یوروگوائے:گانجے کے استعمال کی قانوناً اجازت

Image caption یوراگوائے میں گانجا یا چرس کے استعمال کو قانونی قرار دیے جانے کے حامیوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے

جنوبی امریکہ کا ملک یوروگوائے گانجے کی کاشت، فروخت اور استعمال کو قانونی قرار دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔

ملکی پارلیمان میں حکومت کی جانب سے پیش کردہ بل کو 12گھنٹے کی بحث کے بعد حتمی منظوری ملی۔

’منشیات کے خلاف جنگ میں ناکامی‘

’افیون کے خاتمے کی کوششیں ناکام‘

اس قانون کے مطابق 18 سال کی عمر کے شہری ایک مہینے میں 40گرام تک گانجا خرید سکتے ہیں تاہم یہ قانون آئندہ برس اپریل سے پہلے نافذ العمل نہیں ہوگا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے منشیات فروش گروہوں سے نمٹنا آسان ہوگا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کی وجہ مزید لوگ بھی منشیات کی طرف راغب ہو گے۔

اس قانون کے لیے رائے شماری کے موقعے پر بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صدر خوزے موخیکا کے درجنوں حامی کانگریس کے باہر جمع تھے۔

بل پیش کرتے ہوئے سینیٹر روبرٹو کانڈے نے کہا کہ یہ ایک ایسی حقیقت کا اعتراف ہے جس سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ ہم منشیات کے خلاف جنگ ہار چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یوروگوائے کی سرحدیں دیگر ممالک میں منشیات کی سمگلنگ کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔

کئی سینیٹرز نے اس بل کی مخالفت بھی کی تاہم منگل کو اسے 13 کے مقابلے میں 16 ووٹوں کی اکثریت کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔

حزبِ مخالف کے رہنما الفریڈو سولاری نے کہا کہ ’یوروگوائے کو اپنے لوگوں پر تجربہ نہیں کرنا چاہییے۔‘

خبررساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’یہ منصوبہ کسی سوشل انجینیئرنگ کا تجربہ دکھائی دے رہا ہے، جس میں انسانوں پر تجربہ کرتے ہوئے حفاظتی اقدار کا خیال نہیں رکھا گیا۔ گانجا جیسی نشہ آور چیز کے سلسلے میں یہ انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ انسانوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔‘

یہ قانون یوروگوائے کے ایوانِ زیریں میں ماہِ جولائی میں منظور کیا گیا تھا۔

یوروگوائے کے اس اقدام پر عالمی سطح پر تنقید کی گئی ہے۔ منشیات کی روک تھام کے ادارے انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول بورڈ نے خبردار کیا ہے یہ قانون ’منشیات سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کی مکمل خلاف ورزی ہے جن کا یوروگوائے بھی حصہ ہے۔‘

آئی این سی بی اقوامِ متحدہ کی جانب سے مقرر کیے گئے ماہرین کا ایک ادارہ ہے جو منشیات کے بارے کیے گئے عالمی معاہدوں کی پاسداری کے حوالے سے ممالک پر نظر رکھتی ہے۔

Image caption لاطینی امریکہ میں بھنگ سے بنائی جانے والی منشیات کی قانون سازی پر بحث جاری ہے

یہ تاریخی اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب لاطینی امریکہ میں منشیات کی قانون سازی کے حوالے سے بحث میں اضافہ ہو رہا ہے۔

برازیل کے فرنینڈو ہینریک، میکسیکو کے ایرنیستو زیڈیلو سمیت کئی سابق صدور اور با اثر شخصیات کے ایک گروپ نےگانجا یا چرس کو قانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

لیکن یوروگوائے کے صدر نے حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ رہنما دفتر چھوڑنے کے بعد ہی گانجا کی قانون سازی کی بات کیوں کرتے ہیں۔

جولائی میں برازیل کے دورے کے موقعے پر پوپ فرانسس نے یوروگوائے کا براہ راست نام لیے بغیر منشیات کو قانونی قرار دینے کے منصوبوں پر تنقید کی تھی۔

اسی بارے میں