غزہ میں سیلاب، 5000 افراد محفوظ مقامات پر منتقل

Image caption اقوام متحدہ کی تنظیم یو این ڈبلیو آر اے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ غزہ میں ’تا حدِ نگاہ‘ پانی کھڑا ہوا ہے

فلسطینی علاقے غزہ پٹی میں شدید بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب کے پیشِ نظر 5000 افراد کو اپنے گھروں سے منتقل کر کے محفوظ مقامات پر لے جایا گیا ہے۔

امدادی کارکن پانی کی چڑھتی ہوئی سطح کے باعث کشتیوں کی ذریعے متاثرین تک پہنچے ہیں۔

اقوام متحدہ کے کچھ اہلکاروں نے عزہ پٹی کے شمالی حصے کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔

موسمِ سرما کے طوفان الیکسا کی وجہ سے غربِ اردن اور اسرائیل کے کچھ علاقوں میں شدید برف باری بھی ہوئی ہے۔

غیر معمولی حد کی سردی کی وجہ سے خطے میں لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کی تنظیم یو این ڈبلیو آر اے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ غزہ میں ’تا حدِ نگاہ‘ پانی کھڑا ہوا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جابالیہ کے نواحی علاقے ایک بہت بڑی جھیل کی شکل اختیار کر چکے ہیں جہاں دو میٹر بلندی تک پانی کھڑا ہے اور ہزاروں افراد متاثر ہیں۔

غزہ پٹی میں حماس کی حکومت کا کہنا ہے کہ گذشتہ چار روز کی شدید بارشوں کے بعد ہزاروں افراد کو سکولوں اور دیگر عبوری پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

بی بی سی کی مشرقِ وسطیٰ کی نامہ نگار یلونڈا نِل نے بتایا ہے کہ غزہ میں کئی مکانات کا تعمیری معیار درست نہیں اور علاقے میں بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے۔

علاقے میں ایندھن کی کمی کو وجہ سے تونائی کا بحران بھی ہے۔

یروشلم جانے والی شاہراہوں کو نجی گاڑیوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں 30000 گھروں کو بجلی کی ترسیل معطل ہے۔

اسی بارے میں