جنوبی افریقہ میں منڈیلا کے لیے ’یومِ عبادت‘

منڈیلا کے لیے ملک بھر میں ’یومِ عبادت‘

Image caption جنوبی افریقہ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ اتوار کو تدفین سے قبل نیلسن منڈیلا کے جسدِ خاکی کا جلوس بدھ، جمعرات اور جمعے کو دارالحکومت پریٹوریا کی سڑکوں پر گشت کرے گا

نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کی علامت بننے والے نیلسن مینڈیلا کی یاد میں آج جنوبی افریقہ میں یومِ عبادت و سوگ منایا جا رہا ہے۔

صدر جیکب زوما جوہانسبرگ میں ایک گرجا گھر میں سروس میں شریک ہوں گے اور دن بھر مختلف مذاہب کی جانب سے خصوصی عبادات کے پروگرام بنائے گئے ہیں۔

منگل کو ایک قومی میموریل سروس رکھی گئی ہے اور 15 دسمبر کو ریاستی اعزاز کے ساتھ آخری رسومات کا اعلان کیا گیا ہے۔

سنیچر کو اعلان کیا گیا تھا کہ منگل کی میموریل سروس میں امریکی صدر براک اوباما، ان کی اہلیہ اور تین سابق امریکی صدور جارج بش، بل کلنٹن اور جمی کارٹر بھی شریک ہوں گے۔

جوہانسبرگ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مائیک وولرج کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ نے ایسا جنازہ پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا جس میں عالمی رہنما، اہم شخصیات اور دنیا بھر سے سابق صدر کے مداح بڑی تعداد میں شریک ہوں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس جنازے کا انعقاد جنوبی افریقی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ نیلسن منڈیلا کی جائے تدفین کونو ایک دوردراز علاقہ ہے۔

منڈیلا کے انتقال پر جنوبی افریقہ کے علاوہ دنیا کے اکثر ملکوں میں قومی سوگ کا اعلان کیا گیا تھا اور کئی ممالک کے پرچم اس عظیم رہنما کی موت پر سرنگوں ہیں۔

آسٹریلیا سے امریکہ تک تقریباً ہر ملک کی طرف سے نیلسن مینڈیلا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے اور عالمی رہنماؤں نے جنوبی افریقہ کے عوام اور حکومت کو تعزیتی پیغامات بھیجے۔

صدر زوما نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اتوار کے روز کھیل کے میدانوں، ہالوں اور مذہبی مراکز میں جا کر اپنے سابق رہنما کو یاد کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آزادی کا جذبہ زندہ رکھنے والے اس شاندار رہنما کی زندگی کا جشن منانے کے لیے ہمیں سوگ کے ساتھ ساتھ بلند ترین آواز میں گانا بھی چاہیے، رقص کرنا چاہیے بلکہ جو چاہتے ہیں کرنا چاہیے۔ آئیے ہم مدیبا کے لیے گائیں۔‘

ادھر جنوبی افریقہ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ اتوار کو تدفین سے قبل نیلسن منڈیلا کے جسدِ خاکی کا جلوس بدھ، جمعرات اور جمعے کو دارالحکومت پریٹوریا کی سڑکوں پر گشت کرے گا۔

حکام نے عوام سے کہا ہے کہ وہ اپنے عظیم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جلوس کے راستے کے دونوں جانب جمع ہوں۔

جوہانسبرگ سے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وہاں مکمل طور پر غم اور رنج کی فضا نہیں پائی جاتی۔

جوہانسبرگ کے اس علاقے جہاں نیلسن منڈیلا کی رہائش گاہ واقع ہے ہزاروں لوگ سڑکوں پر جمع رہے اور بہت سے لوگ اپنے محبوب لیڈر کو ایک کامیاب زندگی گزارنے پر رقص کر کے اور گانے گا کر خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے جیمز رابنز کا کہنا ہے کہ اگرچہ کئئ شہروں اور قصبوں میں لوگوں کے ہجوم جمع ہیں، حکام کی کوشش ہے کہ دور دراز علاقوں کے لوگ بھی ان تقریبات میں شریک ہو سکیں۔

منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کی اور اس کے لیے انہوں نے 27 سال جیل میں گزارے تھے۔ 1994 میں رہائی کے بعد وہ ملک کے پہلے سیاہ فام صدر بنے۔

وہ طویل عرصے سے پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا تھے اور اسی عارضے میں جمعرات کی رات مقامی وقت کے مطابق نو بجے 95 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

نیلسن منڈیلا کو بابائے جمہوری جنوبی افریقہ کہا جاتا ہے اور جنوبی افریقہ میں انھیں احترام سے ’مادیبا‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ انھیں دنیا بھر میں مفاہمت اور راوداری کی علامت تصور کیے جانے والے رہنما بنے۔

ایک مرتبہ ایک انٹرویو کے دوران ان سے سوال کیا گیا کہ وہ کیا چاہیں گے کہ لوگ انھیں کس طرح یاد کریں، تو نیلسن منڈیلا کا جواب تھا کہ ’میں چاہوں گا کہ لوگ کہیں ایک ایسا شخص تھا جس نے دنیا میں اپنا فرض نبھایا۔‘

پرورش سے نوبیل انعام تک

Image caption نیلسن مینڈیلا جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر بنے

نیلسن منڈیلا جدید دنیا کے قابلِ احترام حکمرانوں میں سے ایک تھے۔ انھوں نے جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کو مختلف النسل جمہوریت میں تبدیل کرنے کی جدوجہد کی قیادت کی۔

وہ 27 سال قید کاٹنے کے بعد ملک کے پہلے سیاہ فام صدر بنے۔ انھوں نے جنگ زدہ علاقوں میں قیامِ امن کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔

اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کے باوجود ان میں بالکل تلخی نہیں تھی۔

1999 میں صدارت چھوڑنے کے بعد نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کے اعلیٰ ترین سفیر بن گئے۔ انھوں نے ایچ آئی وی/ایڈز کے خلاف مہم چلائی اور اپنے ملک کو 2010 کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔

2001 میں نیلسن منڈیلا میں مثانے کے غدود کے کینسر کی تشخیص ہوئی لیکن وہ جمہوریہ کانگو، برونڈی اور دوسرے افریقی ممالک کے امن مذاکرات میں بھی شامل رہے۔

انھوں نے دنیا کے دوسرے علاقوں میں بھی امن کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی۔

2004 میں 85 برس کی عمر میں انھوں نے عوامی زندگی سے ریٹائرمنٹ لے لی تاکہ وہ اپنے خاندان والوں اور دوستوں کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکیں۔

نیلسن منڈیلا 1918 میں کوسا زبان بولنے والے تھیمبو قبیلے میں پیدا ہوئے جو جنوبی افریقہ کے مشرقی حصے میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں آباد ہے۔ جنوبی افریقہ میں انھیں ان کے خاندانی نام ’مادیبا‘ سے پکارتے تھے۔

ان کا پیدائشی نام رولیہلا ہلا تھا جبکہ ان کے ایک استاد نے ان کا انگریزی نام ’نیلسن‘ رکھا۔

Image caption پیشے کے لحاظ سے مینڈیلا ایک وکیل تھے

جب نیلسن نو برس کے تھے تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ وہ تھمیبو شاہی خاندان کے مشیر تھے۔ والد کے انتقال کے بعد شاہی خاندان کے بادشاہ، جونگن تابا دلن دائبو، نے نیلسن کو تھمیبو لوگوں کے قائم مقام مشیر کی سرپرستی میں دے دیا۔

نیلسن منڈیلا نے 1943 میں افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) میں شمولیت اختیار کی۔ پہلے وہ صرف ایک کارکن تھے تاہم بعد میں وہ اے این سی یوتھ لیگ کے بانی اور صدر بنے۔

قید کے کئی برسوں کے بعد بھی وہ اس تنظیم کے صدر رہے۔

انھوں نے 1944 میں پہلی شادی ایویلن میسی سے کی لیکن 1957 میں ان کی طلاق ہوگئی۔ اس شادی سے ان کے تین بچے ہوئے۔

منڈیلا نے وکالت پڑھی اور 1952 میں اپنے ساتھی اولیور تیمبو کے ساتھ مل کر جوہانسبرگ میں دفتر کھول کر پریکٹس شروع کی۔

منڈیلا نے اپنے دوست تیمبو کے ساتھ مل کر نسل پرستی کے اس نظام کے خلاف مہم چلائی جسے سفید فام افراد پر مشتمل جماعت نیشنل پارٹی نے وضع کیا تھا اور جس سے سیاہ فام اکثریت کا استحصال ہو رہا تھا۔

1956 میں منڈیلا اور 155 دیگر کارکنوں پر غداری کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ مقدمہ چار سال چلا اور اس کے بعد یہ الزامات خارج کر دیے گئے۔

نسل پرستی کے خلاف مزاحمت اس وقت بڑھی جب ملک میں ایک نیا قانون بنا۔ اس نئے قانون میں سیاہ فام لوگوں کو رہائش اور روزگار سے متعلق ہدایات تھیں۔

1958 میں منڈیلا نے ونی مادیکیزلا سے شادی کی جنھوں نے بعد میں اپنے شوہر کی قید سے رہائی کی مہم میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

اے این سی کو 1960 میں کالعدم قرار دے دیا گیا اور منڈیلا روپوش ہوگئے۔

نسل پرست حکومت کے خلاف ملک میں تناؤ مزید بڑھ گیا اور 1960 میں یہ اُس وقت انتہا کو پہنچ گیا جب پولیس نے 69 سیاہ فام افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

یہ واقعہ جنوبی افریقہ میں پُرامن مزاحمت کا خاتمہ ثابت ہوا۔ اس وقت اے این سی کے نائب صدر منڈیلا نے ملکی معیشت کے سبوتاژ کی مہم چلا دی۔

منڈیلا کو گرفتار کر لیا گیا اور ان پر سبوتاژ اور تشدد کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے الزامات عائد کیے گئے۔

ریوونیا کے کمرہ عدالت میں خود اپنا دفاع کرتے ہوئے منڈیلا نے جمہوریت، آزادی اور برابری کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ایک مثالی جمہوریت اور آزاد معاشرے کا خواہش مند ہوں، جس میں تمام لوگ ایک ساتھ امن سے زندگی بسر کریں اور انھیں ایک جیسے مواقع میسر ہوں‘۔

’یہ میرا تصور ہے جس کو مکمل کرنے کے لیے میں زندہ ہوں، لیکن اگر ضرورت پڑی تو اس کی خاطر مرنے کے لیے بھی تیار ہوں‘۔

1964 کے موسمِ سرما میں انھیں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔

1968 اور 1969 کے بارہ ماہ کے دوران منڈیلا کی والدہ کا انتقال ہوا اور ان کا بڑا بیٹا کار حادثے میں ہلاک ہوگیا، لیکن انھیں ان کی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔

انھیں اٹھارہ برس تک جزیرہ رابن کی جیل میں قید رکھا گیا اور پھر 1982 میں پولزمور جیل میں منتقل کیا گیا۔

منڈیلا اور اے این سی کے دیگر رہنماؤں کی قید اور جلا وطنی کے دوران جنوبی افریقہ کے سیاہ فام نوجوانوں نے سفید فام اقلیت کی حکومت کے خلاف لڑائی جاری رکھی۔

حکومت کی جانب سے نوجوانوں کے اس انقلاب کو دبانے کے دوران کئی لوگ ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

1980 میں اولیور تیمبو نے منڈیلا کو رہا کروانے کے لیے بین الاقوامی مہم کا آغاز کیا حالانکہ وہ خود جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔

بین الاقوامی برادری نے جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کے خلاف 1966 میں لگائی جانے والی پابندیوں کو مزید سخت کر دیا۔

اس دباؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1990 میں جنوبی افریقہ کے صدر ایف ڈبلیو ڈی کلارک نے اے این سی پر عائد پابندی ختم کر دی اور منڈیلا کو بھی رہا کر دیا۔ اس کے بعد جنوبی افریقہ میں ایک نئی مختلف النسل جمہوریت کے قیام کے لیے بات چیت شروع ہوئی۔

منڈیلا نے 1992 میں اپنی بیوی وِنی کو اغوا اور تشدد کے الزامات میں سزا ملنے کے بعد طلاق دے دی۔

دسمبر 1993 میں نیلسن منڈیلا اور ڈی کلارک کو امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

اس کے پانچ ماہ بعد جنوبی افریقہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوری الیکشن ہوئے، جس میں تمام نسلوں کے افراد نے ووٹ ڈالے اور منڈیلا کو صدر چن لیا گیا۔

انھیں اپنے اقتدار میں جو سب سے بڑے مسائل درپیش رہے ان میں غریب افراد کے لیے گھروں کی کمی اور شہروں میں پھیلتی ہوئی کچی آبادیاں تھیں۔

انھوں نے حکومتی معاملات اپنے نائب تھابو میبکی کو سونپے اور خود جنوبی افریقہ کی نئی بین الاقوامی ساکھ بنانے میں مصروف ہو گئے۔

وہ ملک میں موجود بین الاقوامی اداروں کو وہیں رہنے اور سرمایہ کاری کرنے کے لیے قائل کرنےمیں کامیاب ہو گئے۔

Image caption نیلسن مینڈیلا کئی سال تک جنوبی افریقہ کی بین الاقوامی ساکھ بنانے میں مصروف رہے

اپنی 80ویں سالگرہ پر نیلسن منڈیلا نے موزمبیق کے سابق صدر کی بیوہ سے شادی کی اور دنیا کے دورے جاری رکھے، اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور کانفرنسوں میں شرکت کی۔ عہدہ صدارت چھوڑنے کے بعد انھیں کئی اعزازات سے نوازا گیا۔

اپنی باقاعدہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ زیادہ تر عوامی اجتماعات میں اپنے فلاحی ادارے ’منڈیلا فاؤنڈیشن‘ کے لیے کام کی غرض سے نظر آتے تھے۔

نیلسن منڈیلا نے اپنی 89 ویں سالگرہ پر دنیا بھر کی نمایاں شخصیات پر مشتمل ایک گروپ ’دی ایلڈرز‘ قائم کیا تاکہ ’دنیا میں درپیش مشکل ترین مسائل سے نمٹنے کے لیے‘ ان افراد کی کی مہارت اور رہنمائی حاصل کی جا سکے۔

انھوں نے حالیہ برسوں میں جو سب سے بڑا کام کیا وہ دو ہزار پانچ میں ان کے بیٹے، ماکگاتھو، کی موت پر تھا۔

ایک ایسے ملک میں جہاں ایڈز جیسے وبائی مرض کے بارے میں بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے منڈیلا نے اعلان کیا کہ ان کے بیٹے کی موت ایڈز کی وجہ سے ہوئی اور جنوبی افریقہ کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ایڈز کے بارے میں اس طرح سے بات کریں کہ ’اسے ایک عام بیماری کی طرح سمجھا جائے‘۔

انھوں نے دو ہزار دس کے فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی جنوبی افریقہ کو دلوانے کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا اور اس کی اختتامی تقریب میں شرکت بھی کی۔

اسی بارے میں