یوکرائن: بلوہ پولیس کی آزادی چوک سے پسپائی

Image caption پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب بلوہ پولیس نے شہر کے مرکزی ہال میں جمع مظاہرین کو باہر نکالنے کی کوشش کی

یوکرائن میں حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آنے کے بعد پولیس نے دارالحکومت کیئیف کے آزادی چوک اور اس سے ملحق ان علاقوں سے پسپائی اختیار کر لی ہے جہاں مظاہرین کئی دنوں سے جمع ہیں۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں اس وقت شروع ہوئی تھیں جب شہر کے مرکزی ہال میں بلوہ پولیس نے مظاہرین کو نکالنے کی کوشش کی تھی۔

تاہم پولیس نے اب علاقہ چھوڑنا شروع کیا ہے۔ اس موقعے پر مظاہرین خوشی سے نعرے بازی کرتے ہوئے کہتے رہے: ’روسیو یہاں سے نکل جاؤ۔‘

اس سے پہلے مرکزی ہال میں جمع مظاہرین نے ان پولیس والوں کے سروں پر برفیلا پانی پھینکا جنھوں نے انھیں وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی۔

دوسری طرف رات بھر ہونے والی جھڑپوں میں دونوں اطراف سے کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یوکرائن کے وزیرِ داخلہ وتالی زخرچینکو نے کہا کہ پولیس وہاں شہریوں کی حفاظت کے لیے تعینات کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں چاہتا ہوں سب پر امن رہیں۔ چوک میں موجود لوگوں کے خلاف طاقت استعمال نہیں کی جائے گی۔ کوئی بھی فرد پرامن مظاہرے کے حق کی خلاف ورزی نہیں کرے گا لیکن ہم دوسرے شہریوں کے حقوق اور قانونی مفادات کو نظرانداز بھی نہیں کر سکتے اور چاہتے ہیں کہ دارالحکومت کے معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔‘

آزادی چوک میں موجود حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے مظاہرین سے خطاب کیے جن میں وہ مظاہروں کے تسلسل اور صدر وکٹر یانوکووچ کے مستعفی ہونے کے مطالبے کو دہراتے رہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے یوکرائن کے صدر یانوکووچ نے یورپی یونین کے ساتھ شراکت کے معاہدے کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ وہ روس کے ساتھ تجارت کی قربانی پیش نہیں کر سکتے کیونکہ روس اس معاہدے کا مخالف ہے۔

یوکرائن کے صدر کے اس فیصلے کے خلاف دارالحکومت کیئیف میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

Image caption اس سے قبل امریکی معاون وزیر خارجہ وکٹوریہ نولینڈ اور یوکرائن میں امریکی سفیر جیفری پائٹ نے چوک میں مظاہرین اور پولیس میں ڈبل روٹی بانٹی اور بات چیت کی

مظاہرے میں شریک ایک یوکرائنی باشندے نے کہا کہ ’لوگ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ یہ لوگ (حکومت) پہلے اپنے گھٹنوں پر ہیں، اور اب مظاہرین واپس نہیں جا سکتے یہ یوکرائن کے عوام ہیں۔ میں نے اپنی تمام زندگی یہیں بسر کی ہے اور مجھے اس قوم پر فخر ہے۔ یہی وقت ہے کہ مسٹر یانوکووچ لوگوں کا سامنا کریں ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور پھر اپنی آنکھیں بند کر کے جتنی دور جا سکتے ہیں چلے جائیں ۔ ہم انھیں کسی بھی صورت میں معاف نہیں کریں گے۔‘

یوکرائن کے وزیراعظم میکولا آزاروف نے بدھ کو کہا کہ یوکرائن یورپ سے اس معاہدے پر دستخط کرنے کے عوض 28 ارب ڈالر کی امداد چاہتا ہے۔

تاہم صدر وکٹور یانوکووچ نے کہا تھا کہ انھوں نے یورپی یونین کے ساتھ شراکت کے اس معاہدے کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت یورپی یونین ممالک کے سامان کے لیے یوکرائن کی سرحدیں کھولی جاتیں اور لوگوں کی آمد و رفت میں آسانیاں پیدا ہوتیں۔

یاد رہے کہ ان مظاہروں کے دوران کیئیف میں مظاہرین نے 1917 کے انقلاب کے رہنما لینن کا مجسمہ گرا دیا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے حکام کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کارروائی کی مذمت کی تھی۔

جان کیری نے کہا کہ ’امریکہ یوکرائن کے حکام کی جانب سے میڈن چوک میں جمع شدہ پرامن مظاہرین کے خلاف بلوہ پولیس، بلڈوزروں اور لاٹھیوں کے استعمال کے فیصلے پر ناگواری کا اظہار کرتا ہے۔‘

اس سے قبل امریکی معاون وزیر خارجہ وکٹوریہ نولینڈ اور یوکرائن میں امریکی سفیر جیفری پائٹ نے چوک میں مظاہرین اور پولیس میں ڈبل روٹی بانٹی اور بات چیت کی۔

منگل کو یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ بیرنس ایشٹن نے بھی اس جگہ کا دورہ کیا اور حکام کی جانب سے طاقت کے استعمال پر افسوس کا اظہار کیا۔

اسی بارے میں