مشرق وسطیٰ پولیو کے مرض سے نبردآزما

Image caption لبنان میں پولیو مہم میں تیزی لائی گئی ہے

یہ ویسے تو ایک چھوٹا سا قطرہ ہے لیکن دنیا میں اس چھوٹے سے قطرے سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔

صرف ویکسین کے ذریعے ہی پولیو ایسے وبائی مرض سے بچاؤ ممکن ہے جو بچوں میں معذوری کی وجہ بنتا ہے۔

دنیا میں پولیو کا بڑی حد تک خاتمہ ہوگیا تھا لیکن اب کئی ملکوں میں یہ عود کر آیا ہے اور مشرق وسطیٰ میں شام اس کی ایک حالیہ مثال ہے۔

شام میں پولیو کے کیس سامنے آنے سے خطے میں خطرے کی لہر دوڑ گئی تھی خاص کر شام کے مغربی ہمسائے لبنان میں جہاں اس کے خلاف مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق شام کے مشرقی صوبے دیرالظور میں پولیو کے مریض آخری بار اکتوبر میں سامنے آئے تھے جبکہ شام کو چودہ سال قبل پولیو سے پاک قرار دے دیا گیا تھا۔

عالمی ادارۂ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق شام میں پولیو کے تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد 17 ہے جن میں سے 15 دیر الظور، ایک دمشق اور ایک حلب میں سامنے آیا ہے۔

اس خبر سے خطے میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور اس وبا کو پھیلنے سے روکنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

لیکن بعض ماہرین کے مطابق یہ غیر متوقع نہیں تھا اس لیے اس سے بچاؤ کے لیے اقدامات کیے جانے چاہیں تھے۔

لبنان میں مقیم صحت عامہ پر تحقیق کرنے والے ایک محقق ڈاکٹر ایڈم کا کہنا ہے کہ ’یہ خطے میں صحت عامہ اور طبی ماہرین کے لیے کوئی حیرت کی بات نہیں تھی کہ پولیو جیسا وبائی مرض بلآخر شام میں سامنے آئے گا۔ ‘

ڈاکٹر ایڈم گذشتہ اٹھارہ ماہ سے شام میں صحت کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سوال یہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے اس کے لیے تیاری کیوں نہیں کی جبکہ وہ خود اس کے پھیلنے کے خطرے کو تسلیم کرتا رہا ہے۔‘

ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ ایسے ممالک میں پولیو کا مرض دوبارہ سامنے آیا ہو جنہیں پولیو سے پاک قرار دے دیا گیا تھا۔ سنہ 2011 میں یہ وبا پاکستان سے چین تک پھیل گئی تھی۔

جینیوا میں عالمی ادارہ صحت کے ترجمان اولیور روسنبایر کا کہنا ہے کہ سنہ 2010 ’میں شام کے تمام علاقوں تک رسائی حاصل ہونے کے باوجود پولیو مہم چلانا بظاہر اتنا آسان نہیں تھا۔‘

ان کا کہنا تھا ’یہ بیماری آبادی کی نقل و حرکت کے ساتھ پھیلتی ہے اس لیے اس پر قابو کرنا مشکل ہے۔

’شام جیسے ممالک میں جہاں خطرہ زیادہ ہے وہاں صرف ویکسین کی مہم چلانا کافی نہیں ہے۔ باقاعدگی سے ویکسینیشن اور مانیٹرنگ کے بہتر معیار کی ضرورت ہے اور خطرناک علاقوں میں ایسا کرنا بہت مشکل ہے۔‘

خطے میں ایمرجنسی

Image caption پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں ہے جہاں پولیو کا مرض اب بھی موجود ہے

شام میں اس وبا کے پھیلنے سے صرف وہاں ہی نہیں بلکہ اسے مشرق وسطیٰ میں ایمرجنسی کی صورتحال قرار دیا جا رہا ہے۔

لبنان، مصر، ترکی کے جنوبی علاقوں، عراق اور اردن میں بڑے پیمانے پر پولیو مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ان تمام ممالک میں شامی پناہ گزینوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے جن میں لبنان میں سب سے زیادہ پناہ گزین ہیں۔

شامی پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد روزانہ لبنان میں داخل ہوتی ہے اور اس بات کا خدشہ بہت زیادہ ہے کہ ان میں کوئی ایسا بچہ بھی ہو جو اس بیماری کا شکار ہے۔

لبنان میں حکام اور بین الاقوامی اداروں نے اس بات کا عزم کیا ہے کہ وہ لبنان میں موجود پانچ سال سے کم عمر کے ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلائیں گے۔

حکام کے اندازوں کے مطابق لبنان میں دس لاکھ سے زیادہ پناہ گزین موجود ہیں لیکن ان کی رہائش اور نقل و حرکت کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی معلومات نہیں ہیں۔

ملک کے مختلف حصوں میں خیموں میں آباد افراد تک رسائی سب سے زیادہ مشکل ہے۔ ایسے افراد کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہے اور انہیں جہاں خالی زمین نظر آتی ہے وہ وہاں خیمہ لگا لیتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے ساتھ اشتراک میں کام کرنے والے ادارے ’بِیونڈ‘ کے ڈاکٹر ملہم ہارمووچ کا کہنا ہے کہ ’ہم شامی پناہ گزینوں میں ہر ایک بچے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمیں جگہ جگہ چھوٹے کیمپ مل جاتے ہیں۔‘

’ہر دفعہ جب ہمیں اس قسم کی آبادیاں نظر آتی ہیں تو ہم وہاں جا کر پوچھتے ہیں کہ بچوں کو قطرے پلائے گئے ہیں یا نہیں۔‘

’کوئی حکمت عملی نہیں‘

لیکن پولیو ان کئی بیماریوں میں سے ایک ہے جن کا شامی پناہ گزینوں کو سامنا ہے۔

بیروت میں امریکن یونیورسٹی میں صحت عامہ کے پروفیسر اور شام سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر فواد محمد فواد کا کہنا ہے کہ ’صحت کا پورا نظام ناکام ہو رہا ہے اور پناہ گزینوں کے لیے صحت کے حوالے سے کوئی حکمت عملی موجود نہیں ہے۔‘

’پولیو کے بارے میں ہر طرف بات ہو رہی ہے اس لیے سب اس کے بارے میں فکر مند ہیں۔ دوسری بیماریاں بھی خطرناک ہیں لیکن انہیں مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔‘

ڈاکٹر فواد کا کہنا ہے کہ لبنان میں موجود کئی پناہ گزین کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں۔

ڈاکٹر فواد کا کہنا ہے کہ ’ان کا کیا جنہیں ذیابطیس ہے یا جنہیں گردوں کا مسئلہ ہے اور باقاعدگی سے ڈائلسز کی ضرورت ہے؟ ان کا کیا جنہیں دل کا مرض ہے یا معذور ہیں؟ اور ذہنی بیماریوں کے شکار افراد کی دیکھ بھال کون کر رہا ہے؟‘

اقوام متحدہ کا ادرہ برائے پناہ گزین کئی بیماریوں کا علاج مہیا کر رہا ہے لیکن وہ بعض بیماریوں کے لیے مخصوص علاج فراہم نہیں کر سکتا۔ لبنان میں طبی سہولیات کے لیے نجی ادارے ہیں جو کہ بہت مہنگے ہیں۔

ڈاکٹر کوٹس کا کہنا ہے کہ ’ملک کے اندر اور باہر پناہ گزینوں میں گذشتہ دو سالوں کے دوران اموات اور معذوریوں میں اضافہ ہوا ہے جن کی وجہ پولیو یا دوسرے وبائی امراض نہیں ہیں۔‘

’جنگ میں زخمی ہونے کی وجہ سے اور دوسری خطرناک بیماریاں سے شامی افراد ہلاک ہو رہے ہیں لیکن انہیں میڈیا کی توجہ حاصل نہیں ہو رہی۔‘

یا جیسے ڈاکٹر فواد کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں میڈیا اور دنیا سنسنی خیز ہلاکتوں میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے ناکہ پوشیدہ یا ایسے امراض جن سے کسی کی موت ہونے میں وقت لگتا ہے۔‘

اسی بارے میں