ ’دی ایلڈرز‘ قائم کیا تاکہ ’دنیا میں درپیش مشکل ترین مسائل سے نمٹنے کے لیے‘ ان افراد کی کی مہارت اور رہنمائی حاصل کی جا سکے۔

انھوں نے حالیہ برسوں میں جو سب سے بڑا کام کیا وہ دو ہزار پانچ میں ان کے بیٹے، ماکگاتھو، کی موت پر تھا۔

ایک ایسے ملک میں جہاں ایڈز جیسے وبائی مرض کے بارے میں بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے منڈیلا نے اعلان کیا کہ ان کے بیٹے کی موت ایڈز کی وجہ سے ہوئی اور جنوبی افریقہ کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ایڈز کے بارے میں اس طرح سے بات کریں کہ ’اسے ایک عام بیماری کی طرح سمجھا جائے‘۔

انھوں نے دو ہزار دس کے فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی جنوبی افریقہ کو دلوانے کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا اور اس کی اختتامی تقریب میں شرکت بھی کی۔

ہردلعزیز سیاسی مدبر

Image caption نیلسن منڈیلا اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کو اس قید خانے میں لے گئے جہاں وہ سترہ سال قید رہے تھے

نیلسن منڈیلا کے عالمی سیاسی مدبر ہونے کی شہرت کسی سے کم نہیں تھی۔ تاہم دنیا بھر کے مشاہیر کے ساتھ میل جول اور ہر جگہ سے عزت پانے کے باوجود ان کے اندر سیاسی تڑپ برقرار تھی۔

منڈیلا دنیا کے ہردلعزیز سیاست دان تھے۔ اس کی تصدیق ان کو ملنے والے متعدد انعامات، ایک سو سے زائد اعزازی ڈگریوں، اور دنیا بھر میں بڑی تعداد میں ان کے نام پر رکھے گئے سڑکوں، چوکوں، اور عمارتوں کے ناموں سے ہوتی ہے۔

منڈیلا بیسویں صدی کے آخری عشروں میں ’لبرل ازم‘ کی علامت تھے۔

عالمی رہنماؤں اور مائیکل جیکسن، ڈیوڈ بیکہم، محمد علی، یُو2، اور سپائس گرلز جیسی مشہور شخصیات ان کے ساتھ دیکھے جانے کی متمنی ہوا کرتی تھیں۔

وہ زبردست ذہانت اور رابطہ کاری کے ہنر کی مدد سے مثالیت اور حقیقت پسندی کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا جانتے تھے۔

اگرچہ سابق برطانوی وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر نے انھیں ’دہشت گرد‘ کہا تھا، لیکن انھوں نے جنوبی افریقہ کی سفید فام اقلیت کو شکست دینے کے بعد ان سے دریا دلی کے مظاہرے کے باعث دنیا کو ششدر کر دیا تھا۔

اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک وہ افریقہ بھر میں امن اور مفاہمت کے غیرمتزلزل عزم پر ثابت قدم رہے، اور ایچ آئی وی ایڈز، تعلیم اور غربت کے منصوبوں کے لیے بہتر فنڈنگ حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہے۔

مئی 1994 میں جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہونے کے چند ہفتوں کے اندر اندر ان کی سیاسی بصیرت دنیا بھر پر عیاں ہونے لگی تھی۔ انھوں نے اس موقعے پر اپنے ہم وطنوں سے کہا تھا کہ وہ ’دنیا اور خود اپنے آپ کے لیے امن کی قوسِ قزح بن دکھائیں۔‘

جنوبی افریقہ کی معیشت پر غالب سفید فام کاروبار نے عمومی طور پر منڈیلا کے تعمیرِ نو اور ترقی کے اس پروگرام کو خوش آمدید کہا جسے انھوں نے پارلیمان میں پیش کیا تھا۔

انھوں نے جنوبی افریقہ کی ٹریڈ یونین تنظیم کوساتو پر زور دیا کہ اپنے آپ کو آزادی کی تحریک سے تبدیل کر کے ایک ایسی تنظیم کے روپ میں ڈھال لیں جو ملک کی معاشی کامیابی کے لیے کام کرے۔

اس کے علاوہ انھوں نے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سفید فام افراد کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا، اور کنزرویٹیو پارٹی کی رہنما فرڈی ہارٹسن برگ سے اور جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خالق ہینڈرک فروُورٹ کی بیوہ بیٹسی فروُورٹ سے بھی ملاقاتیں کیں۔

Image caption مشہور شخصیات ان کے ساتھ دیکھے جانے کی متمنی ہوا کرتی تھیں

انھوں نے سفید فام جنگجوؤں کی زولو قوم کے ساتھ جنگ میں صلح کار کا کردار ادا کیا تھا۔

لیکن وہ شخص جسے ایک نسل کے برابر مدت تک خاموش رکھا گیا تھا، وہ عالمی سٹیج پر زیادہ آب و تاب سے چمکا۔

انھوں نے دنیا بھر کے دورے کیے جن کے دوران بڑے بڑے ہجوم ان کا والہانہ اسقتبال کیا کرتے تھے۔

نیلسن منڈیلا ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے جنھوں نے ایفریقن نیشنل کانگریس کی حمایت کی تھی۔ اسی ضمن میں انھوں نے کیوبا کا دورہ کر کے فیدل کاسترو سے ملاقات کی اور لیبیا میں معمر قذافی کے میزبان بنے۔

وہ سب کے لیے نرم خو اور مسحور کن تھے۔ ان کی ایک وجۂ شہرت وقت کی پابندی بھی تھی۔

وہ ممکنہ پریشان کن موقعوں سے بھی صفائی سے نمٹ لیتے تھے۔ جس کا ایک ثبوت 1990 میں مارگریٹ تھیچر کے ساتھ ان کی ملاقات ہے۔

افریقی اتحاد کی تنظیم، جسے اب افریقی یونین کہا جاتا ہے، کے تحت نیلسن منڈیلا نے کئی افریقی تنازعات میں صلح گر کا کردار ادا کیا۔ ان میں انگولا، برونڈی اور کانگو کے تنازعات شامل ہیں۔ تاہم ان کوششوں میں انھیں محدود کامیابی ملی۔

وہ 2003 میں عراق پر امریکہ کے حملے کے سرگرم مخالف تھے۔ انھوں نے امریکہ کے سابق صدر بش سینیئر کو فون کر کے کہا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو جنگ سے باز رکھیں۔

انھوں نے کہا تھا، ’میں ایسی طاقت کی مذمت کرتا ہوں جس کا صدر دوراندیشی کی صلاحیت سے عاری ہے، جو صحیح طریقے سے سوچ نہیں سکتا، اور جو دنیا کو تباہی میں جھونکنے پر تلا ہوا ہے۔‘

92 سال کی عمر میں بھی ان کی شہرت اور مقبولیت نے 2010 میں جنوبی افریقہ میں فٹ بال کا عالمی کپ منعقد کروانے میں مدد دی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جنوبی افریقہ میں کھیلوں کے اتنے پروقار مقابلوں کا انعقاد کیا گیا تھا۔

نجی زندگی میں’ناکامی‘

Image caption عہدۂ صدارت چھوڑنے کے بعد منڈیلا نے ایچ آئی وی/ ایڈز، محفوظ جنسی تعلقات، اور مریض کے لیے زیادہ بہتر علاج پر زیادہ تحقیق کے لیے جدوجہد شروع کر دی۔

نسلی امتیاز کے خلاف فتح نے نیلسن منڈیلا کو امید کی علامت اور دنیا میں ایک پہچان دی لیکن سیاسی مصروفیات کی وجہ سے ان کی ذاتی زندگی بہت متاثر ہوئی۔

نیلسن منڈیلا کی پہلی بیوی ’ایویلن‘ ایک نرس تھیں جو منڈیلا کے سیاسی دور اور بعد میں جیل کے ساتھی والٹر سیسولو کی رشتہ دار تھیں۔

منڈیلا نے ایویلن کے بارے میں بتایا کہ ’وہ قصبے کے رہنے والی ایک خاموش طبیعت اور اچھی لڑکی ہے‘۔

اس جوڑے نے سنہ 1944 میں شادی کی۔ ان کے چار بچے تھے لیکن ان کی سیاسی ذمہ داریوں اور رومانوی تعلقات نے ان کی ازدواجی زندگی کو شدید متاثر کیا۔

ایک موقع پر ایویلن نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے شوہر نے ان کی خانگی زندگی میں انھیں مسلسل دھوکہ دینا بند نہ کیا تو وہ ان پر اُبلتا ہوا پانی پھینک دیں گی۔

ایویلن کا مذہب سے جو لگاؤ تھا، منڈیلا کے لیے اسے برداشت کرنا مشکل تھا اس لیے پچاس کی دہائی میں یہ شادی اپنے انجام کو پہنچ گئی۔

ایویلن نے بعد میں شادی کر لی اور جیہووا کی گواہ بن گئیں۔ ایویلن اس یقین کے ساتھ سنہ 2004 میں انتقال کر گئیں کہ ’نیلسن صرف ایک انسان ہے لیکن پوری دنیا ان کی بھی پوجا کرتی ہے۔‘

تقریباً چار دہائیوں تک ونی میدیکیذلا نیلسن منڈیلا کی محبت کا محور رہیں، جو ترانسکئی کی رہنے والی ایک خوبرو سماجی کارکن تھیں۔ ان سے منڈیلا نے 1958 میں شادی کی۔

دونوں کے درمیان ایک جذباتی تعلق تھا لیکن روایتی ازدواجی زندگی مختصر ثابت ہوئی۔ شادی کے فوری بعد ہونے والے واقعات میں منڈیلا پہلے روپوش ہوئے، پھر پکڑے گئے، ان پر مقدمہ چلا اور پھر انھیں قید ہوگئی۔

چونکہ جدائی کے دوران ان کے شوہر نے شہرت پائی تھی، اس لیے ونی منڈیلا بھی ان کے ساتھ منسلک ہونے اور نسلی تفریق کے خلاف جدوجہد میں حصہ لینے کی وجہ سے ایک علامت بن گئیں اور ’مادرِ ملت‘ کے لقب سے مشہور ہوئیں۔

جب ان کے شوہر ملک میں امن قائم کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھے تو مسز منڈیلا کو گھر میں نظر بندی، باقاعدہ قید کی دھمکیوں اور ہراساں کیے جانے کا سامنا کرنا پڑا۔

نتیجتاً ونی نے جلد ہی مزاحمت کی راہ اختیار کر لی اور انھوں نے اپنے ساتھیوں اور محافظوں کا متنازع جتھا بنانا شروع کر دیا۔

ان کا منڈیلا یونائیٹڈ فٹبال کلب جو کہ اصل میں نوجوانوں کو سڑکوں سے دور رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا، قتل اور اغواء کے کئی مقدمات میں ملوث کر دیا گیا۔

فروری 1991 میں ان کے خلاف ایک ایسے طالبعلم کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا جو سنہ 1988 میں مارا گیا تھا۔

نیلسن منڈیلا اس دوران اپنی بیوی کا ساتھ دیتے رہے اور جب وہ اس مقدمے سے بری ہوگئیں تو اس کے فوراً بعد انھوں نے ایک دوسرے سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔

سنہ 1997 میں ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیئیشن کمیشن کی ایک سماعت کے دوران ونی منڈیلا نے اسٹومپی نامی طالبعلم کے قتل میں اپنے کردار کا دفاع کیا۔ اگرچہ آرچ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو کے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کرنے کے بعد انھوں نے مبہم الفاظ میں معافی مانگی جس میں انھوں نے صرف ان کے بقول ان تکلیف دہ سالوں کے بارے میں بات کی جب چیزیں خوفناک حد تک بگڑ گئی تھیں۔

جب نیلسن منڈیلا صدر بنے تو انھوں نے ونی کو کابینہ میں ایک نشست بھی دی۔

لیکن ونی پر پارٹی کے فنڈز کا غیر ضروری استعمال کرنے پر سوالات اُٹھتے رہے اور آخرکار منڈیلا نے ان کو بےوفا کہتے ہوئے 1996 میں طلاق دے دی۔

اے این سی سے تعلق رکھنے والے ان ساتھیوں سے جو اپنے پرتشدد ماضی سے جان چھڑانا چاہتے تھے، دوری اختیار کرنے کے بعد ونی، جو اس وقت ونی میڈیکیزیلا منڈیلا کے نام سے جانی جاتی تھیں، ایک اور تنازعے کی زد میں آئیں۔ انھیں ان کے بھگوڑے پن کی وجہ سے پارلیمانی فہرست سے خارج کردیا گیا اور ان کے خلاف فراڈ اور چوری کے الزام میں ایک اور مقدمہ چلا۔

انھوں نے دھوکہ دہی کرنے کا اقبالِ جرم کیا لیکن انھیں جیل نہیں بھیجا گیا۔

صدارت کے اولین برسوں میں منڈیلا کی چہیتی بیٹی زنزی نے ان کا بہت ساتھ دیا۔ اگرچہ انھوں نے دنیا کے دوروں میں اپنے والد کی نمائندگی کی، پھر بھی انھیں جنوبی افریقہ میں تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔

2003 میں عدالت نے زنزی اور ان کے شوہر کو حکم دیا کہ وہ بینک سے لیا گیا قرض واپس کریں جو تقریباً چھ لاکھ امریکی ڈالر بنتے تھے۔ یہ قرض لے کر انھوں نے موسیقی کے گروپ بوائز ٹو مین کے دورے پر خرچ کیے تھے، جسے کامیابی نہیں مل سکی تھی۔

نیلسن منڈیلا کا کہنا تھا کہ ’جب زندگی جدوجہد بن جائے تو خاندان کے لیے بہت کم وقت نکلتا ہے، اس بات پر مجھے ہمیشہ ہی شرمندگی ہوئی ہے۔‘

نیلسن منڈیلا نے سنہ 1998 میں اپنی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر تیسری شادی کی۔ اس مرتبہ ان کی پسند موزمبیق کے سابق صدر کی بیوہ گریکا مشیل تھیں۔

گریکا مشیل کے سابق شوہر سنہ 1996 میں جہاز کے ایک حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے جس کے بارے میں یہ افواہیں بھی سامنے آئی تھیں کہ یہ کام جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کے ایجنٹوں نے کیا ہے۔

اس کے باوجود شاید ان کے ماضی کی بنا پر گریکا مشیل کی یہی کوشش تھی کہ ان کی نئی ازدواجی زندگی روایتی طرز کی ہو۔

جب منڈیلا اپنے آخری برس اپنی عوامی ذمہ داریوں سے دور رہتے وسیع تر خاندان میں آسائش کے ساتھ گزار رہے تھے، ان کی بیوی نے یہ بات واضح کردی کہ انھوں نے ایک مشہور علامت سے نہیں بلکہ ایک آدمی سے شادی کی ہے۔

’میں نے انھیں انسان کے طور پر چاہا ہے۔ وہ ایک علامت تو ہیں لیکن فرشتے نہیں ہیں۔‘

اسی بارے میں