جاپان: قومی سلامتی پالیسی اور دفاعی بجٹ میں اضافے کی منظوری

Image caption جاپان ایک نیا فوجی یونٹ بھی تیار کرے گا جس کے پاس جزیروں پر قبضہ کرنے کی صلاحیت ہو گی

جاپان کی کابینہ نے نئی قومی سلامتی کی حکمت عملی اور دفاع کے بجٹ میں اضافے کی منظوری دی ہے۔

نئی حکمت عملی کے مطابق جاپان اگلے پانچ برس میں فوجی سازو سامان خریدے گا جس میں ڈرون، ہوائی جہاز اور خشکی اور پانی دونوں پر چلنے والی گاڑیاں خریدے گا۔

جاپان ایک نیا فوجی یونٹ بھی تیار کرے گا جس کے پاس جزیروں پر قبضہ کرنے کی صلاحیت ہو گی۔

جاپان کی نئی قومی سلامتی کی حکمت عملی کی منظوری ایسے وقت دی گئی ہے جب چند ہی ہفتے قبل بحیرۂ مشرقی چین میں چین نے اس متنازع علاقے میں نئی دفاعی حد بندیاں کی تھیں جنھیں امریکہ اور جاپان دونوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

جاپان کی نئی قومی سلامتی کی حکمت عملی کے مسودے کے مطابق ’چین کی فوجی سرگرمیوں اور اس کی فوجی اور قومی سلامتی کی پالیسیوں میں ابہام کے باعث جاپان اور عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے اور اس سلسلے میں اس پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔‘

جاپان نے کئی دہائیوں بعد جنوری میں اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا تھا۔ جاپان کے وزیر اعظم نے کہا کہ فوج کو اپنی سرگرمیوں کا دائرۂ کار وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔

جاپان نے قومی سلامتی کونسل کی تشکیل کی بھی منظوری دی ہے جو قومی سلامتی سے متعلق اہم امور کا جائزہ لے گی۔

جاپانی وزیر اعظم نے کہا: ’قومی سلامتی کی حکمت عملی کے باعث جاپان کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی پوری دنیا کے لیے واضح اور شفاف ہے۔

یاد رہے کہ چین نے چند روز قبل ہی اس متنازع علاقے میں نئی دفاعی حد بندیاں کی تھیں جنھیں امریکہ اور جاپان دونوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ان حد بندیوں میں چند ایسے علاقے ہیں جن پر چین، جاپان، تائیوان اور جنوبی کوریا ملکیت کے دعوے کرتے ہیں۔

نئی حد بندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چین نے کہا تھا کہ اس علاقے پر سے گزرنے والے جہازوں کو اپنے فلائٹ پلان کی پیشگی اطلاع دینی ہوگی اور اپنی شناخت کروانی ہوگی ورنہ ان کے خلاف ’ہنگامی دفاعی اقدامات‘ کیے جائیں گے۔

امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ ان حد بندیوں کو قبول نہیں کرتے اور ان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اس علاقے میں جنگی جہازوں کی پروازیں کی ہیں۔

اسی بارے میں