’ایران اور شام کے خلاف خود کارروائی کریں گے‘

Image caption سعودی عرب نے ماضی میں کبھی مغرب پر تنقید نہیں کی ہے

سعودی عرب کے ایک اعلیٰ سفارت کار کا کہنا ہے کہ ایران اور شام کے بارے میں مغرب کی پالیسیاں ’خطرناک جوا‘ ہیں اور سعودی عرب خطے کو محفوظ بنانے کے لیے اپنے طور پر کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔

سعودی عرب کے برطانیہ میں سفیر محمد بن نائف بن عبدالعزیز نے نیویارک ٹائمز میں اپنے آرٹیکل میں کہا لکھا ہے کہ:’ ہم سمجھتے ہیں کہ ایران اور شام کے بارے میں مغربی ملکوں کی پالیسی نے خطے کے استحکام اور سکیورٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ یہ ایک خطرناک جوا ہے اور سعودی عرب تماشائی بن کر خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔

ایران اور شام پر مغربی ملکوں کی پالیسی پر سعودی عرب کی معتبر شخصیات عدم اطمینان اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے رہے ہیں اور شہزادہ نائف کا انتہائی سخت الفاظ پر مبنی تبصرہ اس سلسلے کی کڑی ہے۔

مغربی ممالک سے کئی دہائیوں پر محیط اپنے اتحاد کی تاریخ میں کبھی سعودی عرب نے برسرِ عام ان کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا ہے۔

سعودی عرب جو ایران کو خطے میں ایک بہت بڑا خطرہ تصور کرتا ہے امریکہ کی طرف سے ایران کے ساتھ جوہری معاملے پر معاہدہ کرنے سے شدید اضطراب کا شکار ہے۔ قبل ازیں سعودی عرب امریکہ کے شام پر فوجی کارروائی کے اعلان سے پیچھے ہٹنے پر بھی ناخوش تھا۔

شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کی ایران کی طرف سے حمایت پر شہزادہ نائف نے کہا کہ شام اور ایران کی حکومتوں کے خلاف بعض مغربی ملکوں نے کارروائی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

شہزادے نے مزید لکھا ہے کہ مغربی نے ایک حکومت کو اپنے اقتدار کو طول دینے کی اجازت دے دی ہے جبکہ دوسری کو نتائج سے آنکھیں بند کر کے یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

ان کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مغربی ملکوں کے دمشق اور تہران کے خلاف کارروائی کرنے کے ارادوں کو مزید ٹھنڈا کر دیں گے۔

ایک بادشاہت کے نمائندہ سفیر نے لکھا ہے کہ :’جب آپ اس طرح کی حکومتوں سے امن کی بات کرتے ہیں تو ایسا کسی قیمت پر کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اسی صورت حال کے نتیجے میں علاقے کے استحکام اور سلامتی کے لیے سعودی عرب کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا علاوہ اس کے کہ وہ بین الاقوامی معاملات پر زیادہ اثر انداز ہو۔

سعودی سفیر نے مزید کہا کہ خلیجی بادشاہتوں کی سیاسی اور اقتصادی دونوں اعتبار سے بین الاقوامی ذمہ داریاں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ : ’وہ مغرب کی حمایت یا اس کے بغیر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں گے۔‘

امریکی صدر براک اوباما پر اشارۃ تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کے اتحادی سرخ لائن عبور نہ کرنے کی بات کرتے تھے لیکن جب موقع آیا تو ہمارے خطے کے استحکام اور سلامتی کی پراوہ نہ کرتے ہوئے بہت آسانی سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کر لیا۔

امریکی صدر براک اوباما نے سرخ لائن کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے شام کی حکومت کو کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے سے متنبہ کیا تھا۔

سعودی سفیر نے شام میں باغیوں کو مدد نہ فراہم کرنے پر مغربی ملکوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب فری سیرین آرمی اور مخالفوں کی حمایت جاری رکھے گا۔