جنوبی سوڈان: امریکی ہوائی جہاز پر فائرنگ 3 زخمی

جنوبی سوڈان
Image caption جنوبی سوڈان میں حالات بے حد کشیدہ ہیں

جنوبی سوڈان میں اطلاعات کے مطابق ایک ہوائی جہاز پر فائرنگ کے نتیجے میں تین امریکی اہلکار زخمی ہوآئے ہیں۔

یوگانڈا کے حکام کا کہنا ہے کہ ہوائی جہاز پر جنوبی سوڈان کے علاقے بور میں زمین سے فائرنگ کی گئی۔ یہ علاقہ سابق سوڈانی نائب صدر ریک ماچار کے حامیوں کے قبضے میں ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے امریکی فوج کے ایک بیان کے حوالے سے بتایا کہ جہاز امریکی شہریوں کو نکالنے کے مشن پر گیا تھا۔ فوجی کا کہنا تھا ’جب جہاز اس جگہ پر پہنچا تو زمین سے اس پر فائرنگ کی گئی جس کے بعد جہاز کو ملک سے باہر اتار دیا گیا اور مشن کو ختم کر دیا گیا۔‘

یوگینڈا کے حکام کا کہنا ہے دو ہوائی جہاز یوگینڈا میں کمپالا کے قریب انٹیبے کے ہوائی اڈے پر واپس آئے، جہاں سے زخمیوں کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی لے جایا گیا۔

کئی ممالک جنوبی سوڈان سے اپنی شہریوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یوگینڈا نے جنوبی سوڈان سے غیر ملکی شہریوں کو نکالنے کے لیے فوج بھیجی ہے۔ اطلاعات کے مطابق چائنا نیشنل پیٹرولیم نے جو کہ علاقے میں ایک کام کرنے والی ایک بڑی کمپنی ہے کہا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو دارالحکومت جوبا واپس لا رہی ہے۔

ملک کے صدر کیر نے جن کا تعلق اکثریتی نسلی گروپ ڈینکا سے ہے نے نائب صدر ریک ماچار کو جن کا تعلق ایک دوسرے نسلی گروپ نیور سے ہے کو جولائی میں اپنے عہدے سے برطرف کیا تھا۔

جنوبی سوڈان کی فوج مشرقی ریاست جونگلائی کے دارالحکومت پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

فوج کے ترجمان فلپ اگیور نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ فوج گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے قصبے کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے۔

تیل سے مالا مال یونیٹی ریاست میں ایک فوجی جرنیل جیمز کوانگ بغاوت کرکے کے کریک ماچار کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔

یونیٹی سٹیٹ کے ایک رہائشی نے بی بی سی کے کو بتایا کہ جنرل جیمز کوانگ نے مقامی ریڈیو پر اعلان کے کیا کہ وہ ماچار کے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔

جمعہ کو افریقی مذاکرات کاروں نے ملک میں خانہ جنگی سے بچنے کے لیے صدر کیر سے بات چیت کی۔

مذاکرات جاری رہنے کا امکان ہے اور امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری نے کہا کہ وہ بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے خصوصی نمائندے ڈونلڈ بوتھ کو بھیجے گے۔

صدر کیر کے مطابق گذشتہ اتوار کو سکیورٹی فورسز کے یونیفارم میں ملبوس افراد نے ملک کی حکمران جماعت تحریکِ آذادی سوڈان کے ایک اجلاس پر فائرنگ کی تھی۔

اس واقعے کے بعد نیور اور ڈینکا نسلی گروپوں کے درمیان ملک بھر میں پرتشدد جھڑپیں شروع ہوئیں۔

تشدد سے بچنےکے لیے ہزاروں افراد اقوامِ متحدہ کی عمارتوں میں پناہ پر مجبورہوئے۔

اقوامِ متحدہ نے میں جمعے کو جونگلائی ریاست میں اکابو میں ان کے دفتر پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔ اس حملے میں دو بھارتی اہن اہلکار اور 11 عام شہری مارے گئے تھے۔

جنوبی سوڈان کی 2011 میں سوڈان سے آذادی کے بعد جونگلائی ریاست میں بڑے پمانے پر تشدد رہا جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔