روس کے میزائل نظام سے یورپی ممالک پریشان

Image caption مشرقی یورپ میں امریکہ میزائل نظام کی روس کئی بار مخالفت کر چکا ہے

روس سے متصل یورپی مملک نے روس کی جانب سے سرحد پر جوہری ہتھیاروں سے مسلح میزائل نظام نصب کیے جانے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پولینڈ اور لتھووینیا دونوں نے خدشات پر مبنی بیان جاری کیا ہے جبکہ روس نے ان اطلاعات کی تصدیق نھیں کی ہے تاہم یہ کہا ہے کہ مغربی سرحدوں پر میزائل نصب کرنا اس کا حق ہے۔

روس کی وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان ایگور کوشنکوف نے جرمنی کے اخبار بیلد میں شائع ہونے والی اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم انھوں نے کہا کہ روس نے کینلگگرڈ میں سکندر میزائل سسٹم نصب کیا تھا اور یہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی نھیں ہے۔

روسی اخبار ازویسٹا میں پیر کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق روس نے اس علاقے میں تقریباً ایک سال پہلے میزائل نصب کیے تھے۔

لتھووینیاکے وزیرِ دفاع یوزاسس اوکلس کے مطابق’ایسی اطلاعات میرے لیے قابل تشویش ہیں کہ روس کینلگگرڈ میں موجود اپنے میزائل نظام کو جدید کرنے جا رہا ہے، بالٹا ریاستوں اور نیٹو ممالک سے متصل علاقے میں مذید فوجی سرگرمیوں سے بے چینی بڑھے گی اور ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

پولینڈ کی وزارتِ خارجہ کے مطابق’ کینلگگرڈ میں نئے سکندر ایم میزائلوں کی تنصیب باعثِ پریشانی ہے۔‘

وزارِت خارجہ کے مطابق اس معاملے کو دونوں ممالک کے درمیان باہمی رابطوں میں اٹھایا جائے گا۔

روس نے امریکہ کی جانب سے یورپ میں میزائل شکن نظام نصب کرنے پر کینلگگرڈ کے علاقے میں میزائل نصب کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

روس سمجھتا ہے کہ میزائل شکن نظام اس کے جوہری صلاحیت کے لیے خطرہ ہے اور یہ امریکہ اور روس کے درمیان امریکی صدر بش اور موجودہ روسی صدر ولادیمیر پیوتن کے پہلے دور میں ایک بڑا مسئلہ بن گیا تھا۔

امریکی صدر براک اوباما نے روس سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کے دوران میزائل شکن نظام کی تنصیب کا دوبارہ جائزہ لیا تھا لیکن یہ دوسری صورت میں جاری ہے اور روس اس کی مسلسل مخالفت کرتا رہا ہے۔

امریکہ کا اصرار رہا ہے کہ میزائل شکن نظام روس کے لیے نھیں ہے بلکہ اس کا مقصد ایران سمیت دیگر ریاستوں کے حملوں سے مشرقی یورپ کو بچانا ہے۔

اسی بارے میں