جامعات میں مرد و زن کی علیحدگی پر قانونی رائے طلب

Image caption ان ہدایات پر طلبہ و طالبات اور کچھ ارکانِ اسمبلی نے بھی احتجاج کیا ہے

برطانوی جامعات کی تنظیم نے یونیورسٹی کی تقریبات میں مرد اور خواتین کو الگ الگ بٹھانے کے معاملے پر قانونی رائے طلب کی ہے۔

تنظیم یونیورسٹیز یو کے کی چیف ایگزیکیٹو نکولا ڈینڈرج کہہ چکی ہیں کہ مرد و زن کو الگ رکھنا ’ہماری ثقافت کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘

تاہم جمعے کو برطانیہ کے 132 تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیم نے ایک خط میں انسانی حقوق اور برابری کے کمیشن سے اس معاملے پر قانونی وضاحت مانگی ہے۔

تنظیم نے خط میں کہا ہے کہ اس معاملے پر ہائی کورٹ سے واضح فیصلہ لینے پر غور کیا جائے یا پھر قانون اور متعلقہ پالیسی کے بارے میں واضح اور عوامی سطح کا بیان دیا جائے۔

یونیورسٹیز یو کے کی خواتین اور مردوں کی علیحدگی کی ان ہدایات پر طلبہ و طالبات اور کچھ ارکانِ اسمبلی نے بھی احتجاج کیا ہے۔

سابق وزیرِ داخلہ جیک سٹرا نے کہا ہے کہ جامعات کے لیے اس قسم کے غیرمعمولی رویے کا اظہار کرنا ’غلط‘ ہے۔

یونیورسٹی کی تقریبات میں مرد اور خواتین کو الگ کرنے کے معاملے کا تعلق ان ہدایات سے ہے جن کے ساتھ ایک ’کیس سٹڈی‘ بھی فراہم کی گئی تھی۔

اس کیس سٹڈی میں ایک مقرر کا ذکر ہے جسے اس کے قدامت پسند مذہب کے بارے میں بات چیت کے لیے طلب کیا گیا تھا اور اس نے مرد اور خواتین کے مخلوط اجتماع سے خطاب کرنے سے معذرت کر لی تھی اور انھیں الگ الگ بٹھانے کو کہا تھا۔

جامعات کو دی گئی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے حکام کو اس قسم کی درخواستوں پر غور کرتے ہوئے اظہارِ رائے کی آزادی کے ساتھ ساتھ امتیازی سلوک اور برابری کے قوانین کو بھی مدِنظر رکھنا چاہیے۔

یونیورسٹیز یو کے نے کہا تھا کہ ’اگر مرد یا خواتین کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور مخلوط اجتماع کی جگہ بھی فراہم کی گئی ہے تو ان مخصوص حالات میں یونیورسٹی کے لیے اس درخواست کو منظور کرنا مناسب ہوگا۔‘

تاہم تنظیم کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ہدایات لازمی نہیں اور ان کا مقصد جامعات کو فیصلے کرنے میں عملی مدد فراہم کرنا ہے۔

تنظیم کی سربراہ نکولا ڈینڈرج نے بی بی سی ریڈیو 4 سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم جامعات کی جانب سے مرد و زن کی علیحدگی کے نفاذ کی بات نہیں کر رہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری کیس سٹڈی سے جو سوال اٹھتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ کیا یہ علیحدگی رضاکارانہ بنیادوں پر ہے اور کیا اس تقریب میں آنے والے افراد نے اس پر آمادگی ظاہر کی ہے؟‘

انھوں نے کہا کہ ’جامعات کے لیے فیصلہ کرنے میں یہ سب سے اہم چیز ہوگی۔‘

نکولا ڈینڈرج نے اس معاملے کا نسلی تفریق سے موازنے کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ممکن ہے کہ ایک عورت صرف خواتین کے ساتھ ہی تعلیم حاصل کرنے کا انتخاب کرے۔‘

انھوں نے کہا ’یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو ہماری ثقافت کے لیے اتنی انوکھی ہو کہ اسے نسلی تفریق سمجھا جائے۔‘

اسی بارے میں