’حال کا خیال رکھیں، مستقبل آپ کا خیال رکھے گا‘

Image caption بڑھاپے میں اکیلے پن کا خوف بہت بڑا مسئلہ ہے

اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ سنہ 2050 تک پہلی دفعہ انسانی تاریخ میں اس کُرہ ارض پر بُزرگ افراد کی تعداد نوجوانوں سے زیادہ ہو جائے گی۔

دُنیا میں لوگ عمر رسیدگی اور بڑی عمر کے افراد کو کیسے دیکھتے ہیں۔ یہی جاننے کے لیے بی بی سی نے حال ہی میں ایک دستاویزی پروگرام نشر کیا جس میں دُنیا کے مختلف حصوں سے عمر رسیدہ افراد کی کہانیاں پیش کی گئیں۔

اُس میں ان افراد کی روزمرہ زندگی کے علاوہ اُن کے تئیں معاشرے کے رویے کے بارے میں بھی سوال کیے گئے ۔ یہ تمام وہ افراد ہیں جن کی زندگیوں میں کوئی مقصد موجود ہے جس کی وجہ سے وہ بڑھاپے میں اپنے اکیلے پن کے خوف سے نمٹنے میں کسی حد تک کامیاب رہے۔

جیف بوسٹوک، 82 برس، برطانیہ

جیف لندن کے نواح میں واقع اپنےگھر میں اپنی اہلیہ باربرا کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ باربرا پانچ برس سے ایلزہائمرز کا شکار ہیں۔

جیف کہتے ہیں ’ایلزہائمرز کی تشخیص کے بعد سے باربرا کے رویے میں کوئی چوبیس تبدیلیاں آ چکی ہیں مثلا اُسے اندازہ نہیں ہو پاتا کہ ٹوائلٹ کدھر ہے۔ وہ اکثر اوقات مجھے اپنے شوہر کے طور پر بھی نہیں پہچان پاتیں۔ بلکہ وہ مجھے ڈیڈ کہہ کر بُلاتی ہیں۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ وہ اکثر اکیلا اور تلخ محسوس کرتے ہیں۔ اُن کے قریبی دوستوں نے اُن سے ملنا جُلنا اور دعوتوں پر مدعو کرنا چھوڑ دیا ہے۔

انھیں شکوہ ہے کہ اُن کے دوستوں کو اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ اس صورت حال میں دو لوگ موجود ہیں ۔

جیف کہتے ہیں کہ ’یہاں کوئی ایسا نظام نہیں ہے جس میں یہ دیکھا جا سکے کہ میں کیسا ہوں یا باربرا کیسی ہے۔ ہمیں ہمارے حال پہ چھوڑ دیا گیا ہے۔‘

مما سِمیلانی، 81 برس، جنوبی افریقہ

مما سِمیلانی ایک انتہائی خوش اخلاق ، باہمت اور مضبوط اعصاب کی خاتون ہیں ۔ اُن کی بیٹی ایڈز کے مرض میں مبتلا ہو کر انتقال کرگئی تھیں جس کے بعد سے اُن کے بچوں کی ذمہ داری مما سِمیلانی کی ہے۔

اُنھیں حکومت کی جانب سے کچھ رقم بطور پنشن ملتی ہے جس پر پورے گھر کا گزارا ہے ۔

وہ بتاتی ہیں کہ جنوبی افریقہ میں عام ہے کہ اگر بیٹیاں یا بیٹے ایچ آئی وی یا ایڈز کا شکار ہو کر انتقال کر جائیں تو اُن کے بچوں کی دیکھ بھال نانیاں ہی کیا کرتی ہیں۔

مما سِیملانی افسردگی سے بتاتی ہیں کہ کم آمدنی کی وجہ سے اُُن کے نواسے نواسیاں پڑھنے نہیں جا سکتے ۔

Image caption سنہ 2050 تک کُرہ ارض پر بُزرگ افراد کی تعداد نوجوانوں سے زیادہ ہو جائے گی

محلے میں ان کی کئی سہیلیاں ہیں جن سے ان کی اچھی دوستی اور جان پہچان ہے۔ وہ اور ان کی سہیلیاں ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ حکومت کی جانب سے پنشن کی صورت میں ملنے والی رقم قلیل ہے اور اب اُن میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ کام کر سکیں۔

اُنھیں شکایت ہے کہ بجلی کے بل کی مد ہر مہینے جو انھیں 500 رینڈ ادا کرنی پڑتی ہے وہ ان کی پنشن کے نصف کے برابر ہے۔

ونگ کمانڈر (ر) راجیندر سنگھ، 72 سال، بھارت

راجیندر سنگھ نے انڈین ایئرفورس سے ریٹائر ہونے کے بعد فیصلہ کیا کہ وہ ریٹائرمنٹ ہوم میں اپنی زندگی کے بقیہ دن گُزاریں گے۔

راجیندر بتاتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ ہوم میں جو موضوعات زیر بحث آتے ہیں وہ عموما علاج اور ہسپتال سے متعلق ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی کے انتقال پر یہ اندازے لگائے جاتے ہیں کہ اب کس کی باری ہے۔

اُن کی آنکھوں کا آپریشن ہو چکا ہے اور ان کا 80 سالہ پڑوسی روز دن میں چار سے چھ مرتبہ آ کر اُن کی آنکھوں میں دوا کے قطرے ڈالتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنے گھر میں بیٹے، بہو یا پوتے پوتیوں سے ان سہولیات کا مطالبہ نہیں کر سکتا کیونکہ وہ کام کرتے ہیں، پڑھتے ہیں اور اسی لیے مصروف ہوتے ہیں۔

راجیندر ریٹائرمنٹ ہوم کے معمول کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہاں لوگوں کے بس دو ہی کام ہیں یا تو وہ تفریح کا سامان کرتے ہیں یا اپنی صحت کا خیال رکھتے ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ’جیسےجیسے سال گُزر رہے ہیں مجھے لگتا ہے کہ ایک ایک کر کے وہ ساتھی میرا ساتھ چھوڑتے جارہے ہیں جو مجھ سے قریب تھے۔‘

’پہلے زندگی کا ہر ایک دن گزارتے ہوئے میں سوچا کرتا تھا کہ میرے بھی سُنہرے دن آئیں گے اور کبھی اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ وہ وقت آنے تک میرے اندر کوئی طاقت نہیں بچے گی۔‘

راجیندر کے بقول ’حال نقدی ہے، ماضی منسوخ شدہ چیک اور مستقبل ایک نئے نوٹ کی مانند۔ تو اپنےحال کا خیال رکھیں، مستقبل آپ کا خیال رکھے گا۔‘

چارلس روبیو، 82 سال، امریکہ

چارلس واشنگٹن ڈی سی میں اپنے ساتھی جم کےساتھ رہتے ہیں، جو 18 برسوں سے فالج کے مریض ہیں۔ جم نہ ہل جُل سکتے ہیں اور نہ بات چیت کر سکتے ہیں۔

دُنیا میں کیئر ہومز کے ساتھ رضاکارانہ طور ایسے لوگوں کی مدد کرنے کا تصور بھی سامنے آیاہے جس میں نہ صرف جوان بلکہ بوڑھے افراد بھی رضاکارانہ طور پر اپنے پڑوسیوں کی مدد کرتے ہیں ۔

روبیو دو تین برس پہلے ایسے ہی ایک ادارے ہل ولیج کے ممبر بنے جس کے لوگ اُن کے پاس آ کر ان کی مدد کرتے ہیں ۔

روبیو اورجم شادی شدہ ہیں۔ وہ 51 برسوں قبل واشنگٹن ڈی سی میں اس گھر میں منتقل ہوئے تھے۔ پوری کمیونٹی اُنھیں جانتی ہے اور اُن کا خیال بھی رکھتی ہے۔

وہ اپنےگھر میں مختلف نیلامیوں میں خریدے گئے نوادرات کا بے حد خیال رکھتے ہیں کیونکہ اُن کے ساتھی جم کو اُن چیزوں سے بےحد لگاؤ ہے اور جم کی خواہش ہے کہ وہ اِن قیمتی اشیا کے درمیان انتقال کریں۔

بوڑھوں کی جانب نوجوانوں کے رویے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’بچے، بوڑھے افراد کی عزت نہیں کرتے۔ مجھے بتایا جاتا ہے کہ چین میں لوگ بوڑھے افراد کا احترام کرتے ہیں اور ہمارے ملک میں کہتے ہیں راستے سے ہٹ جاؤ، تم راستہ روک رہے ہو۔‘

تمام شکوے شکایتوں کے باوجود وہ اپنے آپ کو ایک خوش قسمت آدمی تصور کرتے ہیں جو 54 برس بعد بھی اپنے ساتھی کے ساتھ ایک حسین ماحول میں ایک خوشگوار زندگی گُزار رہے ہیں۔

اسی بارے میں