دس کھرب ڈالر کی عالمی تجارت کا معاہدہ طے پا گیا

Image caption عالمی تجارتی تنظیم کے سربراہ ربورٹو ازویدو کے مطابق سنہ 1995 میں تنظیم کے قیام کے بعد یہ پہلا جامع معاہدہ ہے

عالمی تجارتی تنظیم ’ڈبلیو ٹی او‘نے تجارت کو فروغ دینے کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا عالمی معاہدہ کیا ہے۔

انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں ہونے والے اس معاہدے کے تحت ماہرین کے مطابق عالمی معیشت میں دس کھرب ڈالر تک اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

بڑے ملکوں کے لمبے لمبے قرضے

اس معاہدے کے تحت تجارت کے طریقۂ کار کو سادہ بنایا گیا ہے جس میں غریب ممالک کو اپنا سامان فروخت کرنے میں آسانی ہو گی۔

بی بی سی کے معاشی امور کے نامہ نگار اینڈریو واکر کے مطابق یہ معاہدہ ڈبلیو ٹی او کے لیے بہت اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اسے نئے تجارتی معاہدے کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔

تاہم اس سے پہلے ترقی کے لیے کام کرنے کارکنوں نے معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکے گا۔

سنیچر کی صبح 159 ممالک کے وزرائے تجارت کے درمیان طویل بات چیت کے بعد اس معاہدے پر اتفاق ہوا۔

کیوبا نے یہ کہتے ہوئے معاہدے کو مسترد کرنے کی دھمکی دی تھی کہ اس میں امریکہ پر کیوبا کے خلاف عائد تجارتی پابندیاں ختم کرنے پر زیادہ زور نہیں دیا گیا تاہم بعد میں کیوبا معاہدے کے متن پر رضامند ہو گیا۔

عالمی تجارتی تنظیم کے سربراہ ربورٹو ازویدو کے مطابق سنہ 1995 میں تنظیم کے قیام کے بعد یہ پہلا جامع معاہدہ ہے۔

انھوں نے کہا: ’تاریخ میں پہلی بار ہم نے کچھ کر دکھایا ہے، اس بار تمام قیادت ایک ساتھ اکٹھی ہوئی اور ہم دنیا کو واپس ڈبلیو ٹی او میں لے آئے۔‘

اس معاہدے کے نتیجے میں غریب ممالک کے لیے اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں میں فروخت کرنے میں حائل رکاوٹیں کم ہوں گی۔

اس کے علاوہ ترقی پذیر ممالک کو خوراک کی فراہمی کو محفوظ بنانے میں رعایت دینے میں بھی گنجائش ملے گی۔

خوراک کے تحفظ کے معاملے پر معاہدہ طے پانے سے پہلے کافی بحث ہوئی تھی۔

اسی بارے میں