جنوبی کوریا کا فضائی دفاعی زون میں توسیع کا اعلان

Image caption جنوبی کوریا کے اس وسیع زون کا نفاذ 15 دسمبر سے ہوگا

جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ وہ اپنے فضائی د‌فاعی حدود میں توسیع کرنے جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ حال ہی میں اسی طرح کا اعلان چین نے بھی کیا ہے اور اب اس اعلان سے دونوں ممالک کی فضائی حدود ایک دوسرے میں دخل کے زمرے میں آتی ہیں۔

اس اعلان کے بعد، ایک چٹان اب ایسی ہے جو دونوں ممالک کی فضائی دفاعی حدود میں آتی ہے۔ اس پر دونوں ممالک دعوی کرتے ہیں لیکن اس پر جنوبی کوریا کا قبضہ ہے۔ اس چٹان کو جنوبی کوریا میں ’لیوڈو‘ کہا جاتا ہے جبکہ چینی اسے ’سویان‘ کہتے ہیں اور اس پر دونوں ممالک کا دعوی ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ وہ متعلقہ ممالک سے تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس سے قبل چین نے گذشتہ مہینے نئی فضائی دفاعی حدود کی نشاندہی زون کا اعلان کیا تھا جو کہ علاقائی تنازعات کا باعث بنی۔

جنوبی کوریا کی اس وسیع تر زون کا نفاذ 15 دسمبر سے ہوگا۔

سنہ 1951 کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب جنوبی کوریا نے اپنے فضائی دفاعی زون کا از سر نو تعین کیا ہے۔ اس سے قبل امریکی فوج نے ہی دونوں کوریا کی جنگ کے دوران اس کا تعین کیا تھا۔

بحیرۂ مشرقی چین میں ایسے جزائر بھی شامل ہیں جن پر جاپان کی عمل داری اور دعویداری ہے جب کہ چین کا کہنا ہے کہ جو جہاز بھی اس کی فضائی حدود میں داخل ہوگا اسے اس کے قوانین کی پابندی کرنی ہوگی یا چین کی طرف سے ’ایمرجنسی دفاعی اقدامات‘ کا سامنا کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا نے چین کے فضائی دفاعی اعلان کی مخالفت کی ہے اور انھوں نے غیر اعلانیہ طور پر ان حدود میں اپنے فوجی طیارے بھیجے تھے۔

جنوبی کوریائی وزارت دفاع کے ترجمان کم من سیؤک نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم متعلقہ ممالک سے تعاون کریں گے تاکہ جنگی تصادم سے محفوظ رہا جا سکے اور طیاروں کی حفاظت کی یقین دہانی ہو۔‘

اس سے قبل گذشتہ ہفتے امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نے ایشیا کا دورہ شروع کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو چین کی طرف سے نئی دفاعی فضائی حد بندی پر ’انتہائی تشویش‘ ہے۔

اسی بارے میں