پریٹوریا:منڈیلا کے جسدِ خاکی کا دیدارِ عام

Image caption میّت کا جلوس گوسی ممپورو سٹریٹ اور مادیبا سٹریٹ سے ہوتا ہوا یونین بلڈنگز پہنچا

جنوبی افریقہ کے آنجہانی صدر نیلسن منڈیلا کے جسدِ خاکی کو دارالحکومت پریٹوریا میں تین دن کے لیے دیدارِ عام کی خاطر رکھ دیا گیا ہے۔

بدھ کو ان کی میّت کو ایک جلوس کی شکل میں یونین بلڈنگز لے جایا گیا جہاں تین دن تک خواص و عوام آ کر انھیں خراجِ تحسین پیش کریں گے۔

نیلسن منڈیلا پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

تینوں دن منڈیلا کا تابوت شہر میں ایک ماتمی جلوس میں گشت بھی کرے گا اور جنوبی افریقہ کی حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جلوس کے راستے کے اطراف جمع ہو کر اپنے ہردلعزیز رہنما کو الوداع کہیں۔

جنوبی افریقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق بدھ کو مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے مردہ خانے سے حکومتی ہیڈکوارٹر کی جانب میّت کا سفر شروع ہوا اور یہ جلوس گوسی ممپورو سٹریٹ اور مادیبا سٹریٹ سے ہوتا ہوا یونین بلڈنگز پہنچا۔

یونین بلڈنگز وہی عمارت ہے جہاں منڈیلا نے 1994 میں ملک کے پہلے سیاہ فام صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔

جنوبی افریقہ کے موجودہ صدر جیکب زوما نے اس عمارت کا نام تبدیل کر کے منڈیلا ایمفی تھیٹر رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

Image caption براک اوباما نے اپنے خطاب میں نیلسن منڈیلا کو ’تاریخ کی بہت بڑی شخصیت‘ قرار دیا

نیلسن منڈیلا کے اہلِ خانہ اور اہم مہمانان بدھ کو مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے منڈیلا کا آخری دیدار کریں گے جبکہ عوام کے لیے بارہ بجے سے شام ساڑھے پانچ بجے تک کا وقت مقرر کیاگیا ہے۔

جمعرات اور جمعہ کو میّت صبح آٹھ بجے سے شام ساڑھے پانچ بجے تک دیدارِ عام کے لیے رکھی جائے گی۔

نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کی علامت بننے والے نیلسن منڈیلا گذشتہ جمعرات کو 95 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

ان کے انتقال کے بعد سے جنوبی افریقہ میں لاکھوں افراد ان کے لیے مختلف دعائیہ تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں، مختلف مذاہب کے افراد کی جانب سے خصوصی عبادات کی جا رہی ہیں اور یہ سلسلہ اتوار 15 دسمبر کو ایسٹرن کیپ کے علاقے میں منڈیلا کے آبائی گاؤں کونو میں ان کی تدفین تک جاری رہے گا۔

منگل کو جوہانسبرگ میں ان کی یاد میں منعقدہ دعائیہ تقریب میں درجنوں عالمی رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد شریک ہوئے۔

اس موقع پر امریکی صدر براک اوباما نے اپنے خطاب میں نیلسن منڈیلا کو ’تاریخ کی بہت بڑی شخصیت‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بیسویں صدی کے آخری بڑی آزادی دلانے والی شخصیت تھے اور ان جیسے فرد کا دوبارہ آنا مشکل ہے۔

اسی بارے میں