عبدالقادر ملا کو پھانسی دے دی گئی

Image caption سپریم کورٹ نے عبدالقادر ملا کی نظرِثانی کی اپیل کو بھی مسترد کر دیا تھا

بنگلہ دیش میں سنہ 1971 کی جنگ میں جنگی جرائم میں ملوث پائے جانے والے جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملّا کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

جنگی جرائم کے ٹربیونل نے رواں سال فروری میں عبد القادر ملا کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انھیں عمر قید کی سزا سنائی تھی جسے بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نےسزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔

عبدالقادر ملّا پر الزام تھا کہ وہ جماعت اسلامی کے تحت قائم کی گئی البدر نامی عسکری تنظیم کے رکن تھے۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ جنگ کے آخری ایام میں وہ 200 سے زیادہ بنگلہ دیشی دانشوروں کے اغوا اور قتل میں ملوث تھے۔

65 سالہ عبدالقادر ملّا کو جمعرات کے روز مقامی وقت کے مطابق رات 11 بجے پھانسی دے گئی۔

حکومت نے عبدالقادر ملّا کو پھانسی دیے جانے کے ردعمل میں ہونے والےممکنہ احتجاج کے پیش نظر پورے ملک میں سکیورٹی سخت کر دی ہے۔

رواں سال فروری میں جب عبد القادر ملّا کو جنگی جرائم کا مجرم قرار دیا گیا تھا تو جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے پورے ملک میں ہنگامے کیے تھے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا موقف تھا کہ عبدالقادر ملّا کو سزا سنائے جانے کے پیچھے سیاسی عوامل کار فرما ہیں۔ جماعت اسلامی نے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کے رہنما کو پھانسی دی گئی تو اس کے بھیانک نتائج نکلیں گے۔

بدھ کے روز سپریم کورٹ نے عبد القادر ملا کی نظرِثانی کی اپیل کو بھی مسترد کر دیا تھا۔

عبدالقادر ملا کو پھانسی دیے جانے سے پہلے ان کے خاندان کے افراد سے آخری ملاقات کرائی گئی۔

2010 میں قائم ہونے والے جنگی جرائم کے ٹربیونل نے عبد القادر ملّا کے علاوہ جماعت اسلامی کے دوسرے کئی افراد کو بھی پھانسی کی سزا سنا رکھی ہے۔ عبدالقادر ملا پہلے شخص جنھیں یہ سزا دے گئی ہے۔

جمعرات کو بنگلہ دیش کے اٹارنی جنرل محبوبِ عالم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے نظرِ ثانی کی اپیل خارج ہونے کے بعد ’اب انھیں پھانسی دینے میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے۔‘

جنگی جرائم کی عدالت نے عبدالقادر ملا کو ابتدائی طور پر عمر قید کی سزا سنائی تھی لیکن سپریم کورٹ نے حکومت کی اپیل پر عمر قید کو سزائے موت میں بدل دیا تھا۔

بنگلہ دیشی حکومت نے یہ خصوصی ٹربیونل 2010 میں قائم کیا تھا جس کا مقصد ان ملزمان پر مقدمہ چلانا تھا جنھوں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر اس وقت کے مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننے کی مخالفت کی تھی۔

بنگلہ دیش کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ 1971 میں جنگ کے دوران 30 لاکھ افراد ہلاک ہو گئے تھے، جب کہ بعض محققین کے مطابق اس جنگ میں تین سے پانچ لاکھ کے درمیان لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں