کینیڈا: انسدادِ جسم فروشی کا قانون منسوخ

Image caption کینیڈا میں رقم کے لیے جسم بیچنا جرم نہیں ہے: عدالت

کینیڈا کی اعلیٰ عدالت کا کہنا ہے کہ عوامی مقامات میں گاہکوں سے رابطے یا قحبہ خانوں کی روک تھام اور جسم فروشی کی کمائی سے متعلق قانون ’نامناسب‘ ہے۔

عدالت نے حکومت کو حکم دیا کہ ایک سال کے اندر اس قانون میں تبدیلی کرے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو عدالت اس قانون کو سرے سے ختم کر دے گی۔

سپریم کورٹ کے تمام نو ججوں نے اس قانون کو نامناسب قرار دیتے ہوئے متفقہ طور پر اس قانون کے ختم کیے جانے کے حق میں فیصلہ دیا۔

کینیڈا کے چیف جسٹس نے جمعے کو سنائے گئے فیصلے میں کہا کہ ‘کینیڈا میں رقم کے لیے جسم بیچنا جرم نہیں ہے۔‘

کینیڈا میں حال ہی میں جرائم سے متعلق نئے قوانین کے مطابق ‘قحبہ خانہ‘ یا ایک ایسی جگہ جہاں لوگوں سے جسم فروشی کی بات کی جائے کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے جج نے فیصلے میں لکھا کہ ‘پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ مشکلات کا حل نکالے تاہم ایسا جسم فروشوں کی صحت، تحفظ اور زندگیوں کی قیمت پر نہیں۔‘

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ‘ مسئلے کے حل کا اطلاق صرف جسم فروشوں کے طریقہ کار پر ہی نہیں ہونا چاہیے۔‘

عدالتی فصیلے کے مطابق کینیڈا کی پارلیمنٹ کے پاس اس قانون کی تدوینِ نو کے لیے بارہ مہینے ہیں بصورت دیگر اسے ختم کر دیا جائے گا۔

تاہم اس دوران انسدادِ جسم فروشی کا قانون لاگو رہے گا۔

اس سے قبل کینیڈا میں عدالتِ عالیہ نے چونتیس برس قبل انسدادِ جسم فروشی کے قانون کے خاتمے کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔

مارچ میں اونتاریو میں اپیل کی عدالت نے جسم فروشی کے لیے رابطے کرنے پر پابندی برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا جسے ان خواتین نے چیلنج کیا تھا۔

وفاقی اور اونتاریو حکومتوں نے اس فیصلے کے دو دیگر حصوں کے خلاف اپیل کی ہے جن میں قحبہ خانوں کے خلاف قانون کی منسوخی اور پابندی کو جسم فروشی سے حاصل ہونے والی کمائی پر انحصار تک محدود کرنا شامل ہے۔

کینیڈا کے حکام کا کہنا ہے کہ جس طرح وہ مناسب سمجھیں انہیں جسم فروشی کے خلاف قانون سازی کا مجاز ہونا چاہیے۔

تاہم عدالت کا موقف تھا کہ ‘کئی وجوہات کی بنا پر جن میں معاشی بدحالی، منشیات کا عادی ہونا اور ذہنی بیماری کے باعث بہت لوگوں کے پاس اکثر یہی راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ اپنا جسم بیچیں۔‘