ایران کا برطانوی جاسوس پکڑنے کا دعویٰ

Image caption ایران کا دعویٰ ہے کہ اس جاسوس کا تعلق برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 سے ہے

ایران کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جنوب مشرقی شہر کرمان سے ایک جاسوس کو پکڑا ہے جس کا تعلق برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 سے ہے۔

کرمان کی ایک عدالت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مبینہ جاسوس نے اس بات کا اعتراف کیا ہے ایران کے اندر اور اس سے باہر انہوں نے چار برطانوی انٹیلیجنس اہلکاروں سے گیارہ مرتبہ ملاقات کی۔

عدالت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملزم نے اپنے جرائم کا اعتراف کر لیا ہے اور ان کا مقدمہ شروع ہو چکا ہے۔

برطانوی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ انٹیلیجنس کے معاملات پر بات نہیں کرتے۔

ایران کئی بار یہ دعوے کر چکا ہے کہ انہوں نے غیر ملکی طاقتوں کے لیے کام کرنے والے جاسوس پکڑے ہیں مگر عام طور پر ملزمان کو فردِ جرم عائد کیے بغیر چند ماہ کے بعد رہا کر دیا جاتا ہے۔

یہ خبر ایک ایسے وقت آئی ہے جب ایران اور برطانیہ سفارتی تعلقات دوبارہ بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

2011 میں برطانیہ نے تہران میں اپنا سفارت خانہ اس وقت بند کر دیا تھا جب برطانیہ کی جانب سے ایران پر جوہری پابندیوں کے خلاف مظاہرین نے سفارتخانے پر دھاوا بولا تھا۔

اسی ہفتے ایرانی سفیر نے پہلی بار لندن کا دورہ کیا ہے جہاں وہ وزارتِ خارجہ اور لندن پولیس کے اہلکاروں سے ملے۔

برطانوی وزیرِ خارجہ ولیئم ہیگ نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات لیں دین کی بنیاد پر بہتر ہو رہے ہیں۔

اس دورے کے بعد ہی جنیوا میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین چھ ماہ کا ایک عبوری معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت ایران نے اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنی کچھ جوہری سرگرمیوں کو کم کرنے اور معائنہ کاروں کو اپنی جوہری نصیبات تک رسائی پر اتفاق کیا ہے۔

ایران کا موقف ہے اس کا جوہری پروگرام ہتھیار بنانے کے لیے نہیں بلکہ پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

اسی بارے میں