مصر: معزول صدر مرسی کے خلاف ایک اور مقدمہ

Image caption معزول صدر مرسی کو اس سال جولائی میں فوج نے اقتدار سے علیحدہ کر دیا تھا اور انہیں دو اور مقدمات کا سامنا بھی ہے

مصر کے معزول صدر محمد مرسی کو اب ایک تیسرے مجرمانہ مقدمے کا سامنا ہے جو 2011 میں ایک جیل توڑنے کے واقعے سے متعلق ہے۔

معزول صدر مرسی پر ’بعض قیدیوں، اہلکاروں اور فوجیوں کے عمداً قتل‘ کا الزام ہے جب انہیں جنوری 2011 میں قاہرہ کی ایک جیل سے رہا کیا گیا تھا۔

اس مقدمے کا سامنا معزول صدر کے علاوہ 129 دوسرے افراد بھی کریں گے۔

مصر: خوش امیدی سے المیے تک

صدر مرسی پر مقدمہ چلایا جائے گا

صدر مرسی اور ان کی حکومت میں شامل اخوان المسلیمون کے چودہ ارکان پر سنہ دو ہزار بارہ میں ایوان صدر کے باہر مظاہرین کو قتل کرنے پر اکسانے کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے جس کی باقاعدہ سماعت سوموار سے شروع ہوئی۔

اس کے علاوہ ان پر بیرونی گروہوں کے ساتھ ملک کر سازش کرنے کا الزام ہے جس سے مراد حماس ہے جس کے ساتھ اخوان المسلمین کہ مضبوط تعلقات ہیں۔

حماس نے مصری سیاسی معاملات میں مداخلت کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔

اس مقدمے کی آخری سماعت میں مصر کے معزول صدر محمد مرسی نے قاہرہ میں ایک عدالت کے سامنے کہا ہے کہ ان کے خلاف قائم کیا جانے والا مقدمہ غیر قانونی ہے اور وہ اب بھی مصر کے صدر ہیں۔

صدر مرسی کے بیان اور ان کی طرف سے یونیفارم پہننے سے انکار کرنے پر مقدمے کی سماعت آٹھ جنوری تک ملتوی کر دی گئی تھی۔

قاہرہ میں عدالت کے باہر اور کئی دوسرے جگہوں پر اس مقدمے کی سماعت کے دوران مظاہرے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ صدر مرسی کو اس سال جولائی میں فوج نے اقتدار سے علیحدہ کر دیا تھا۔

معزول صدر کے حامی کہتے ہیں کہ محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت ہوئی اور ان کا مقدمہ سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے۔ حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے بھی مصری سکیورٹی سروس پر بلا احتساب کارروائی کا الزام لگایا ہے۔

جولائی میں صدر مرسی کی معزولی کے بعد ملک بھر میں ان کے حق اور مخالفت میں پرتشدد مظاہروں کا آغاز ہو گیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور صورتحال تاحال کشیدہ ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ معزول صدر محمد مرسی خلاف مقدمہ چلانے سے لوگ پریشان ہیں کہ آنے والے دنوں میں کیا ہو گا اور توقع کر رہے ہیں کہ مصر میں کشیدہ صورتحال میں مزید اضافہ ہو گا۔

مرسی پر مقدمے کی سماعت سے ایک دن پہلے ہی اتوار کو مصر کے شہر اسماعلیہ کے قریب مسلح افراد کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جن سے تشدد کے مزید واقعات کے بارے میں پائے جانے والے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں