بنگلہ دیش:عبدالقادر ملا کی تدفین، پرتشدد احتجاج جاری

Image caption سپریم کورٹ نے عبدالقادر ملا کی سزائے موت پر نظرِثانی کی اپیل کو بھی مسترد کر دیا تھا

بنگلہ دیش میں 1971 میں جنگی جرائم میں ملوث پائے جانے والے جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کو پھانسی دینے کے خلاف ہونے والے پرتشدد احتجاج کے دوران تین افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ گھروں اور کاروباری مراکز کو نقصان پہنچا ہے۔

دریں اثنا عبدالقادر ملا کو ان کے آبائی علاقے فرید کوٹ میں جمعے کی صبح دفنا کر دیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق فرید کوٹ کے گاؤں عامر آباد میں جمعے کو علی الصبح عبدالقادر ملا کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور انھیں سینکڑوں افراد کی موجودگی میں ان کے آبائی قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔

عبدالقادر ملا کو پھانسی دے دی گئی

بنگلہ دیش میں مظاہرے

دوسری جانب پولیس حکام کے مطابق عبدالقادر ملا کو پھانسی دینے کے بعد جماعتِ اسلامی کے کارکنوں نے حکمران جماعت عوامی لیگ کے دو ارکان پر حملے کر کے انھیں ہلاک کر دیا۔

ایک دوسرے واقعے میں ملک کے جنوب مشرقی علاقے نوواکھالی میں ایک پولیس اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران ایک سائیکل رکشہ ڈرائیور ہلاک ہو گیا۔

Image caption مقامی ٹی وی چینل پر مظاہرین کو گھروں اور دیگر املاک پر حملے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق جمعے کی صبح مقامی ٹی وی چینل پر مظاہرین کو گھروں اور دیگر املاک پر حملے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر گھر ہندوؤں کے تھے جنھیں وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کا حامی سمجھا جاتا ہے۔

65 سالہ عبدالقادر ملّا کو جمعرات کے روز مقامی وقت کے مطابق رات 11 بجے پھانسی دی گئی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف کے مطابق کل راؤ میں جماعتِ اسلامی کے کارکنوں نے جمعے کی صبح ریلوے سٹیشنوں پر آتش گیر بموں سے حملے کیے، حکومت کے حامی افراد کے کاروباری مراکز کو آگ لگائی اور سڑکیں مسدود کر دیں۔

دارالحکومت ڈھاکہ میں جمعرات کو عبدالقادر ملا کو پھانسی دینے کے بعد سینکڑوں افراد نے جشن منایا تھا اور جمعہ کو شہر میں سکیورٹی کے سخت انتطامات کیے گیے ہیں اور جماعت اسلامی نے اتوار کو عام ہڑتال کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

جنگی جرائم کے ٹربیونل نے رواں سال فروری میں عبد القادر ملا کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انھیں عمر قید کی سزا سنائی تھی جسے بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نےسزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔

عبدالقادر ملّا پر الزام تھا کہ وہ جماعت اسلامی کے تحت قائم کی گئی البدر نامی عسکری تنظیم کے رکن تھے۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ جنگ کے آخری ایام میں وہ 200 سے زیادہ بنگلہ دیشی دانشوروں کے اغوا اور قتل میں ملوث تھے۔

حکومت نے عبدالقادر ملّا کو پھانسی دیے جانے کے ردعمل میں ملک میں ہونے والےممکنہ احتجاج کے پیش نظر پورے ملک میں سکیورٹی سخت کر دی ہے۔

جماعتِ اسلامی پاکستان نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں ملک کے مخلتف شہروں میں نمازِ جمعہ کے بعد عبدالقادر ملا کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔

رواں سال فروری میں جب عبد القادر ملّا کو جنگی جرائم کا مجرم قرار دیا گیا تھا تو جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے پورے ملک میں ہنگامے کیے تھے۔

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا موقف تھا کہ عبدالقادر ملّا کو سزا سنائے جانے کے پیچھے سیاسی عوامل کار فرما ہیں۔ اس نے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کے رہنما کو پھانسی دی گئی تو اس کے بھیانک نتائج نکلیں گے۔

Image caption فروری میں جب عبد القادر ملّا کو جنگی جرائم کا مجرم قرار دیا گیا تھا تو جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے پورے ملک میں ہنگامے کیے تھے

سنہ 2010 میں قائم ہونے والے جنگی جرائم کے ٹربیونل نے عبد القادر ملّا کے علاوہ بھی جماعت اسلامی کے کئی افراد کو پھانسی کی سزا سنا رکھی ہے، جن پر عمل درآمد ہونا ابھی باقی ہے۔

1971 میں اُس وقت کے مغربی پاکستان کے خلاف خانہ جنگی میں جماعت اسلامی پر مغربی پاکستان کی افواج کا ساتھ دینے کا الزام ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق جس خصوصی عدالتی ٹربیونل نے عبدالقادر ملا کو سزا سنائی، وہ انصاف کے بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتا۔

اسی بارے میں