تھائی وزیرِاعظم کا الیکشن سے قبل مستعفی ہونے سے انکار

Image caption وزیراعظم ینگ لک شیناواترا نے سنہ 2011 میں انتخابات جیتے تھے

تھائی لینڈ کی وزیرِاعظم ینگ لک شیناواترا نے حکومت مخالف مظاہرین کی جانب سے فروری میں قبل از وقت انتخابات سے قبل مستعفی ہونے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔

یہ مظاہرین ینگ لک شیناواترا سے استعفیٰ دینے اور اقتدار ’عوام کے وزیراعظم‘ کو سونپنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ینگ لک شیناواترا نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ ’ملک کی آئندہ حکومت کے چناؤ کے لیے انتخابات عمل کا استعمال کریں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے آئین کے مطابق نگراں وزیراعظم کی ذمہ داریاں نبھانی ہیں۔ میں جہاں تک ہو سکا پیچھے ہٹ گئی ہوں۔ اب مجھے کچھ موقع دیں۔‘

تاہم مظاہرین کے رہنما سوتھپ تھاگسوبان نے کہا ہے کہ ’ہماری تحریک جاری رہے گی۔ ہم عوام کے وزیراعظم کو چنیں گے اور عوامی حکومت اور پارلیمان قائم کریں گے۔‘

تھائی وزیراعظم نے پیر کو ملک کی پارلیمان تحلیل کرنے اور عام انتخابات کروانے کا اعلان کیا تھا جس کے لیے دو فروری کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

ان کی جانب سے یہ اعلان بنکاک میں ڈیڑھ لاکھ مظاہرین کی جانب سے حکومتی ہیڈکوارٹرز کے گھیراؤ کے بعد کیا گیا تھا۔.

خیال رہے کہ ینگ لک شیناواترا کی پارٹی کو تھائی لینڈ کے غریب اور دیہاتی طبقے کی حمایت حاصل ہے جس کی وجہ سے ان کی جماعت انتخابات جیتنے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔

ینگ لک 2011 میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں وزیراعظم بنی تھیں تاہم ان کے مخالفین کا کہنا ہے ملک پر اب بھی ان کے بھائی اور معزول وزیراعظم تھاکسن شیناواترا کا ہی راج ہے۔

سابق وزیرِاعظم تھاکسن شیناواترا کی حکومت کو سنہ 2006 میں فوجی بغاوت میں ختم کر دیا گیا تھا اور ان پر بدعنوانی کے الزامات لگے تھے جس کے بعد سے وہ خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اب بھی تھائی سیاست میں خاصا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں