چلی: سابق صدر میچل بیچلیٹ انتخابات میں کامیاب

Image caption بیچلیٹ پہلی خاتون ہیں جو دو بار چلی کی صدر بنیں گی

بائیں بازو کی امیداوار میچل بیچلیٹ دوسری بار چلی کی صدر منتخب ہو گئی ہیں۔ انھوں نے رن آف انتخابات میں اپنی حریف کو واضح فرق کے ساتھ شکست دی ہے۔

اب تک تقریباً 90 فی صد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے جس میں بیچلیٹ کو 62 فی صد ووٹ حاصل ہوئے ہیں جبکہ ان کی حریف ایولن میٹیئی کو 38 فی صد ووٹ حاصل ہوئے۔

ایولن دائیں بازو کے حکمراں اتحاد میں وزیر کے عہدے پر فائز تھیں۔

اس سے قبل میچل بیچلیٹ سنہ 2006 سے 2010 کے دوران ملک کی صدر رہی تھیں۔ انہیں نئے قانون کے تحت اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔

گذشتہ مہینے پہلے دور کے انتخابات میں وہ بہت ہی کم فرق سے جیت حاصل کرنے سے رہ گئی تھیں جس کے بعد واضح اکثریت کے لیے یہ رن آف انتخابات کرائے گئے تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جب صدر سیبسٹیئن پینیرا نے ٹیلی فون پر بیچلیٹ کو مبارک باد دی تو 62 سالہ میچل بیچلیٹ نے کہا: ’میں اس نتیجے اور جیت پر خوش ہوں اور میں چلی میں ہر کسی کی صدر ہوں۔‘

اپنے حامیوں اور مداحوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’میں آپ کی منتخب صدر ہونے پر آج فخر محسوس کر رہی ہوں۔ میں اس ملک کے لیے فخر محسوس کر رہی ہوں جسے ہم نے مل کر بنایا ہے اور میں اس سے بھی زیادہ اس ملک کے لیے فخر محسوس کر رہی ہوں جسے ہمیں تعمیر کرنا ہے۔

Image caption میٹیئی دائیں بازو کی حکمراں اتحاد میں محنت کی وزیر تھیں

واضح رہے کہ جنرل پنوشے کی فوجی حکومت (1990-1973) کے بعد سے بیچلیٹ پہلی صدر ہیں جو دو بار ملک کی صدر ہوں گی۔

چلی کے دارالحکومت سینتیاگو میں جوں ہی ان کی جیت کی خبر آئی لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور جشن منانے لگے۔

ان انتخابات میں بیچلیٹ کی حریف میٹیئی نے کہا: ’اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ وہ جیت گئی ہیں۔ ہم انھیں مبارک باد دیتے ہیں۔ بعد میں ہم ان سے ملاقات کریں گے اور باضابطہ مبارک باد دیں گے۔

اتوار کو ہونے والے انتخابات کے نتائج کا سرکاری طور پر جلد ہی اعلان کر دیا جائے گا۔

بیچلیٹ پیشے سے بچوں کی ڈاکٹر ہیں انھوں نے 17 نومبر کو ہونے والے پہلے راؤنڈ کے انتخابات میں 47 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ میٹیئی کو 25 فی صد ووٹ ملے تھے۔

اسی بارے میں