امریکہ: ’نیٹو سپلائی کا راستہ نہیں کھلا تو امداد بند‘

Image caption گذشتہ دنوں امریکی وزیر دفاع نے پاکستان کا دورہ کیا تھا

امریکہ نے اپنی فوج کے لیے سال 2014 کے مجوزہ بجٹ میں کہا ہے کہ اگر پاکستان طورخم کے راستے نیٹو سامان کی واپسی کا راستہ کھولنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے بدلے میں ملنے والی امداد روک دی جائے گی۔

’امریکی ڈیفنس اتھرآئزیشن ایکٹ 2014‘ میں پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والے خرچ کی جو رقم واپس کی جاتی ہے اس کی معیاد کو ایک سال کے لیے بڑھانے کا بھی ذکر ہے۔

’ملکی مفادات کو نقصان پہنچا تو ذمہ دار دھرنے والے‘

نیٹو سپلائی میں رکاوٹیں دور کریں گے: نواز

یہ ایکٹ ایوان نمائندگان سے منظور ہو چکا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اسے سینیٹ کی بھی منظوری مل جائے گی۔

اس بجٹ میں پاکستان کو جو رقم واپس ملتی ہے اس میں بھی 2013 کے مقابلے میں کمی کی گئی ہے۔

اس ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ جب تک امریکی وزیر دفاع سے اس بات کی ضمانت نہ مل جائے کہ افغانستان سے پاکستان کے راستے لایا جانے والا امریکی فوجی سامان صحیح سلامت آ رہا ہے اس وقت تک یہ رقم جاری نہیں کی جائے۔

جمعرات کو ہی امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اب بھی پاکستانی اہل کاروں سے طورخم کا راستہ جلد سے جلد کھلوانے کے لیے بات کر رہے ہیں۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ممکن نہیں ہوا تو پھر دوسرے راستے بھی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فضائی راستے سے بھی امریکی سامان کی واپسی ممکن ہے لیکن وہ بہت مہنگا پڑے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ راستہ نہیں کھلتا تو امریکہ کو اب کے مقابلے میں ایک ارب ڈالر زیادہ رقم خرچ کرنی ہوگی۔

فوجی بجٹ میں پاکستان کو دی جانے والی رقم جاری کرنے کے لیے کچھ اور بھی شرائط رکھی گئی ہیں۔

اس میں وزیرِ دفاع کو کانگریس کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ پاکستان القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور حقانی نیٹ ورک اور کوئٹہ شوریٰ طالبان جیسے شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی میں مدد کر رہا ہے۔

امریکی وزیر دفاع کو کانگریس کو یہ یقین بھی دلانا ہوگا کہ پاکستانی سرحد کے اندر امریکی فوج یا افغانستان کی فوج پر ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے پاکستان مؤثر قدم اٹھا رہا ہے۔

Image caption پاکستان تحریک انصاف صوبہ خیبر پختونخوا کے نیٹو سپلائی خلاف دھرنے دے رہی

اس کے علاوہ یہ بھی شرط ہے کہ وزیر دفاع کو ضمانت دینی ہوگی کہ پاکستان اپنی فوج یا اس پیسے کا استعمال بلوچ، سندھی، ہزارہ، عیسائی، ہندو اور احمدیہ جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کو دبانے کے لیے نہیں کر رہا ہے۔

گذشتہ دنوں امریکی وزیر دفاع کے پاکستان کے دورے پر بھی ایسی اطلاعات ملی تھیں کہ انھوں نے وزیراعظم نواز شریف سے کہا تھا کہ صوبہ خیبر پختونخوا سے نیٹو رسد کا راستہ نہیں کھلا تو پاکستان کے لیے جو رقم کانگریس منظور کرتی ہے اس میں مشکلات آ سکتی ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں امریکی ڈرون حملے کے بعد احتجاجاً صوبے سے نیٹو سپلائی افغانستان جانے سے روکنے کے لیے دھرنے دے رہی ہے جبکہ امریکہ نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر افغانستان سے پاکستان کے راستے نیٹو سپلائی کی ترسیل روک دی ہے۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے راستے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو سپلائی جاری ہے۔

رواں ماہ چار دسمبر کو امریکہ نے پاکستان طورخم کے راستے افغانستان سے سامان کی ترسیل کا عمل معطل کر دیا تھا۔

امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف جاری احتجاج کے باعث ڈرائیوروں کے تحفظ کی خاطر ایسا کیا گیا ہے۔

روکی جانے والی ترسیل میں زیادہ تر وہ فوجی سازو سامان شامل تھا جو فوج کے بتدریج انخلا کے بعد امریکہ واپس بھیجا جا رہا تھا۔ یاد رہے کہ افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کا انخلا سنہ 2014 تک کیا جانا ہے۔ جبکہ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق افغانستان میں بھیجے جانے والی رسد کا بڑا حصہ بہت پہلے ہی پاکستان کے حالات کے پیش نظر دیگر ممالک میں موجود متبادل راستوں پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں