منڈیلا کی آخری رسومات، متعدد سربراہانِ مملکت کی شرکت متوقع

Image caption نیسلن منڈیلا کی یاد میں اتوار کو جنوبی افریقہ میں یومِ عبادت و سوگ منایا گیا

منڈیلا کی آخری رسومات، متعدد سربراہانِ مملکت کی شرکت متوقع

جنوبی افریقہ میں حکام کا کہنا ہے کہ سابق صدر نیلسن منڈیلا کی آخری رسومات میں 60 سربراہانِ مملکت شرکت کریں گے۔

امریکی صدر براک اوباما، فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند اور برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون بھی منگل کے روز ہونے والی میموریل سروس میں شریک ہوں گے۔

نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کی علامت: خصوصی ضمیمہ

پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق صدر ممنون حسین بھی نیلسن منڈیلا کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے جنوبی افریقہ روانہ ہوگئے ہیں۔

نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کی علامت بننے والے نیلسن منڈیلا کی یاد میں جنوبی افریقہ میں اتوار کو یومِ عبادت و سوگ بھی منایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ پیر کو جنوبی افریقی پارلیمان کا ایک خصوصی اجلاس بھی رکھا گیا ہے جس کا مقصد منڈیلا کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔

جنوبی افریقہ میں لاکھوں افراد نے نیلسن منڈیلا کے لیے دعائیہ تقریبات میں شرکت کی اور مختلف مذاہب کی جانب سے خصوصی عبادات کی گئی ہیں جن کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کی اور اس کے لیے انھوں نے 27 سال جیل میں گزارے۔ 1994 میں رہائی کے بعد وہ ملک کے پہلے سیاہ فام صدر بنے۔

وہ طویل عرصے سے پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا تھے اور اسی عارضے میں جمعرات کی رات مقامی وقت کے مطابق نو بجے 95 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

Image caption صدر اوباما نیسلن منڈیلا کی آخری رسومات میں اپنی اہلیہ میشل اوباما کے ساتھ شرکت کریں گے

نیلسن منڈیلا کی سابقہ اہلیہ مادیکزیلا منڈیلا نے بھی جوہانسبرگ میں برینسٹن میتھوڈسٹ چرچ میں عبادت کی جہاں صدر جیکب زوما نے سوگواران سے کہا کہ انھیں وہ عقائد بھولنے نہیں چاہییں جن کے لیے منڈیلا نے تحریک چلائی۔

آئندہ آٹھ روز میں جنوبی افریقہ کو سفید فام اقلیتی حکومت سے نکالنے والے نیلسن منڈیلا کی یاد میں متعدد تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔

بین الاقوامی رہنما اور عالمی معروف شخصیات جنوبی افریقہ کے تقریباً 95 ہزار عام شہریوں کے ساتھ مل کر سویتو کے ایف این بی سٹیڈیم میں نیلسن منڈیلا کی میموریل سروس میں شرکت کریں گی۔ نیلسن منڈیلا سنہ 2010 میں ہونے والے عالمی فٹبال کپ کے موقع پر اسی سٹیڈیم میں آخری بار کسی بڑے عوامی اجتماع میں شریک ہوئے تھے۔

امکان ہے کہ نیلسن منڈیلا کی میموریل سروس کا اجتماع حالیہ سالوں میں عالمی معروف شخصیات کے بڑے اجتماعات میں سے ایک ہوگا۔

امریکہ کے تین سابق صدور جارج ڈبلیو بش، بل کلنٹن اور جمی کارٹر بھی میموریل سروس میں شرکت کریں گے۔

برازیل کی صدر جیلما روسیف، فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور بھارت کے صدر پرناب مکھر جی بھی نیلسن منڈیلا کی آخری رسومات میں موجود ہوں گے۔ تاہم ایران کے صدر حسن روحانی نے اب تک اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا وہ سروس میں شرکت کے لیے سفر کریں گے یا نہیں۔

نسل پرستی کے خلاف تحریک میں شریک عالمی معرف شخصیات، پیٹر گیبریل اور بونو کی بھی میموریل میں شرکت متوقع ہے۔ مارتی آہتساری جیسے سابق رہنماؤں کی بھی آمد متوقع ہے۔ مارتی اور نیلسن منڈیلا ’دی ایلڈرز‘ نامی گروپ میں انسانی حقوق اور امن کے فروغ کے لیے کام کیا تھا۔

نیلسن منڈیلا کے جسدِ خاکی کو تین دن تک پریٹوریا میں رکھا جائے گا اور اتوار، 15 دسمبر کو سرکاری سطح پر ان کی آخری رسومات ادا کر دی جائیں گی۔

ایسٹرن کیپ کے گاؤں کینو میں ان کی تدفین کے موقع پر کم تعداد میں عالمی شخصیات موجود ہوں گی جن میں ویلز کے شہزادے بھی شامل ہوں گے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں نیلسن منڈیلا نے اپنا پچپن گزارا۔

ہمارے نامہ نگار مائک ووڈ ریج کے مطابق اگر ایک طرف منگل کو ہونے والے میموریل سروس کا اہتمام کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا تو دوسری طرف سرکاری سطح پر اتوار کو مینڈیلا کی آخری رسومات کا انتظام بھی انتہائی مشکل ہوگا کیونکہ جہاں پر یہ رسومات ادا کی جائیں گی وہ ایک دور دراز علاقہ ہے۔

شاہی پرورش سے نوبیل انعام تک

Image caption نیلسن مینڈیلا جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر بنے

نیلسن منڈیلا جدید دنیا کے قابلِ احترام حکمرانوں میں سے ایک تھے۔ انھوں نے جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کو مختلف النسل جمہوریت میں تبدیل کرنے کی جدوجہد کی قیادت کی۔

وہ 27 سال قید کاٹنے کے بعد ملک کے پہلے سیاہ فام صدر بنے۔ انھوں نے جنگ زدہ علاقوں میں قیامِ امن کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔

اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کے باوجود ان میں بالکل تلخی نہیں تھی۔

1999 میں صدارت چھوڑنے کے بعد نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کے اعلیٰ ترین سفیر بن گئے۔ انھوں نے ایچ آئی وی/ایڈز کے خلاف مہم چلائی اور اپنے ملک کو 2010 کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔

2001 میں نیلسن منڈیلا میں مثانے کے غدود کے کینسر کی تشخیص ہوئی لیکن وہ جمہوریہ کانگو، برونڈی اور دوسرے افریقی ممالک کے امن مذاکرات میں بھی شامل رہے۔

انھوں نے دنیا کے دوسرے علاقوں میں بھی امن کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی۔

2004 میں 85 برس کی عمر میں انھوں نے عوامی زندگی سے ریٹائرمنٹ لے لی تاکہ وہ اپنے خاندان والوں اور دوستوں کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکیں۔

نیلسن منڈیلا 1918 میں کوسا زبان بولنے والے تھیمبو قبیلے میں پیدا ہوئے جو جنوبی افریقہ کے مشرقی حصے میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں آباد ہے۔ جنوبی افریقہ میں انھیں ان کے خاندانی نام ’مادیبا‘ سے پکارتے تھے۔

ان کا پیدائشی نام رولیہلا ہلا تھا جبکہ ان کے ایک استاد نے ان کا انگریزی نام ’نیلسن‘ رکھا۔

جب نیلسن نو برس کے تھے تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ وہ تھمیبو شاہی خاندان کے مشیر تھے۔ والد کے انتقال کے بعد شاہی خاندان کے بادشاہ، جونگن تابا دلن دائبو، نے نیلسن کو تھمیبو لوگوں کے قائم مقام مشیر کی سرپرستی میں دے دیا۔

نیلسن منڈیلا نے 1943 میں افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) میں شمولیت اختیار کی۔ پہلے وہ صرف ایک کارکن تھے تاہم بعد میں وہ اے این سی یوتھ لیگ کے بانی اور صدر بنے۔

قید کے کئی برسوں کے بعد بھی وہ اس تنظیم کے صدر رہے۔

انھوں نے 1944 میں پہلی شادی ایویلن میسی سے کی لیکن 1957 میں ان کی طلاق ہوگئی۔ اس شادی سے ان کے تین بچے ہوئے۔

منڈیلا نے وکالت پڑھی اور 1952 میں اپنے ساتھی اولیور تیمبو کے ساتھ مل کر جوہانسبرگ میں دفتر کھول کر پریکٹس شروع کی۔

منڈیلا نے اپنے دوست تیمبو کے ساتھ مل کر نسل پرستی کے اس نظام کے خلاف مہم چلائی جسے سفید فام افراد پر مشتمل جماعت نیشنل پارٹی نے وضع کیا تھا اور جس سے سیاہ فام اکثریت کا استحصال ہو رہا تھا۔

1956 میں منڈیلا اور 155 دیگر کارکنوں پر غداری کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ مقدمہ چار سال چلا اور اس کے بعد یہ الزامات خارج کر دیے گئے۔

نسل پرستی کے خلاف مزاحمت اس وقت بڑھی جب ملک میں ایک نیا قانون بنا۔ اس نئے قانون میں سیاہ فام لوگوں کو رہائش اور روزگار سے متعلق ہدایات تھیں۔

1958 میں منڈیلا نے ونی مادیکیزلا سے شادی کی جنھوں نے بعد میں اپنے شوہر کی قید سے رہائی کی مہم میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

اے این سی کو 1960 میں کالعدم قرار دے دیا گیا اور منڈیلا روپوش ہوگئے۔

نسل پرست حکومت کے خلاف ملک میں کشیدگی مزید بڑھ گئی اور 1960 میں یہ اُس وقت انتہا کو پہنچ گیا جب پولیس نے 69 سیاہ فام افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

یہ واقعہ جنوبی افریقہ میں پُرامن مزاحمت کا خاتمہ ثابت ہوا۔ اس وقت اے این سی کے نائب صدر منڈیلا نے ملکی معیشت کے سبوتاژ کی مہم چلا دی۔

منڈیلا کو گرفتار کر لیا گیا اور ان پر سبوتاژ اور تشدد کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے الزامات عائد کیے گئے۔

ریوونیا کے کمرہ عدالت میں خود اپنا دفاع کرتے ہوئے منڈیلا نے جمہوریت، آزادی اور برابری کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ایک مثالی جمہوریت اور آزاد معاشرے کا خواہش مند ہوں، جس میں تمام لوگ ایک ساتھ امن سے زندگی بسر کریں اور انھیں ایک جیسے مواقع میسر ہوں‘۔

Image caption پیشے کے لحاظ سے منڈیلا ایک وکیل تھے

’یہ میرا تصور ہے جس کو مکمل کرنے کے لیے میں زندہ ہوں، لیکن اگر ضرورت پڑی تو اس کی خاطر مرنے کے لیے بھی تیار ہوں۔‘

1964 کے موسمِ سرما میں انھیں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔

1968 اور 1969 کے 12 ماہ کے دوران منڈیلا کی والدہ کا انتقال ہوا اور ان کا بڑا بیٹا کار حادثے میں ہلاک ہوگیا، لیکن انھیں ان کی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔

انھیں 18 برس تک جزیرہ رابن کی جیل میں قید رکھا گیا اور پھر 1982 میں پولزمور جیل میں منتقل کیا گیا۔

منڈیلا اور اے این سی کے دیگر رہنماؤں کی قید اور جلا وطنی کے دوران جنوبی افریقہ کے سیاہ فام نوجوانوں نے سفید فام اقلیت کی حکومت کے خلاف لڑائی جاری رکھی۔

حکومت کی جانب سے نوجوانوں کے اس انقلاب کو دبانے کے دوران کئی لوگ ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

1980 میں اولیور تیمبو نے منڈیلا کو رہا کروانے کے لیے بین الاقوامی مہم کا آغاز کیا حالانکہ وہ خود جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔

بین الاقوامی برادری نے جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کے خلاف 1966 میں لگائی جانے والی پابندیوں کو مزید سخت کر دیا۔

اس دباؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1990 میں جنوبی افریقہ کے صدر ایف ڈبلیو ڈی کلارک نے اے این سی پر عائد پابندی ختم کر دی اور منڈیلا کو بھی رہا کر دیا۔ اس کے بعد جنوبی افریقہ میں ایک نئی مختلف النسل جمہوریت کے قیام کے لیے بات چیت شروع ہوئی۔

منڈیلا نے 1992 میں اپنی بیوی وِنی کو اغوا اور تشدد کے الزامات میں سزا ملنے کے بعد طلاق دے دی۔

دسمبر 1993 میں نیلسن منڈیلا اور ڈی کلارک کو امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

اس کے پانچ ماہ بعد جنوبی افریقہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوری الیکشن ہوئے، جس میں تمام نسلوں کے افراد نے ووٹ ڈالے اور منڈیلا کو صدر چن لیا گیا۔

انھیں اپنے اقتدار میں جو سب سے بڑے مسائل درپیش رہے ان میں غریب افراد کے لیے گھروں کی کمی اور شہروں میں پھیلتی ہوئی کچی آبادیاں تھیں۔

انھوں نے حکومتی معاملات اپنے نائب تھابو میبکی کو سونپے اور خود جنوبی افریقہ کی نئی بین الاقوامی ساکھ بنانے میں مصروف ہو گئے۔

وہ ملک میں موجود بین الاقوامی اداروں کو وہیں رہنے اور سرمایہ کاری کرنے کے لیے قائل کرنےمیں کامیاب ہو گئے۔

اپنی 80ویں سالگرہ پر نیلسن منڈیلا نے موزمبیق کے سابق صدر کی بیوہ سے شادی کی اور دنیا کے دورے جاری رکھے، اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور کانفرنسوں میں شرکت کی۔ عہدہ صدارت چھوڑنے کے بعد انھیں کئی اعزازات سے نوازا گیا۔

اپنی باقاعدہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ زیادہ تر عوامی اجتماعات میں اپنے فلاحی ادارے ’منڈیلا فاؤنڈیشن‘ کے لیے کام کی غرض سے نظر آتے تھے۔

نیلسن منڈیلا نے اپنی 89 ویں سالگرہ پر دنیا بھر کی نمایاں شخصیات پر مشتمل ایک گروپ ’دی ایلڈرز‘ قائم کیا تاکہ ’دنیا میں درپیش مشکل ترین مسائل سے نمٹنے کے لیے‘ ان افراد کی کی مہارت اور رہنمائی حاصل کی جا سکے۔

انھوں نے حالیہ برسوں میں جو سب سے بڑا کام کیا وہ 2005 میں ان کے بیٹے ماکگاتھو کی موت پر تھا۔

ایک ایسے ملک میں جہاں ایڈز جیسے مرض کے بارے میں بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے، منڈیلا نے اعلان کیا کہ ان کے بیٹے کی موت ایڈز کی وجہ سے ہوئی اور جنوبی افریقہ کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ایڈز کے بارے میں اس طرح سے بات کریں کہ ’اسے ایک عام بیماری کی طرح سمجھا جائے۔‘

انھوں نے 2010 کے فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی جنوبی افریقہ کو دلوانے کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اس کی اختتامی تقریب میں شرکت بھی کی تھی۔

اسی بارے میں